بہت چمکا اندھیرے کا میں‌ہونے سے پہلے تک

Imran Niazi — دسمبر 7، 2009 6:36 شام
اسلام و علیکم

بہت چمکا اندھیرے کا مکیں ہونے سے پہلے تک
وہ بہرِ مسکراہٹ تھا حزیں‌ہونے سے پہلے تک
دعائیں‌ ساتھ تھیں‌ میرے ، وفائیں ساتھ تھیں‌ میرے
مگر جاناں تمہاراہم نشیں ہونے سے پہلے تک
مناظر دل ربا لگتے تھے مجھکو ساری دنیا کے
حریمِ یار کا اِک پل مکیں‌ہونے سے پہلے تک
سماتا ہی گیا یارو نظر سے دل میں‌میرے وہ
کہیں‌پر بھی نہ تھا وہ ہر کہیں ہونے سے پہلے تک
مجھے وہ چھوڑ جائیگا رہِ تاریک میں تنہا
گماں تک بھی نہ تھا مجھ کو یقیں‌ہونے سے پہلے تک
میں‌اپنے آپ کو دھوکے میں‌رکھ کے پیار کرتا تھا
تمہاری چپ کو ہاں سمجھا نہیں‌ ہونے سے پہلے تک
ہَوا عمران آخر لگ گئی اُس کو بھی دنیا کی
وہ میرا صرف میرا تھا ذہیں‌ہونے سے پہلے تک

الف عین — دسمبر 8، 2009 4:51 شام
وزن کے حساب سے درست ہے اور فکر کے لحاظ سے بھی اچھی غزل ہے۔ لیکن کچھ پہلو پھر بھی ہیں، کچھ اغلاط اور کچھ تفہیم کا مسئلہ۔۔
وہ بہرِ مسکراہٹ تھا حزیں‌ہونے سے پہلے تک
مراد؟
اس سے قطع نظر یہاں بحر کے حساب سے اضافت ضروری ہے۔ اور اس حساب سے فاش غلطی بھی ہے۔ مسکراہٹ ہندی لفظ ہے، اس میں فارسی ترکیب سے اضافت نہیں لگائی جا سکتی۔ نہ بہرِ مسکراہٹ صحیح ہے اور نہ بحر مسکراہٹ۔۔
حریمِ یار کا اِک پل مکیں‌ہونے سے پہلے تک
مراد در اصل یہ ہے ’مکیں ہوعنے ایک پل پہلے تک‘ لیکن یہاں اک پل ’پہلے تک‘ سے بہت دور ہو گیا ہے۔ اس کو بھی غلطی مانا جانا چاہئے۔
وہ میرا صرف میرا تھا ذہیں‌ہونے سے پہلے تک
یہاں تفہیم کا مسئلہ ہے، ’ذہین‘ ہونا چاہئے ایک تو، ذہیں غلط ہے۔ دوسرے تفہیم بھی نہیں ہو رہی ہے کہ ذہین ہپونے سے کیا مطلب ہے۔
پہلی قراءت میں یہ مسائل سامنے آئے ہیں۔ بعد میں ممکن ہے لچھ اور بھی یاد آئے۔ لیکن ابھی اس کو کچھ حد تک نمٹا دیتا ہوں ورنہ بھول جاتا ہوں۔
Imran Niazi — دسمبر 9، 2009 5:41 شام
وزن کے حساب سے درست ہے اور فکر کے لحاظ سے بھی اچھی غزل ہے۔ لیکن کچھ پہلو پھر بھی ہیں، کچھ اغلاط اور کچھ تفہیم کا مسئلہ۔۔
وہ بہرِ مسکراہٹ تھا حزیں‌ہونے سے پہلے تک
مراد؟
اس سے قطع نظر یہاں بحر کے حساب سے اضافت ضروری ہے۔ اور اس حساب سے فاش غلطی بھی ہے۔ مسکراہٹ ہندی لفظ ہے، اس میں فارسی ترکیب سے اضافت نہیں لگائی جا سکتی۔ نہ بہرِ مسکراہٹ صحیح ہے اور نہ بحر مسکراہٹ۔۔
حریمِ یار کا اِک پل مکیں‌ہونے سے پہلے تک
مراد در اصل یہ ہے ’مکیں ہوعنے ایک پل پہلے تک‘ لیکن یہاں اک پل ’پہلے تک‘ سے بہت دور ہو گیا ہے۔ اس کو بھی غلطی مانا جانا چاہئے۔
وہ میرا صرف میرا تھا ذہیں‌ہونے سے پہلے تک
یہاں تفہیم کا مسئلہ ہے، ’ذہین‘ ہونا چاہئے ایک تو، ذہیں غلط ہے۔ دوسرے تفہیم بھی نہیں ہو رہی ہے کہ ذہین ہپونے سے کیا مطلب ہے۔
پہلی قراءت میں یہ مسائل سامنے آئے ہیں۔ بعد میں ممکن ہے لچھ اور بھی یاد آئے۔ لیکن ابھی اس کو کچھ حد تک نمٹا دیتا ہوں ورنہ بھول جاتا ہوں۔
بہت شکریہ استادِ محترم
وہ میرا صرف میرا تھا ذہیں‌ہونے سے پہلے تک
وہ بہرِ مسکراہٹ تھا حزیں‌ہونے سے پہلے تک

