تری یاد دل بدر کروں، ہمت نہ کر سکا

سید ذیشان — اگست 23، 2015 4:50 شام
تری یاد دل بدر کروں، ہمت نہ کر سکا
کبھی خود سے، اپنی ذات سے، ہجرت نہ کر سکا
تجھے بھول کر میں پاؤں جہاں کی مسرتیں
کبھی بھول کر بھی ایسی تجارت نہ کر سکا
سیاہی ثنائے شہ میں قلم کی ہوئی تمام
رعایا کے دل کا درد روایت نہ کر سکا
پشیماں وہ یوں ہوئے کہ مری لاش سے کہا
صد افسوس تیرے قتل میں عجلت نہ کر سکا
ابن رضا — اگست 23، 2015 5:34 شام
بہت خوب محترمی۔
سید ذیشان — اگست 24، 2015 2:52 صبح
شکریہ برادر :)
arifkarim — اگست 30، 2015 7:41 شام
اچھا لکھا ہے جناب نے! :)
بے الف اذان — اگست 30، 2015 7:47 شام
سیاہی ثنائے شہ میں قلم کی ہوئی تمام
رعایا کے دل کا درد روایت نہ کر سکا
واہ ! کیا ہی عمدہ شعر ہے ۔ ۔ ۔
تجھے بھول کر میں پاؤں جہاں کی مسرتیں
کبھی بھول کر بھی ایسی تجارت نہ کر سکا

تجارت کو ، لفظ "جسارت" سے بدل کر دیکھیے گا ۔ ( اور اس گستاخی پر پیشگی شفقت بھری معذرت بھی قبول کیجیے گا ) :)
سید ذیشان — اگست 31، 2015 2:03 شام
اچھا لکھا ہے جناب نے! :)
شکریہ جناب کا۔ :)
سید ذیشان — اگست 31، 2015 2:08 شام
واہ ! کیا ہی عمدہ شعر ہے ۔ ۔ ۔
تجارت کو ، لفظ "جسارت" سے بدل کر دیکھیے گا ۔ ( اور اس گستاخی پر پیشگی شفقت بھری معذرت بھی قبول کیجیے گا ) :)

شعر پسند کرنے کا شکریہ۔ :)
میرے خیال میں تو لفظ "جسارت" اس شعر کے مضمون سے میل نہیں کھاتا۔ تجارت کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ پہلے مصرعے میں اسی لین دین کی بات ہے کہ تجھے بھول جاؤں اور اس کے بدلے میں مسرتیں مل جائیں یا غم رفع ہو جائیں۔ ایسی تجارت اگرچہ دنیاوی لحاظ سے سود مند ہے، لیکن شاعر ایسا نہ کر سکا۔
ابن رضا — اگست 31، 2015 4:11 شام
لیکن شاعر ایسا نہ کر سکا

:LOL::ROFLMAO::p
الف عین — اگست 31، 2015 5:23 شام
عروض نے اسے کس بحر کا نام دہا ہے اور کیا افاعیل ہیں؟
بے الف اذان — اگست 31، 2015 6:03 شام
شعر پسند کرنے کا شکریہ۔ :)
میرے خیال میں تو لفظ "جسارت" اس شعر کے مضمون سے میل نہیں کھاتا۔ تجارت کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ پہلے مصرعے میں اسی لین دین کی بات ہے کہ تجھے بھول جاؤں اور اس کے بدلے میں مسرتیں مل جائیں یا غم رفع ہو جائیں۔ ایسی تجارت اگرچہ دنیاوی لحاظ سے سود مند ہے، لیکن شاعر ایسا نہ کر سکا۔

بہت شکریہ جناب کہ آپ اس حقیر کی بات خاطر میں لائے :)
بے الف اذان — اگست 31، 2015 6:04 شام
کیا یہ شاعر کے زخموں پر نمک ہے ؟ ;)
سید ذیشان — ستمبر 1، 2015 3:11 شام
عروض نے اسے کس بحر کا نام دہا ہے اور کیا افاعیل ہیں؟
افاعیل ہیں مفاعیل فاعلات مفاعیل فاعلن
الف عین — ستمبر 1، 2015 4:58 شام
مانوس تو مفعول فاعلات مفاعیل فاعلات ہے۔ اسی میں رواں محسوس ہوتی ہے۔ نا مانوس بحر میں روانی کی کمی ہے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%B1%DB%8C-%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%D8%AF%D9%84-%D8%A8%D8%AF%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D9%88%DA%BA%D8%8C-%DB%81%D9%85%D8%AA-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%B1-%D8%B3%DA%A9%D8%A7.84148/