بے حیثیتی کا دکھ۔۔

سید لبید غزنوی — مارچ 9، 2016 8:03 صبح
بے حیثیتی کا دکھ
اے ستمگرتمہیں کیا معلوم کیا ہوتا ہے
آگ برساتے الفاظ سماعت سے ٹکراتے ہیں
جب چہرے اجنبی نظر آتے ہیں لفظ پرائے لگتے ہیں
پھر سماعتیں ،بصارتیں،گویائیاں سب سلب ہو جاتی ہیں
پھر خوش گپیاں اور ہنسیاں ،موجیں اور مستیاں کھو جاتی ہیں
ا حساس ختم ،ارمان قتل ،جذبات دفن امیدیں ختم ہو جاتی ہیں
پھر رگ رگ میں زہر پھیلتا ہے ،اور لمحہ لمحہ تڑپاتا ہے ،سسکاتا ہے
پھر دل گریہ زاری کرتا ہے دھڑکنیں شور مچاتی ہیں نوحہ کناں ہوتی ہیں
کبھی اس کیفیت سے گزرو تو ،تو تمہیں معلوم ہو ،اے ستمگر اے دشمن جاں
پھر تم جان لو ،پہچان لو، اور مان لو یہ بے حیثیتی کا دکھ کیا ہوتا ہے ؟کیسا ہوتا ہے؟
اک آزاد نثری نظم از:سید لبیدغزنوی
آپ سب احباب کی حوصلہ افزائی سے قلم کو حرکت دی تو یہ چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ نوک قلم سے صفحہ ڈائری پر نقش ہوئے ، اور پھر کی بورڈپر کچھ دیری کی محنت شاقہ سے آپ احباب کی نظروں میں پہنچےآپ کے رائے کا شدت سے منتظر رہے گا بندہ حقیر،پر تقصیر سید لبید غزنوی​
رومانہ چوہدری — نومبر 12، 2016 11:52 صبح
بے حیثیتی کا دکھ
اے ستمگرتمہیں کیا معلوم کیا ہوتا ہے
آگ برساتے الفاظ سماعت سے ٹکراتے ہیں
جب چہرے اجنبی نظر آتے ہیں لفظ پرائے لگتے ہیں
پھر سماعتیں ،بصارتیں،گویائیاں سب سلب ہو جاتی ہیں
پھر خوش گپیاں اور ہنسیاں ،موجیں اور مستیاں کھو جاتی ہیں
ا حساس ختم ،ارمان قتل ،جذبات دفن امیدیں ختم ہو جاتی ہیں
پھر رگ رگ میں زہر پھیلتا ہے ،اور لمحہ لمحہ تڑپاتا ہے ،سسکاتا ہے
پھر دل گریہ زاری کرتا ہے دھڑکنیں شور مچاتی ہیں نوحہ کناں ہوتی ہیں
کبھی اس کیفیت سے گزرو تو ،تو تمہیں معلوم ہو ،اے ستمگر اے دشمن جاں
پھر تم جان لو ،پہچان لو، اور مان لو یہ بے حیثیتی کا دکھ کیا ہوتا ہے ؟کیسا ہوتا ہے؟
خوب
غزل، گیت، نظم، نثری نظم وغیرہ کے بعد یہ آزاد شاعری کی اہرامی صنف ہے شاید:)
سید لبید غزنوی — نومبر 12، 2016 12:03 شام
خوب
غزل، گیت، نظم، نثری نظم وغیرہ کے بعد یہ آزاد شاعری کی اہرامی صنف ہے شاید:)
یہ چربہ ہے ۔۔۔لیکن چرغہ نہیں ہے ۔۔۔کھایا ہے ۔۔؟؟؟ ذائقہ ۔۔۔اہرامی ۔۔۔یہ کوئی نئی چیز۔۔؟؟
سلامت رہیں۔۔۔
رومانہ چوہدری — نومبر 12، 2016 12:22 شام
اہرامی ۔۔۔یہ کوئی نئی چیز۔۔؟؟
اہرامی:)
article-0-0F292F0900000578-532_634x475.jpg
شاہد شاہنواز — نومبر 14، 2016 9:33 صبح
خوب
غزل، گیت، نظم، نثری نظم وغیرہ کے بعد یہ آزاد شاعری کی اہرامی صنف ہے شاید:)
اے ستمگرتمہیں کیا معلوم کیا ہوتا ہے
آگ برساتے الفاظ سماعت سے ٹکراتے ہیں
جب چہرے اجنبی نظر آتے ہیں لفظ پرائے لگتے ہیں
پھر سماعتیں ،بصارتیں،گویائیاں سب سلب ہو جاتی ہیں
پھر خوش گپیاں اور ہنسیاں ،موجیں اور مستیاں کھو جاتی ہیں
ا حساس ختم ،ارمان قتل ،جذبات دفن امیدیں ختم ہو جاتی ہیں
پھر رگ رگ میں زہر پھیلتا ہے ،اور لمحہ لمحہ تڑپاتا ہے ،سسکاتا ہے
پھر دل گریہ زاری کرتا ہے دھڑکنیں شور مچاتی ہیں نوحہ کناں ہوتی ہیں
کبھی اس کیفیت سے گزرو تو ،تو تمہیں معلوم ہو ،اے ستمگر اے دشمن جاں
پھر تم جان لو ،پہچان لو، اور مان لو یہ بے حیثیتی کا دکھ کیا ہوتا ہے ؟کیسا ہوتا ہے؟
۔۔۔۔ نثری نظم ہی معلوم ہوتی ہے۔۔۔
بس، آپ نے چھوٹی سطر سے شروع کرکے طویل پر اختتام کیا، یہ اہرامی کیفیت تو نہیں، Pyramid کی سی حالت ہے جو ایک مثلث کو ترتیب دیتی ہے لیکن الفاظ کی یہ ظاہری حالت کوئی اہم وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ اسے ایسا کوئی مضحکہ خیز نام دیا جائے۔
سید لبید غزنوی — نومبر 14، 2016 2:06 شام
بہت خوب ۔۔۔۔۔سمجھ گیا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DB%92-%D8%AD%DB%8C%D8%AB%DB%8C%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%DA%A9%DA%BE%DB%94%DB%94.88533/