تم جو چاہو تو

عمار ابن ضیا — نومبر 11، 2008 7:00 صبح
سانس تن میں برائے نام ہی ہے
دور منزل بھی چند گام ہی ہے
لوٹ جانا، مگر ابھی ٹھہرو
اتنی جلدی بھی کیا ہے، شام ہی ہے
تم جو چاہو تو توڑ دوں بندھن
گو کہ اب بھی برائے نام ہی ہے
بھول جائیں گے آپ کو عمار
آپ کا یہ خیال خام ہی ہے​
مغزل — نومبر 11، 2008 7:03 صبح
واہ ۔۔۔ بہت خوب عمار بھیا، خوش رہیں ۔ بابا جانی تو غائب ہیں۔ وارث بھائی دیکھیں کب آتے ہیں یہاں ؟؟
امر شہزاد — نومبر 11، 2008 7:36 صبح
لوٹ جانا، مگر ابھی ٹھہرو
اتنی جلدی بھی کیا ہے، شام ہی ہے
واہ، بہت اچھی غزل ہے!
عمار ابن ضیا — نومبر 11، 2008 8:57 صبح
شکریہ مغل بھائی اور امر شہزاد۔
امر شہزاد! صرف دوسرا اور تیسرا شعر ہی پسند آیا ہے مجھے۔ تیسرا شعر دراصل وہ شعر ہے جو سب سے پہلے اترا تھا۔۔۔ باقی کے تین اشعار اس کے اوپر کل رات ہی فٹ کیے ہیں۔
زینب — نومبر 11، 2008 9:13 صبح
شاندار ۔۔۔۔۔۔۔تم جو چاہو تو توڑ دوں بندھن
گو کہ اب بھی برائے نام ہی ہے
ش زاد — نومبر 11، 2008 9:14 صبح
تم جو چاہو تو توڑ دوں بندھن
گو کہ اب بھی برائے نام ہی ہے

واہ صاحب بہت خوب
تنقید کرنا ناقدین کا کام ہے
لکھتے رہیئے
عمار ابن ضیا — نومبر 11، 2008 9:23 صبح
شاندار ۔۔۔۔۔۔۔تم جو چاہو تو توڑ دوں بندھن
گو کہ اب بھی برائے نام ہی ہے
شکریہ۔
ویسے اس شعر میں ایک خاص مگر آپس کی بات ہے، یہیں بتادوں یا الگ سے۔۔۔؟؟؟ ;)
عمار ابن ضیا — نومبر 11، 2008 9:24 صبح
واہ صاحب بہت خوب
تنقید کرنا ناقدین کا کام ہے
لکھتے رہیئے
بہت شکریہ ش زاد۔
ش زاد — نومبر 11، 2008 9:33 صبح
HTML:
شکریہ۔
ویسے اس شعر میں ایک خاص مگر آپس کی بات ہے، یہیں بتادوں یا الگ سے۔۔۔؟؟؟

صاحب یہیں بتائیے ہم کیا غیر ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟:hatoff::hatoff::hatoff::hatoff::hatoff::hatoff::hatoff::hatoff:
محمداحمد — نومبر 11، 2008 9:36 صبح
ماشاء اللہ
عمار بھیا سب ہی اشعار بہت خوب ہیں اور لائقِ تحسین ہیں۔
ہمیشہ خوش رہیے
عمار ابن ضیا — نومبر 11، 2008 9:37 صبح
نہیں ش زاد۔ دراصل وہ بات ان محترمہ سے ہی تعلق رکھتی ہے۔۔۔ اور آپ کو پتا نہیں ہے، ویسے تو یہ بہت اچھی ہے لیکن اگر کوئی گڑبڑ کردو نا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :mad:
عمار ابن ضیا — نومبر 11، 2008 9:38 صبح
شکریہ احمد بھائی۔۔۔ ہم نے آپ سے ملاقات کی فرمائش دوسری بار بھی مغل بھائی کو نوٹ کروادی ہے۔ :lll:
محمداحمد — نومبر 11، 2008 9:42 صبح
شکریہ احمد بھائی۔۔۔ ہم نے آپ سے ملاقات کی فرمائش دوسری بار بھی مغل بھائی کو نوٹ کروادی ہے۔ :lll:

ضرور ہم بھی کہے دیتے ہیں مغل بھائی سے ۔ وہ آج کل خود بھی کچھ کھنچے کھنچے سے ہیں‌۔ :grin:
زینب — نومبر 11، 2008 9:44 صبح
شکریہ۔
ویسے اس شعر میں ایک خاص مگر آپس کی بات ہے، یہیں بتادوں یا الگ سے۔۔۔؟؟؟ ;)

جب بات یہاں شروع کی ہے تو یہاں‌ہی کہہ بھی دو ایسی کیا پردے کی بات ہے بھلا جو پہلے کسی کو نہیں پتا
عمار ابن ضیا — نومبر 11، 2008 9:45 صبح
جب بات یہاں شروع کی ہے تو یہاں‌ہی کہہ بھی دو ایسی کیا پردے کی بات ہے بھلا جو پہلے کسی کو نہیں پتا
پھر غصہ۔۔۔ :(
تم نے باز نہیں آنا لڑنے سے۔۔ ہے نا۔۔۔ :(
ش زاد — نومبر 11، 2008 10:01 صبح
پھر غصہ۔۔۔ :(
تم نے باز نہیں آنا لڑنے سے۔۔ ہے نا۔۔۔ :(
عمار بھائی جیسے اپ کو خوشی میسر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:hatoff::hatoff:
محمد نعمان — نومبر 11، 2008 4:24 شام
بھائی کیا بات ہے۔۔۔۔بہت اچھے۔۔۔کہتے رہیئے سُناتے رہئیے بھیجتے رہیئے۔۔
بس ا پنے اُستادِ محترم وارث‌ بھائی کا انتظار ہے کہ وہ کیا فرماتے ہیں
والسلام
زینب — نومبر 12، 2008 4:01 صبح
چلو اب بات بتا بھی دو کیا بتانی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمار ابن ضیا — نومبر 12، 2008 5:30 صبح
چلو اب بات بتا بھی دو کیا بتانی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارےےے۔۔۔ بتا تو دی تھی کل۔۔۔ :eek:
جیا راؤ — نومبر 12، 2008 5:43 صبح
تم جو چاہو تو توڑ دوں بندھن
گو کہ اب بھی برائے نام ہی ہے

واہ۔۔۔ خوبصورت !
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%85-%D8%AC%D9%88-%DA%86%D8%A7%DB%81%D9%88-%D8%AA%D9%88.16445/