بے پروں کی اڑانے والے لوگ
ہیں بھروسہ اٹھانے والے لوگ
زخم اپنے چھپائے پهرتے ہیں
یہ سدا مسکرانے والے لوگ
ﺻﺮﻑ ﺻﺤﺮﺍﺅﮞ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
تیری محفل سے جانے والے لوگ
سچ کہوں تو بهلے نہیں لگتے
اپنا احساں جتانے والے لوگ
جانے کب آسماں سے اترے ہیں
تم پہ انگلی اٹھانے والے لوگ
کس قدر خوش نصیب ہوتے ہیں
شبِ فرقت نہ پانے والے لوگ
اپنے گهر کے ہی آدمی نکلے
میرے گهر کو جلانے والے لوگ
ارشد خان خٹک ؔ
ہیں بھروسہ اٹھانے والے لوگ
زخم اپنے چھپائے پهرتے ہیں
یہ سدا مسکرانے والے لوگ
ﺻﺮﻑ ﺻﺤﺮﺍﺅﮞ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
تیری محفل سے جانے والے لوگ
سچ کہوں تو بهلے نہیں لگتے
اپنا احساں جتانے والے لوگ
جانے کب آسماں سے اترے ہیں
تم پہ انگلی اٹھانے والے لوگ
کس قدر خوش نصیب ہوتے ہیں
شبِ فرقت نہ پانے والے لوگ
اپنے گهر کے ہی آدمی نکلے
میرے گهر کو جلانے والے لوگ
ارشد خان خٹک ؔ