تلفظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذوالفقار نقوی — دسمبر 6، 2016 9:27 صبح
نظریہ
اس لفظ کو شعر میں کس تلفظ سے باندھا گیا ہے ۔۔۔۔
مثالیں مل جائیں تو واضع ہو جائے
سید عاطف علی — دسمبر 6، 2016 10:46 صبح
یہاں اصل میں ی پر تشدید ہے جس کی وجہ سےلفظ کا صحیح وزن تو" فعِلاتن" ہے ۔ڈاکٹر اقبال نے غالباً کہیں اسی طرح باندھا ہے۔
ہر دم متلاطم تھے خرد کے نظریّات۔
اس طرح فعِلاتن(یعنی ع متحرک) پر تو مکمل طور پر درست ہوگا۔
لیکن اردو میں نظریہ عموماً ۔فعولن۔ کے وزن پر عام استعمال ہوتا ہے لہذا اس پر البتہ کلام کیا جاسکتا ہے۔میرے خیال میں تو استعمال کیا جا سلتا ہے۔مؤخر الذکر کی کوئی مثال ذہن میں نہیں لیکن لگتا ہے مل جائے گی۔واللہ اعلم
شاہد شاہنواز — دسمبر 7، 2016 10:24 صبح
تلفظ تو نَ ظَ رِ ی ی ہ ہی ہے۔ (ی پر تشدید) ۔ اور اقبال کی مثال بھی اسی کی تائید میں ہے۔ لغت بھی یہی بتاتی ہے۔
ہاں، اشعار کا اس ضمن میں فقدان ہے۔
یہاں اصل میں ی پر تشدید ہے جس کی وجہ سےلفظ کا صحیح وزن تو" فعِلاتن" ہے ۔ڈاکٹر اقبال نے غالباً کہیں اسی طرح باندھا ہے۔
ہر دم متلاطم تھے خرد کے نظریّات۔
اس طرح فعِلاتن(یعنی ع متحرک) پر تو مکمل طور پر درست ہوگا۔
لیکن اردو میں نظریہ عموماً ۔فعولن۔ کے وزن پر عام استعمال ہوتا ہے لہذا اس پر البتہ کلام کیا جاسکتا ہے۔میرے خیال میں تو استعمال کیا جا سلتا ہے۔مؤخر الذکر کی کوئی مثال ذہن میں نہیں لیکن لگتا ہے مل جائے گی۔واللہ اعلم
ویسے بولتے وقت وجہ کا تلفظ "وجا" ہوتا ہے، اشعار میں اس کا تلفظ محض "وج" ہے ، تو اس کی وجہ بھی وہی لغت کی پیروی ہے تاکہ زبان اپنی اصل حالت کو برقرار رکھے۔
محمد فائق — دسمبر 8، 2016 11:00 صبح
نظریوں کے تصادم میں قلم کام آئیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%84%D9%81%D8%B8%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94.93413/