بے کار پھر رہا ہے جو شیطان آج کل۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم

راقم — جنوری 29، 2010 2:04 شام
السّلام علیکم، اسا تیذِ کرام!
خود غزل کا حلیہ کافی حد تک تبدیل کر دیا ہے ۔ اب ذرا اس پر تیز دھار اوزاروں سے جراحی کا عمل کیجیے۔ اور رپورٹ پیش کیجیے تاکہ مجرم کو بے نقاب کیا جا سکے۔محترم وارث صاحب آپ بھی تو آئیے ۔ کافی دن سے آپ کا انتظار ہے۔
ذرا ملاحظہ فرمائیے:
بے کار پھر رہا ہے جو شیطان آج کل
کرتے ہیں اس کا کام تو انسان آج کل
لگتا ہے آج کل کہ وہ بھی اداس ہیں
اور ہم بھی ہیں ذرا سے پریشان آج کل
جانے سےپہلے یوں تو کبھی روکتا نہ تھا
کچھ تلخ ہو گیا ہے یہ دربان آج کل
کس بات پر خفا ہیں وہ ہم کو خبر نہیں
غیروں پہ ہو رہے ہیں جو احسان آج کل
دینے لگے ہیں ہم کو مساوات کا سبق
رکھنے لگے ہیں ہاتھ میں میزان آج کل
راقم چلو کہ تھوڑا سا ہم بھی خرید لیں
بکنے لگا ہے شہر میں،ایمان آج کل
الف عین — جنوری 29، 2010 3:28 شام
ور ہم بھی ہیں ذرا سے پریشان آج کل
ہونے لگے ہیں مَے کدے ویران آج کل
اور
راقم چلو کہ شہر سے ہم بھی خرید لیں
یہ تین مصرع ہی مروجہ بحر میں ہیں، اس کی تقطیع ہوگی
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات۔فاعلن
اور ہم بھی ہیں ذرا سے پریشان آج کل
اُر ہم
مفعول
بِ ہیں ذراسِ
فاعلات
پریشان
آج کل
فاعلات/فاعلن
باقی مصارع میں شاید یہ بحر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلات/فاعلن
ایم اے راجا — جنوری 29، 2010 5:46 شام
بہت خوب راقم صاحب، تھوڑی سی توجہ اور جان فشانی کی ضرورت ہے آپکا خیال تو ماشاء اللہ بہت خوب ہے۔
الف عین — فروری 3، 2010 5:52 شام
اس کو وارث کے لئے چھوڑ دوں؟
محمد وارث — فروری 4، 2010 5:45 صبح
یہ کام تو آپ کو ہی زیبا ہے اعجاز صاحب :)
راقم — فروری 4، 2010 2:08 شام
دال میں کچھ کالا تو نہیں؟ استاذِ محترم!
اس کو وارث کے لئے چھوڑ دوں؟