سر !
اِن دونوں فقروں پہ تو مجھے پہلے ہی شک تھا کہ غلط ہو سکتے ہیں
ہاں ہمیشہ کی طرح
حریمِ یار کا اِک پل مکیں‌ہونے سے پہلے تک
یہ شعر مجھے پسند آیا تھا تو اِس کا بھی پوسٹ مارٹم ہونا لازمی تھا
اِن سب کے بارے میں‌کچھ دماغ لڑا کے ریپلائی دیتا ہوں​
Imran Niazi — دسمبر 9، 2009 5:49 شام
نگاہِ ناز کا لیکن مکیں ہونے سے پہلے تک
سر اِس مصرع کے بارے کیا رائے ہے ؟
ثمرینہ جبین — دسمبر 10، 2009 8:40 شام
بہت اچھی ہے عمران صاھب، واھ واھ
Imran Niazi — دسمبر 11، 2009 2:05 شام
بہت اچھی ہے عمران صاھب، واھ واھ

بہت شکریہ جی
Imran Niazi — دسمبر 11، 2009 2:08 شام
نگاہِ ناز کا لیکن مکیں ہونے سے پہلے تک
سر اِس مصرع کے بارے کیا رائے ہے ؟

اعجاز صاحب اِس فقرے کے بارے میں‌کیا رائے ہے ؟
الف عین — دسمبر 11، 2009 5:09 شام
تو گویا اب اس شعر پر غور کیا جائے
مناظر دل ربا لگتے تھے مجھکو ساری دنیا کے
نگاہِ ناز کا لیکن مکیں ہونے سے پہلے تک
تفہیم میں پھر بھی کچھ اشکال ہے۔ شعر برا نہیں ویسے۔
Imran Niazi — دسمبر 12، 2009 10:22 صبح
تو گویا اب اس شعر پر غور کیا جائے
مناظر دل ربا لگتے تھے مجھکو ساری دنیا کے
نگاہِ ناز کا لیکن مکیں ہونے سے پہلے تک
تفہیم میں پھر بھی کچھ اشکال ہے۔ شعر برا نہیں ویسے۔

جی بلکل سر مجھے بھی لگتا ہے کہ اِس میں‌تھوڑی بہت وضاحت کی ابھی ضرورت ہے لیکن کیا کام چل سکتا ہے اس سے ؟
الف عین — دسمبر 12، 2009 10:32 صبح
مکیں‌کا قافیہ ہی اشکال پیدا کر رہا ہے۔ چلنے کو تو بے معنی شعر بھی چل سکتا ہے۔
محمود احمد غزنوی — دسمبر 12، 2009 11:34 صبح
ایسا کردیا جائے تو کیسا ہے۔ ۔ ۔
بہت چمکا اندھیرے کا مکیں ہونے سے پہلے تک
سراپا مسکراہٹ تھا حزیں ہونے سے پہلے تک​
دوسرے یہ کہ نگاہِ ناز سے گھائل تو ہوا جاسکتا ہے، اسیر بھی ہوا جاسکتا ہے لیکن مکیں؟؟؟؟؟؟
ایسا کردیں تو کیسا ہو۔ ۔ ۔ ۔
مناظر دل ربا لگتے تھے مجھکو ساری دنیا کے
حریمِ یار میں خلوت نشیں ہونے سے پہلے تک​
Imran Niazi — دسمبر 12، 2009 1:29 شام
ایسا کردیا جائے تو کیسا ہے۔ ۔ ۔
بہت چمکا اندھیرے کا مکیں ہونے سے پہلے تک
سراپا مسکراہٹ تھا حزیں ہونے سے پہلے تک​
دوسرے یہ کہ نگاہِ ناز سے گھائل تو ہوا جاسکتا ہے، اسیر بھی ہوا جاسکتا ہے لیکن مکیں؟؟؟؟؟؟
ایسا کردیں تو کیسا ہو۔ ۔ ۔ ۔
مناظر دل ربا لگتے تھے مجھکو ساری دنیا کے
حریمِ یار میں خلوت نشیں ہونے سے پہلے تک​

واہ واہ کمال کی اصلاح کی ہے آپ نے
بہت پسند آیا شعر
بہت شکریہ محمود بھائی​
الف عین — دسمبر 12، 2009 4:48 شام
محمودکے مشورے مجھے بھی دل سے پسند آئے۔ شکریہ محمود!
Imran Niazi — دسمبر 13، 2009 8:22 صبح
محمودکے مشورے مجھے بھی دل سے پسند آئے۔ شکریہ محمود!

بلکل سر محمود بھائی نے بہت اچھے مشورے دیئے ہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DB%81%D8%AA-%DA%86%D9%85%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%86%D8%AF%DA%BE%DB%8C%D8%B1%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA%E2%80%8C%DB%81%D9%88%D9%86%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92-%D8%AA%DA%A9.27045/