تامل!!

ابن رضا — اگست 29، 2015 1:44 شام

وہ لفظوں کا ہےسوداگر
انہی لفظوں کی ہر لمحہ
تجارت خوب کرتا ہے
ہمیشہ دل نشیں جملوں

سے دل کو موہ لیتا ہے
ہے موضوعِ محبت پر
اسے اک دسترس حاصل
کبھی اس کھیل میں اس سے

نہ کوئی جیت پایا ہے
مگر ایسا کبھی تو ہو
کہ وہ اپنی ہی باتوں پر
عمل بھی کر دکھائے تو
ہمیں بھی مان لینے میں
تامل کیوں ذرا بھی ہو

برائے توجہ اساتذہ
محمد یعقوب آسی صاحب و الف عین صاحب
محمد یعقوب آسی — اگست 29، 2015 4:24 شام
سوداگر اپنا مال ضائع نہیں کرتا۔ لفظوں کے سوداگر کی حیثیت سے آپ کے ایک ایک لفظ کی قیمت وصول ہونی چاہئے۔ کیا خیال ہے؟
محمد یعقوب آسی — اگست 29، 2015 4:33 شام
آپ کی دل چسپی کے لئے ایک بات بتاؤں۔
آپ کی اس نظم میں تمام سطروں کی ضخامت برابر ہے۔ اگر ہم ان کو مصرعے کہتے تو کہتے کہ سب مصرعے ہم وزن ہیں، بس قافیہ ردیف نہیں ہے۔
نظم کی اس صورت کو اصطلاحاً نظمِ مُعَرّٰی کہا جاتا ہے۔
ابن رضا — اگست 29، 2015 4:52 شام
سوداگر اپنا مال ضائع نہیں کرتا۔ لفظوں کے سوداگر کی حیثیت سے آپ کے ایک ایک لفظ کی قیمت وصول ہونی چاہئے۔ کیا خیال ہے؟
بالکل درست فرمایا سر، تعمیل کی کوشش کرتا ہوں
ابن رضا — اگست 29، 2015 4:58 شام
آپ کی دل چسپی کے لئے ایک بات بتاؤں۔
آپ کی اس نظم میں تمام سطروں کی ضخامت برابر ہے۔ اگر ہم ان کو مصرعے کہتے تو کہتے کہ سب مصرعے ہم وزن ہیں، بس قافیہ ردیف نہیں ہے۔
نظم کی اس صورت کو اصطلاحاً نظمِ مُعَرّٰی کہا جاتا ہے۔
جی سر 2013 میں یہ پہلی نظم کہی تھی
http://www.urduweb.org/mehfil/threads/محبت-دھوپ-جیسی-ہے.68288/
محمد یعقوب آسی — اگست 29، 2015 5:04 شام
اچھی بات ہے نا! تب کہی تھی، اب اور اب کے بعد جب بھی چاہیں اس کو بہتر کر سکتے ہیں۔
محمد یعقوب آسی — اگست 29، 2015 5:06 شام
میرا تو یہ ہے کہ ایک شعر کہا، ۲۰ سال بعد بھی اس میں کوئی بہتری سوجھ گئی تو ترمیم کر دی!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%A7%D9%85%D9%84.84277/