السلام علیکم، استاذِ محترم!
وارث صاحب نے کیس واپس آپ کے پاس ہی بھیج دیا ہے۔ خدا نخواستہ "دال میں کچھ کالا تو نہیں؟
والسلام
الف عین — فروری 4، 2010 5:08 شام
جو وارث اور تمہاری گزارش۔
بے کار پھر رہا ہے جو شیطان آج کل
کرتے ہیں اس کا کام تو انسان آج کل
درست ہے
لگتا ہے آج کل کہ وہ بھی اداس ہیں
اور ہم بھی ہیں ذرا سے پریشان آج کل
پہلا مصرع اب بھی بحر سے خارج ہے، نہ جانے اس طرح گنگنانے میں کیونکر آ گیا؟
یوں کیا جا سکتا ہے
محسوس ہو رہا ہےکہ وہ بھی اداس ہیں
جانے سےپہلے یوں تو کبھی روکتا نہ تھا
کچھ تلخ ہو گیا ہے یہ دربان آج کل
درست
کس بات پر خفا ہیں وہ ہم کو خبر نہیں
غیروں پہ ہو رہے ہیں جو احسان آج کل
درست
دینے لگے ہیں ہم کو مساوات کا سبق
رکھنے لگے ہیں ہاتھ میں میزان آج کل
کچھ سوال اٹھاتا ہے، کون دے رہے ہیں سبق اور کون میزان اٹھا رہے ہیں؟
یوں کہا جا سکتا ہے
دینے لگے جو ہم کو مساوات کا سبق
راقم چلو کہ تھوڑا سا ہم بھی خرید لیں
بکنے لگا ہے شہر میں،ایمان آج کل
درست
راقم — فروری 4، 2010 6:25 شام
آپ کی ہدایات کی روشنی میں غزل درست کر کے ارسال ہے
جو وارث اور تمہاری گزارش۔
بے کار پھر رہا ہے جو شیطان آج کل
کرتے ہیں اس کا کام تو انسان آج کل
درست ہے
لگتا ہے آج کل کہ وہ بھی اداس ہیں
اور ہم بھی ہیں ذرا سے پریشان آج کل
پہلا مصرع اب بھی بحر سے خارج ہے، نہ جانے اس طرح گنگنانے میں کیونکر آ گیا؟
یوں کیا جا سکتا ہے
محسوس ہو رہا ہےکہ وہ بھی اداس ہیں
جانے سےپہلے یوں تو کبھی روکتا نہ تھا
کچھ تلخ ہو گیا ہے یہ دربان آج کل
درست
کس بات پر خفا ہیں وہ ہم کو خبر نہیں
غیروں پہ ہو رہے ہیں جو احسان آج کل
درست
دینے لگے ہیں ہم کو مساوات کا سبق
رکھنے لگے ہیں ہاتھ میں میزان آج کل
کچھ سوال اٹھاتا ہے، کون دے رہے ہیں سبق اور کون میزان اٹھا رہے ہیں؟
یوں کہا جا سکتا ہے
دینے لگے جو ہم کو مساوات کا سبق
راقم چلو کہ تھوڑا سا ہم بھی خرید لیں
بکنے لگا ہے شہر میں،ایمان آج کل
درست

السلام علیکم، استاذِ محترم!
رات کے بعد تو مجھے آپ کو کچھ کہتے ہوئے ڈر بھی لگنے لگا ہے اور شرم بھی آ رہی ہے۔
آپ اپنی صحت کا بہت خیال رکھیے۔
آپ کی مصروفیات دیکھ کر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ میری وجہ سے آپ کو اور زحمت نہ ہو۔ آپ جیسے لوگ پوری ملت کا سرمایہ ہوتے ہیں۔
بس آپ تھوڑی بہت رہنمائی فرما دیا کیجیے۔ زیادہ تفصیلات کی ضرورت نہیں۔
البتہ وارث صاحب سےسفارش کر دیجیے کہ وہ مجھے تھوڑا زیادہ وقت دے دیا کریں۔ (مذاق(
اللہ آپ کو دائمی صحت و تندرستی سے نوازے اور عمرِ دراز عطا فرمائے تاکہ آپ اپنے نیک مقاصد کو احسن طریقے سے پایۂِ تکمیل تک پہنچا سکیں۔اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
والسلام
غزل آپ کی ہدایات کی روشنی میں درست کر رہا ہوں۔
" کاپی پیسٹ کا آپشن نہ ہوتا تو یہ کام بھی کافی مشکل تھا"
بے کار پھر رہا ہے جو شیطان آج کل
کرتے ہیں اس کا کام تو انسان آج کل
محسوس ہو رہا ہےکہ وہ بھی اداس ہیں
اور ہم بھی ہیں ذرا سے پریشان آج کل
جانے سےپہلے یوں تو کبھی روکتا نہ تھا
کچھ تلخ ہو گیا ہے یہ دربان آج کل
کس بات پر خفا ہیں وہ ہم کو خبر نہیں
غیروں پہ ہو رہے ہیں جو احسان آج کل
دینے لگے جو ہم کو مساوات کا سبق
رکھنے لگے ہیں ہاتھ میں میزان آج کل
راقم چلو کہ تھوڑا سا ہم بھی خرید لیں
بکنے لگا ہے شہر میں،ایمان آج کل
الف عین — فروری 5، 2010 5:39 صبح
مبارک ہو یہ غزل اپنے انجام تک بخیر پہنچی۔ (مطلب برا انجام نہیں لیا جائے(
راقم — فروری 5، 2010 9:27 صبح
السلام علیکم، استاذِ محترم!
بہت شکریہ۔
آپ کی حوصلہ افزائی میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔
دعاؤں کا طالب
خرم شہزاد خرم — فروری 5، 2010 6:36 شام
مبارک ہو راقم صاحب آپ کامیاب جا رہے ہیں ہم سے آگے نکلنے کی کوشش نا کیجئے گا ہمیں بھی ساتھ لے کر چلنا ہے آپ کو
راقم — فروری 6، 2010 7:06 شام
بھیا خرم! ہم کون ہوتے ہیں آپ سے آگے نکلنے والے۔
مبارک ہو راقم صاحب آپ کامیاب جا رہے ہیں ہم سے آگے نکلنے کی کوشش نا کیجئے گا ہمیں بھی ساتھ لے کر چلنا ہے آپ کو

