نوید اکرم — نومبر 5، 2014 12:15 شام
بیٹی تو تھی خدا کی رحمت
ہو گئی پھر کیوں یہ زحمت
بن گئے ہیں طوق گلوں کا
رسم و رواج ، جہیز کی لعنت
خالد محمود چوہدری — نومبر 5، 2014 1:02 شام
بیٹی توہمیشہ سے ہے خدا کی رحمت
ہے نہ ہو گی یہ پھر کبھی زحمت
اپنے ربّ سے سب امیدیں رکھو
ختم کر دو رسم و رواج وجہیز کی لعنت
خالد محمود چوہدری — نومبر 5، 2014 2:21 شام
تعارف تو کروائیں
نوید اکرم — نومبر 8، 2014 1:26 شام
جناب میرا نام ہی میرا تعارف ہے

نوید اکرم — نومبر 8، 2014 1:29 شام
ترمیم شدہ (اساتذہ کرام سے تنقید و اصلاح کی درخواست ہے)
ہوتی ہے بیٹی خدا کی رحمت
آج ہوئی ہے کیوں یہ زحمت
بن گئے ہیں طوق گلوں کا
رسم و رواج ، جہیز کی لعنت
نوید اکرم — نومبر 15، 2014 3:43 شام
محترم جناب
الف عین صاحب! آپ سے توجہ کی درخواست ہے
الف عین — نومبر 15، 2014 4:52 شام
خیالات تو درست ہیں، بس بحر میں کمکل درست نہیں۔
ہوتی ہے بیٹی خدا کی رحمت
بحر میں آ سکتا ہے، لیکن ہوتی کی ’ی‘ کو گرا دینے سے۔
بیٹی تو ہے خدا کی رحمت
سے بات صاف ہو جاتی ہے، اور بیانیہ بھی۔
آج ہوئی ہے کیوں یہ زحمت
یہ درست ہے، اسی بحر میں فعلن فعلن فعلن فعلن یا فعل فعولن فعل فعولن
بن گئے ہیں طوق گلوں کا
یہ مکمل خارج ہے۔
طوق گلوں کا بننے لگے ہیں
سے بات توصساف نہیں ہوتی، لیکن وزن مکمل ہو جاتا ہے۔
رسم و رواج ، جہیز کی لعنت
وزن درست ہے، لیکن رواج کا آخری ج اور جہیز کا پہلا ج۔ یہ تکرار اچھی نہیں۔
نوید اکرم — نومبر 18، 2014 3:45 شام
بہت بہت شکریہ!
نوید اکرم — دسمبر 31، 2014 3:43 شام
بن گئے ہیں طوق گلوں کا
یہ مکمل خارج ہے۔
طوق گلوں کا بننے لگے ہیں
سے بات توصساف نہیں ہوتی، لیکن وزن مکمل ہو جاتا ہے۔
۔
اگر تیسرے مصرعے کو یوں کر لیا جائے تو کیسا رہے گا؟
"بن گئے ہیں گلوں کا پھندا"