شہنواز نور — جون 2، 2017 4:20 صبح
آداب محفلین ۔۔۔۔۔۔ ایک غزل حاضر ہے اساتذہ سے اصلاح کی گزارش کرتا ہوں ۔۔۔۔ سپاس گزار رہوں گا
غزل
سخنور کاروباری ہو گئے ہیں
غزل کے پائوں بھاری ہو گئے ہیں
تمہارے فن کی یہ عظمت نہیں ہے
کہ اب جاہل بھی قاری ہو گئے ہیں
چڑھی ہے بھوت بن کے سر پہ شہرت
کئی شاعر مداری ہو گئے ہیں
جو کرتے ہیں حکومت کی غلامی
وظیفے ان کے جاری ہو گئے ہیں
کرایہ تک نہیں تھا پاس جن کے
وہ اب چھپّن ہزاری ہو گئے ہیں
بھلا اردو کو ان سے کیا ملے گا
یہ پہلے ہی بھیکاری ہو گئے ہیں
ٹھہر جا نور اب خاموش ہو جا
ترے الفاظ آری ہو گئے ہیں
شہنواز نور — جون 3، 2017 12:21 شام
@ الف عین سر
شہنواز نور — جون 7، 2017 10:30 صبح
حضرت الف عین سر آپ کی آمد کا منتظر ہوں
فیضان قیصر — جون 7، 2017 12:49 شام
الف عین — جون 8، 2017 6:30 شام
مجھے پچھلا ٹیگ نہیں ملا!!!
سخنور کاروباری ہو گئے ہیں
غزل کے پائوں بھاری ہو گئے ہیں
÷÷غزل حاملہ ہو گئی؟؟؟؟ بات سمجھ میں نہیں آ سکی۔
تمہارے فن کی یہ عظمت نہیں ہے
کہ اب جاہل بھی قاری ہو گئے ہیں
۔۔درست
چڑھی ہے بھوت بن کے سر پہ شہرت
کئی شاعر مداری ہو گئے ہیں
یہ بھی درست
جو کرتے ہیں حکومت کی غلامی
وظیفے ان کے جاری ہو گئے ہیں
ایضاً
کرایہ تک نہیں تھا پاس جن کے
وہ اب چھپّن ہزاری ہو گئے ہیں
÷÷چھپن ہزاری کیا محاورہ ہے، میں واقف نہیں اس سے۔
بھلا اردو کو ان سے کیا ملے گا
یہ پہلے ہی بھیکاری ہو گئے ہیں
۔۔واضح نہیں کہ کس کی بات کی جا رہی ہے۔ اگرچہ مسلسل غزل لگتی ہے تو شک تو یہی ہے کہ مشاعروں کے شعراء کا ذکر ہے؟
ٹھہر جا نور اب خاموش ہو جا
ترے الفاظ آری ہو گئے ہیں
۔۔ٹھہر جانا اور خاموش ہو جانا دو الگ الگ عمل ہیں۔ یہاں نور کو محض خاموش ہونے کا کہو۔ ویسے دلچسپ بات یہ ہے کہ میں نے یہاں ’جانور‘ پڑھا!!!
شہنواز نور — جون 8، 2017 6:50 شام
شکریہ سر ۔۔۔۔۔۔ مصرع طرح دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ غزل کے پائوں بھاری ہو گئے ہیں ۔۔۔۔ اسی سلسلے میں یہ کلام کہا گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور غزل مسلسل ہی کہی گئی ہے ۔۔۔۔۔ آپ کی رہنمائ کیلئے ممنون ہوں ۔۔ سر ۔۔۔۔ آپ نے جس کمی کی جانب اشارہ کیا ہے اسے دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ سلامت رہیں
امجد علی راجا — جون 12، 2017 9:03 صبح
بہت خوب شہنواز نور، اچھا کلام ہے۔ داد قبول فرمائیں۔
ازرائے مزاح
"سخنور کاروباری ہو گئے ہیں"
نئے فتوے یہ جاری ہو گئے ہیں
نئی اک صنف ہونے کو ہے پیدا
"غزل کے پاؤں بھاری ہو گئے ہیں"
محمد خلیل الرحمٰن — جون 12، 2017 9:11 صبح
بہت خوب شہنواز نور، اچھا کلام ہے۔ داد قبول فرمائیں۔
ازرائے مزاح
"سخنور کاروباری ہو گئے ہیں"
نئے فتوے یہ جاری ہو گئے ہیں
نئی اک صنف ہونے کو ہے پیدا
"غزل کے پاؤں بھاری ہو گئے ہیں"
بہت خوب صاحب!
جب بھی کوئی نئی صنفِ سخن کی بات کرتا ہے ہمارے کان کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ہماری تجویز کو بھی شنوائی نصیب ہوا چاہتی ہے۔
اب تو خیر سے محترمہ غزل کے پاؤں بھاری ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ--------
وزل: ایک نئی صنفِ سخن کا تعارف
امجد علی راجا — جون 12، 2017 9:16 صبح
بہت خوب صاحب!
جب بھی کوئی نئی صنفِ سخن کی بات کرتا ہے ہمارے کان کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ہماری تجویز کو بھی شنوائی نصیب ہوا چاہتی ہے۔
اب تو خیر سے محترمہ غزل کے پاؤں بھاری ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ--------
وزل: ایک نئی صنفِ سخن کا تعارف
آپ کی اس تجویز پر تو شدید حملے ہو چکے ہیں

(بلا وجہ کے)
لیکن آپ کے حوصلہ کو داد دینا پڑے گی کہ امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔

محمد خلیل الرحمٰن — جون 12، 2017 9:22 صبح
آپ کی اس تجویز پر تو شدید حملے ہو چکے ہیں

(بلا وجہ کے)
لیکن آپ کے حوصلہ کو داد دینا پڑے گی کہ امید کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔
پیوستہ رہ غزل سے ، امیدِ بہار دکھ
امجد علی راجا — جون 12، 2017 9:30 صبح
پیوستہ رہ غزل سے ، امیدِ بہار دکھ
پیوستہ رہ غزل سے ، امیدِ بہار دکھ
کرنا پڑے مقابلہ یا بھاگنا پڑے
بھائی یہ مشورہ ہے کہ جوتے اتار رکھ