السلام علیکم، خرم بھائی!
یہ "صاحب" پھر کہاں سے آ گیا؟
حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ۔
آپ تو منزل کے قریب پہنچ چکے ہیں جب کہ میں نے ابھی سفر کا آغاز کیا ہے۔ میں کیسے آگے نکل سکتا ہوں؟
اللہ آپ کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
والسلام
مغزل — فروری 7، 2010 7:54 صبح
ماشا اللہ راقم صاحب، عملِ جراحی کے بعد تو غزل و غزال ہو گئے ہم ۔ اللہ تبارک تعالیٰ برکتیں نصیب فرمائے ، آمین
جیہ — فروری 7، 2010 9:49 صبح
جانے سےپہلے یوں تو کبھی روکتا نہ تھا
کچھ تلخ ہو گیا ہے یہ دربان آج کل
کس بات پر خفا ہیں وہ ہم کو خبر نہیں
غیروں پہ ہو رہے ہیں جو احسان آج کل
ماشاء اللہ راقم صاحب۔ یہ دو شعر آپ نے خوب کہے ہیں۔
دوسرے شعر پر نہ جانے کیوں غالب یاد آگئے
تم جانو،تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو؟
مغزل — فروری 7، 2010 11:16 صبح
لیکن جوجو۔
اسد ؔ کو بُت پرستی سے غرَ ض دردآشنائی ہے
نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ ’’ یارب ہا ‘‘
راقم — فروری 7، 2010 11:16 صبح
بقول کسے" من آنم کہ من دانم"
ماشا اللہ راقم صاحب، عملِ جراحی کے بعد تو غزل و غزال ہو گئے ہم ۔ اللہ تبارک تعالیٰ برکتیں نصیب فرمائے ، آمین

السلام علیکم، محترم م۔م۔مغل صاحب!
ذرہ نوازی ہے آپ کی، ورنہ "من آنم کہ من دانم" ۔
آپ کافی دنوں سے تشریف نہیں لا رہے تھے شاید وقت نہیں ملا۔ آتے رہا کیجیے۔ مجھے آپ اساتیذو احباب کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔
دعاؤں میں یاد رکھیے۔ اللہ آپ کو دائمی خوشیوں سے نوازے۔
والسلام
مغزل — فروری 7، 2010 11:19 صبح
ضرور جناب حاضر ہوں ۔ بس کچھ طبیعت گراں بار رہی ۔ خیر اب متسکن ہے
راقم — فروری 7، 2010 11:23 صبح
جیہ بیٹی! آپ کا بہت شکریہ
ماشاء اللہ راقم صاحب۔ یہ دو شعر آپ نے خوب کہے ہیں۔
دوسرے شعر پر نہ جانے کیوں غالب یاد آگئے
تم جانو،تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو؟

السلام علیکم، جیہ بیٹی!
اشعار کو پسند کرنے کے لیے بہت شکریہ۔
کہاں شاعری اور کہاں ہم؟ بس الفاظ کی ترتیب بدل کر شعر بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔
والسلام

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A8%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%AC%D9%88-%D8%B4%DB%8C%D8%B7%D8%A7%D9%86-%D8%A2%D8%AC-%DA%A9%D9%84%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%B2%DB%8C%D8%B2-%D8%B1%D8%A7%D9%82%D9%85.28144/