بند کاغذ کتاب ہو جیسے -

نور وجدان — جون 30، 2017 10:35 صبح
برائے اصلاح چند اشعار ، محترم گرامی استاذ الف عین کے پیشِ خدمت
ساتھ ساتھ محترم محمد خلیل الرحمٰن کے پیشِ نظر ،
بند کاغذ کتاب ہو جیسے
تیری خوشبو گلاب ہو جیسے
جیل نےدی کبھی رہائی ہے
خواب لمحہ سراب ہو جیسے
کھول کھاتے شمار کرتے رہے
گزرا ماضی عذاب ہو جیسے
قتل کرکے شہیدوں میں لکھا
خون نکلا کہ آب ہو جیسے
موت بادل کے جیسے برسی ہے
غم کا دائم سحاب ہو جیسے
حشر میں درد سے گزر گئے ہیں
لمحہ لمحہ عذاب ہو جیسے
الف عین — جون 30، 2017 11:26 صبح
بند کاغذ کتاب ہو جیسے
تیری خوشبو گلاب ہو جیسے
÷÷دو الگ الگ خوبصورت مصرعے۔ یعنی شعر دو لخت!!
جیل نےدی کبھی رہائی ہے
خواب لمحہ سراب ہو جیسے
÷÷ یہ بھی سمجھ نہیں سکا۔ پہلے مصرع کا بیانیہ کیا استفہامیہ یا استمراری ہے۔
کھول کھاتے شمار کرتے رہے
گزرا ماضی عذاب ہو جیسے
÷÷کیا شمار کرتے رہے۔ اس کا تو کچھ ذکر نہیں۔
قتل کرکے شہیدوں میں لکھا
خون نکلا کہ آب ہو جیسے
÷÷یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ فاعل کون ہے، کس نے قتل کیا؟
موت بادل کے جیسے برسی ہے
غم کا دائم سحاب ہو جیسے
÷÷÷ٹھیک۔ الفاظ بدل دو
موت بادل کی طرح برسی ہے
حشر میں درد سے گزر گئے ہیں
لمحہ لمحہ عذاب ہو جیسے
÷÷÷یہ بھی بے ربط ہے۔ حشر میں درد کس طرح بڑھتا رہا ہے؟
نور وجدان — جون 30، 2017 12:18 شام
بند کاغذ کتاب ہو جیسے
تیری خوشبو گلاب ہو جیسے
÷÷دو الگ الگ خوبصورت مصرعے۔ یعنی شعر دو لخت!!
جیل نےدی کبھی رہائی ہے
خواب لمحہ سراب ہو جیسے
÷÷ یہ بھی سمجھ نہیں سکا۔ پہلے مصرع کا نیانیہ کیا استفہامیہ یا استمراری ہے۔
کھول کھاتے شمار کرتے رہے
گزرا ماضی عذاب ہو جیسے
÷÷کیا شمار کرتے رہے۔ اس کا تو کچھ ذکر نہیں۔
قتل کرکے شہیدوں میں لکھا
خون نکلا کہ آب ہو جیسے
÷÷یہ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ فاعل کون ہے، کس نے قتل کیا؟
موت بادل کے جیسے برسی ہے
غم کا دائم سحاب ہو جیسے
÷÷÷ٹھیک۔ الفاظ بدل دو
موت بادل کی طرح برسی ہے
حشر میں درد سے گزر گئے ہیں
لمحہ لمحہ عذاب ہو جیسے
÷÷÷یہ بھی بے ربط ہے۔ حشر میں درد کس طرح بڑھتا رہا ہے؟
توجہ کے لیے عنایت ، اسی پر غور کے بعد دوبارہ پوسٹ کروں گی ، ان شاء اللہ
نور وجدان — جون 30، 2017 12:46 شام

