لیتے ہی نام اس کا سوتے سے چونک اٹھے ہو
ہے خیر میر صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
ہے خیر میر صاحب کچھ تم نے خواب دیکھا
اٹھےکی تقطیع فعو ہو گی یا فا عی؟
دونوں ہو سکتی ہیں لیکن یہاں فعلن (لاتن) استعمال کی گئی ہے ٹھ پر تشدید کے ساتھ ۔۔۔غالباًآپ کو اسی لیے اشکال ہوا ہے اور تقطیع کی ضرورت پیش آئی۔
یہ ایک مشہور بحر " مضارع مثمن اخرب" ہےجس کے ارکان سید عاطف علی صاحب نے لکھ دیے ہیں۔
آپ سے مصرع کے آخر میں "اٹھے ہو" کا "ہو" صرف نظر ہوگیا ہے
فاتح صاحب آپ نے یقیناً درست فرمایا ۔ اگر شعر میں "اٹھے ہو" ہے ۔
مجھ سے یہ "ہو " صرف نظر ہو گیا ہوگا ۔ میں نے اٹھے کو بغیر ہو کے حساب سے وضاحت کی ۔ٹائم سٹیمپ سے معلوم ہوتا ہے شاید یہ شعر بعدمیں تدوین کر کے درست کیا گیا ہے۔واللہ اعلم
یقیناً ایسا ہی ہوا ہو گا۔ گو کہ مجھے کوئی ایسی ٹائم سٹیمپ تو نظر نہیں آ رہی۔
دیوان میں ایسے ہے تو پھر یہی ہے۔ اگر چہ شعر کے معنی و مطلوب پر اس " ہو" کی موجودگی سے کچھ اثر انداز نہیں ہوتی، دونوں طرح مصرع کامل اور خدائے سخن کے لہجے سے موافق لگتا ہے۔ (مجھے)