بے خود نہیں رہا ہے یہ پاگل نہیں رہا-ملک عدنان احمد

ملک عدنان احمد — جون 14، 2014 11:32 صبح
بے خود نہیں رہا ہے یہ پاگل نہیں رہا
دل جب تمہاری یاد سے بوجھل نہیں رہا
رس گھولتا رہا ہے جو کانوں میں کل تلک
اب کے برس وہ لہجہ بھی صندل نہیں رہا
روئی ہو رات بھر، نہیں سوئی ہو رات بھر
کل شام تھا جو آنکھ میں کاجل، نہیں رہا
سوکھا پڑا ہوا ہے مرا دشتِ تشنگی
اب مجھ پہ مہربان وہ بادل نہیں رہا
قاصد! انا پرست کو اتنا بتا دیو
احمد تمہارے واسطے بے کل نہیں رہا
(ملک عدنان احمد)
الف عین — جون 14، 2014 3:04 شام
بہت اچھے عدنان، ماشاء اللہ تکنیکی خامیاں کچھ نہیں ہیں۔
بے خود نہیں رہا ہے یہ پاگل نہیں رہا
دل جب تمہاری یاد سے بوجھل نہیں رہا
۔÷÷دل جب سے بوجھل۔۔۔ محاورہ ہونا چاہئے۔ مرے خیال میں
جب سے تمہاری یاد سے بوجھل÷÷÷ کر کے پہلے مصرع میں ’دل‘ لا کر دیکھو
رس گھولتا رہا ہے جو کانوں میں کل تلک
اب کے برس وہ لہجہ بھی صندل نہیں رہا
÷÷صندل میں رس ہوتا ہے؟؟نہیں میاں، محض خوشبو ہوتی ہے۔ پہلا مصرع بدلو۔
روئی ہو رات بھر، نہیں سوئی ہو رات بھر
کل شام تھا جو آنکھ میں کاجل، نہیں رہا
÷÷خوب
سوکھا پڑا ہوا ہے مرا دشتِ تشنگی
اب مجھ پہ مہربان وہ بادل نہیں رہا
÷÷درست
قاصد! انا پرست کو اتنا بتا دیو
احمد تمہارے واسطے بے کل نہیں رہ
÷÷بتا دیو؟؟ اور اگر ’اُس انا پرست‘ لا سکو تو اور بھی بہتر ہے۔
ملک عدنان احمد — جون 15، 2014 6:57 صبح
بہت اچھے عدنان، ماشاء اللہ تکنیکی خامیاں کچھ نہیں ہیں۔
بے خود نہیں رہا ہے یہ پاگل نہیں رہا
دل جب تمہاری یاد سے بوجھل نہیں رہا
۔÷÷دل جب سے بوجھل۔۔۔ محاورہ ہونا چاہئے۔ مرے خیال میں
جب سے تمہاری یاد سے بوجھل÷÷÷ کر کے پہلے مصرع میں ’دل‘ لا کر دیکھو
رس گھولتا رہا ہے جو کانوں میں کل تلک
اب کے برس وہ لہجہ بھی صندل نہیں رہا
÷÷صندل میں رس ہوتا ہے؟؟نہیں میاں، محض خوشبو ہوتی ہے۔ پہلا مصرع بدلو۔
روئی ہو رات بھر، نہیں سوئی ہو رات بھر
کل شام تھا جو آنکھ میں کاجل، نہیں رہا
÷÷خوب
سوکھا پڑا ہوا ہے مرا دشتِ تشنگی
اب مجھ پہ مہربان وہ بادل نہیں رہا
÷÷درست
قاصد! انا پرست کو اتنا بتا دیو
احمد تمہارے واسطے بے کل نہیں رہ
÷÷بتا دیو؟؟ اور اگر ’اُس انا پرست‘ لا سکو تو اور بھی بہتر ہے۔
بہت بہت شکریہ چچا جان، میری ہر کاوش پر آپ کی توجہ،اور اصلاح کا حاصل ہونا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
میں اس پر کام کر کے دوبارہ پیش کرتا ہوں :rolleyes:
ملک عدنان احمد — جون 17، 2014 10:06 صبح
رس گھولتا رہا ہے جو کانوں میں کل تلک
اب کے برس وہ لہجہ بھی صندل نہیں رہا
اس کو اگر یوں کر لوں:
جس کی مہک سے کل تھیں معطر سماعتیں
اب کے برس وہ۔۔۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DB%92-%D8%AE%D9%88%D8%AF-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DB%8C%DB%81-%D9%BE%D8%A7%DA%AF%D9%84-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%D9%85%D9%84%DA%A9-%D8%B9%D8%AF%D9%86%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF.75230/