بند کاغذ کتاب کی مانند ہے اس میں تیرا ذکر گلاب کے جیسے خوشبو بکھیر رہا ہے، آپ ہی رہنمائی کیجیے مزید ،
بند کاغذ کتاب ہو جیسے
تیری خوشبو گلاب ہو جیسے​
یا
بند کاغذ کتاب ہو جیسے
پھیلی خوشبو گلاب ہو جیسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیل نے دی ہی کب رہائی ہے
خواب موج سراب ہو جیسے
---------------------
موت بارش کی طرح برسی ہے
رنج و غم بھی سُحاب ہو جیسے
-------------------
قتل ہو کے شہید کہلائی
خون نکلا کہ آب ہو جیسے
---------------------
غلطیوں کو شمار کرتے رہے
گزرا ماضی عذاب ہو جیسے
--------------------
ہجر دکھ درد بن کے گزرا نورؔ
لمحہ لمحہ عذاب ہو جیسے
الف عین — جون 30، 2017 5:58 شام
کاغذ میں کیا ہے ۔ محبوب کا ذکر کیوں کیا گیا ہے، یہ خط ہے، یا کوئی ناول وغیرہ لکھا گیا ہے؟ کچھ پتہ نہیں چلتا۔
جیل والا شعر بھی اب بھی سمجھ نہیں سکا۔
نور وجدان — جولائی 1، 2017 8:01 شام
بند کاغذ کتاب ہو جیسے
خود میں حکمت کا باب ہو جیسے ....
ایسے شعر درست رہے گا؟
جیل والا.شعر .....
دی قفس نے رہائی کب مجھ کو
خوابِ موج سراب ہو جیسے
نور وجدان — جولائی 3، 2017 2:13 شام
بند آنکھوں میں خواب ہو جیسے
خوب صورت گلاب ہو جیسے
----------------
دی قفس نے رہائی کب مجھ کو
خوابِ موج سراب ہو جیسے
-----------------​
موت بارش کی طرح برسی ہے
رنج و غم بھی سُحاب ہو جیسے
-------------------
قتل ہو کے شہید کہلائی
خون نکلا کہ آب ہو جیسے
---------------------
غلطیوں کو شمار کرتے رہے
گزرا ماضی عذاب ہو جیسے
--------------------
ہجر دکھ درد بن کے گزرا نورؔ
لمحہ لمحہ عذاب ہو جیسے


الف عین استاذ عین محترم
محمد خلیل الرحمٰن — جولائی 3، 2017 3:20 شام
ہماری صلاح
بند آنکھوں میں خواب ہو جیسے
خوبصورت گلاب ہو جیسے​

کردیجیے
نور وجدان — جولائی 3، 2017 3:23 شام
ہماری صلاح
بند آنکھوں میں خواب ہو جیسے
خوبصورت گلاب ہو جیسے​

کردیجیے
جی ، بہت ہی خوب کردیا ، اسکو تبدیل کیے دیتی ہوں ۔۔۔
الف عین — جولائی 4، 2017 5:49 شام
اب ٹھیک ہے، لیکن
غلطیوں کو شمار کرتے رہے
گزرا ماضی عذاب ہو جیسے
غَ لَ طی درست تلفظ ہے، لام متحرک، مفتوح ہے۔ ساکن نہیں۔ یہاں خامیوں کر دو۔ اگرچہ میں مکمل مطمئن تو نہیں ہوں۔
نور وجدان — جولائی 4، 2017 6:30 شام
اب ٹھیک ہے، لیکن
غلطیوں کو شمار کرتے رہے
گزرا ماضی عذاب ہو جیسے
غَ لَ طی درست تلفظ ہے، لام متحرک، مفتوح ہے۔ ساکن نہیں۔ یہاں خامیوں کر دو۔ اگرچہ میں مکمل مطمئن تو نہیں ہوں۔
نوازش استاذ محترم! متشکرم

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%D9%86%D8%AF-%DA%A9%D8%A7%D8%BA%D8%B0-%DA%A9%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%DB%81%D9%88-%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%92.97350/