تحریرِ مقدر پہ قناعت نہیں کرتا

ابن رضا — ستمبر 23، 2014 2:03 شام

چڑھ جاتا ہے وہ دار پہ ہنستے ہوئے لیکن
جو مردِ قلندر ہو سماجت نہیں کرتا

تعبیر نہیں ملتی کسی خواب کی اس کو
جو وقت کے گھوڑے کی حفاظت نہیں کرتا
سستانے کو رک جائے جو بیچ سفر میں
خرگوش وہ برگد کی زیارت نہیں کرتا
ماتم ہی کیا جاتا ہے اخلاق پہ اس کے
جو شخص برائی کی مذمت نہیں کرتا
رکھتا ہو یقیں قوتِ بازو پہ رضا جو

تحریرِ مقدر پہ قناعت نہیں کرتا

ابن رضا — ستمبر 24، 2014 12:47 شام
مطلع زیرِ غور ہے
محمداحمد — ستمبر 24، 2014 2:26 شام
واہ ۔۔۔۔!
بہت خوب ابن رضا بھائی ۔۔۔!
مطلعے کا انتظار رہے گا۔ :)
ابن رضا — ستمبر 24، 2014 4:07 شام
واہ ۔۔۔۔!
بہت خوب ابن رضا بھائی ۔۔۔!
مطلعے کا انتظار رہے گا۔ :)
بہت نوازش محترمی
سید عاطف علی — ستمبر 24، 2014 4:24 شام
سستانے کو رک جائے جو بیچ سفر میں
یہاں وزن میں کچھ استحکام نہیں ۔۔۔۔ اور معنوی طور پر خرگوش کی دوڑ کے فاصلے کو سفر کہنا بھی اچھا نہیں ۔
سید عاطف علی — ستمبر 24، 2014 6:08 شام
ابن رضا ابھئی ۔ سماجت اور تحریرِ مقدر۔ ان میں کوئی عیب تو خیر نہیں البتہ ان میں شعریت بھی نہیں ۔
ابن رضا — ستمبر 24، 2014 6:14 شام
ابن رضا ابھئی ۔ سماجت اور تحریرِ مقدر۔ ان میں کوئی عیب تو خیر نہیں البتہ ان میں شعریت بھی نہیں ۔
متفق. غزل نامکمل اور نظرِ ثانی کی متقاضی ہے. فی الوقت مشقِ سخن سمجھ لیجیے. :)
الف عین — ستمبر 25، 2014 2:19 صبح
عاطف سے متفق ہوں۔
آج کل ماشاء اللہ خوب آمد ہو رہی ہے!!
نیرنگ خیال — ستمبر 25، 2014 5:30 صبح
تعبیر نہیں ملتی کسی خواب کی اس کو
جو وقت کے گھوڑے کی حفاظت نہیں کرتا
سستانے کو رک جائے جو بیچ سفر میں
خرگوش وہ برگد کی زیارت نہیں کرتا

ابن رضا بھائی بڑی حکایتی غزل ہے۔۔۔۔ اب غزلوں میں بھی حکایتیں آگئی ہیں۔ ہم تو صرف نثری حکایتوں کا بیڑا غرق کر سکتے ہیں۔ غزلی حکایتوں کے لیے پہلے سے معذرت۔۔۔ :p
داد قبول کیجیئے۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1%D9%90-%D9%85%D9%82%D8%AF%D8%B1-%D9%BE%DB%81-%D9%82%D9%86%D8%A7%D8%B9%D8%AA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%A9%D8%B1%D8%AA%D8%A7.77739/