نور وجدان — ستمبر 11، 2016 7:31 صبح
خبر نہیں تھی جانے کیسے لہروں میں گھرے
بھنور کی کیا مجال یہ ہمیں ڈبو چلے
کہاں کہاں تلک مجھے اڑان مل سکے
ترے یہ صید جال بچھنے چار سو لگے!
یہ کیسا دھوکہ زندگی ہے! کون جانے ہے !
دکھاوا یہ خوشی کا جانے کب تلک چلے !
کمان سے جو تیر نکلا ، سینے میں کھبا
تری نگہ سے کتنے دل فگار ہو چلے
قصور روشنی کا تو ہے، جو اندھیروں میں
اجالے کی تلاش میں ادھر ادھر پھرے
پہاڑوں پہ چڑھنے کی لگن نے مات دی
مگر لو عشق کی بھی دھیمی دھیمی ہے جلے
ہمارے حصے دشت کی لکھی سیاہی ہے
اسی لیے بھی تارکِ رہ ہونے ہیں لگے
سیاہ رات میں ہی آگہی کے چاند سے
بجھے چراغ ذات کے ستارے تھے بنے
La Alma — ستمبر 11، 2016 4:32 شام
عمدہ کاوش ہے . کہیں کہیں ابلاغ کی کمی ہے . جو آپ با آسانی دور کر سکتی ہیں .
ان کہی — ستمبر 11، 2016 4:58 شام
عمدہ بہت خوب...............!!
عباد اللہ — ستمبر 11، 2016 5:32 شام
عمدہ ہے استانی جی
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
نور وجدان — ستمبر 12، 2016 4:23 صبح
عمدہ کاوش ہے . کہیں کہیں ابلاغ کی کمی ہے . جو آپ با آسانی دور کر سکتی ہیں .
شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمی کی نشاندہی کریں
نور وجدان — ستمبر 12، 2016 4:24 صبح
عمدہ ہے استانی جی
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
استانی جی شاید بھول سے لکھا ہے
عباد اللہ — ستمبر 12، 2016 7:36 صبح
استانی جی شاید بھول سے لکھا ہے
اررے نہیں آپ نے ہمیں بلاگ بنانا سکھایا تھا اگر چہ ہمیں اس کے لئے وقت نہیں ملتا
