نوید اکرم — اپریل 20، 2015 4:18 شام
تم نے غلط سنا تھا، خوشیوں کا در کھلے گا
اس عشق میں تو یارو! دکھ درد ہی ملے گا
وعدہ کیا ہے اس نے وہ شام کو ملے گی
آئے گی وہ گھڑی کب، سورج یہ کب ڈھلے گا؟
ہلتا نہیں ہے کیوں سر اثبات یا نفی میں
اس دل میں کیا ہے آخر، یہ راز کب کھلے گا؟
میں مانگتا ہوں اس کو ہر اک دعا میں رب سے
دریا نہ مل سکا تو ساگر ہی پھر ملے گا
جس عرش پر ہے بیٹھا بن کر خدا وہ ظالم
اے میرے ربِّ ارحم! وہ عرش کب ہلے گا؟
کچھ بھی نہیں کہے گا مردوں کو یہ زمانہ
عورت کا عمر ساری دھبّہ نہیں دھلے گا
دارالعمل میں آئے گا جب نوید اپنا
پانی ہے اس میں کتنا ، تب ہی پتہ چلے گا
فاروق احمد بھٹی — اپریل 20، 2015 5:42 شام
قافیہ مطلع میں ہی غلط ہے اور باقی کے مصرعوں میں بھی غلط ہے۔ حرف روی اس قافیہ میں ل بنتا ہے اور اس سے پہلے کی حرکت ایک جیسی ہونی چاہیے جبکہ آپ تمام حرکات لے آئے پیش، زیر، زبر دیکھیے۔
کُھلے ۔ مِلے۔ ڈَھلے۔ کُھلے۔ مِلے۔ ہِلے۔ دُھلے۔ چَلے۔
نوٹ: میری رائے کو سنجیدہ نہ لیا جائے اساتذہ کے آنے کا انتظار فرمایا جائے۔
نوید اکرم — اپریل 21، 2015 1:28 شام
قافیہ مطلع میں ہی غلط ہے اور باقی کے مصرعوں میں بھی غلط ہے۔ حرف روی اس قافیہ میں ل بنتا ہے اور اس سے پہلے کی حرکت ایک جیسی ہونی چاہیے جبکہ آپ تمام حرکات لے آئے پیش، زیر، زبر دیکھیے۔
کُھلے ۔ مِلے۔ ڈَھلے۔ کُھلے۔ مِلے۔ ہِلے۔ دُھلے۔ چَلے۔
نوٹ: میری رائے کو سنجیدہ نہ لیا جائے اساتذہ کے آنے کا انتظار فرمایا جائے۔
میری رائے میں حرف روی سے پہلے کی حرکت کا ایک جیسا ہونا صرف اس وقت ضروری ہے جب حرف روی ساکن ہو، لیکن یہاں حرف روی ل ساکن نہیں ہے۔ باقی اساتذہ کرام بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔
الف عین — اپریل 23، 2015 6:57 صبح
عزیزی@مزمل شیخ بسمل
محمد یعقوب آسی — اپریل 23، 2015 7:04 صبح
قافیہ مطلع میں ہی غلط ہے اور باقی کے مصرعوں میں بھی غلط ہے۔ حرف روی اس قافیہ میں ل بنتا ہے اور اس سے پہلے کی حرکت ایک جیسی ہونی چاہیے جبکہ آپ تمام حرکات لے آئے پیش، زیر، زبر دیکھیے۔
کُھلے ۔ مِلے۔ ڈَھلے۔ کُھلے۔ مِلے۔ ہِلے۔ دُھلے۔ چَلے۔
نوٹ: میری رائے کو سنجیدہ نہ لیا جائے اساتذہ کے آنے کا انتظار فرمایا جائے۔
میری رائے میں حرف روی سے پہلے کی حرکت کا ایک جیسا ہونا صرف اس وقت ضروری ہے جب حرف روی ساکن ہو، لیکن یہاں حرف روی ل ساکن نہیں ہے۔ باقی اساتذہ کرام بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں۔
جناب
مزمل شیخ بسمل ۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 23، 2015 7:06 صبح
نوٹ: میری رائے کو سنجیدہ نہ لیا جائے اساتذہ کے آنے کا انتظار فرمایا جائے۔
آپ کی رائے کو سنجیدہ نہ لیا جائے؟
کیوں؟ !
مزمل شیخ بسمل — اپریل 23، 2015 7:32 صبح
میری ناقص ترین رائے میں قوافی درست ہیں۔ "روی مطلق" میں گو کہ ماقبل کی حرکت میں مطابقت مستحسن ہے لیکن عدم مطابقت کو بھی میں درست ماننے کا قائل ہوں۔ کیونکہ جب حرفَ روی خود متحرک ہو تو ماقبل کی حرکت کا اعتبار نہیں۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 23، 2015 10:44 صبح
میری ناقص ترین رائے میں قوافی درست ہیں۔ "روی مطلق" میں گو کہ ماقبل کی حرکت میں مطابقت مستحسن ہے لیکن عدم مطابقت کو بھی میں درست ماننے کا قائل ہوں۔ کیونکہ جب حرفَ روی خود متحرک ہو تو ماقبل کی حرکت کا اعتبار نہیں۔
اچھا جملہ ہے۔
فاروق احمد بھٹی — اپریل 23، 2015 10:47 صبح
آپ کی رائے کو سنجیدہ نہ لیا جائے؟
کیوں؟ !
استادِ گرامی جب محفل میں صاحبِ علم موجود ہوں تو ایک طالبِ علم کی رائے میری نگاہ میں کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتی کہ غلطی کا امکان قوی ہوتا ہے۔ میں تو بس اصلاحِ سخن کے زمرے میں پیش کئے جانے والے فن پاروں کو سیکھنے کی غرض سے دیکھ کر جو سمجھ میں آتی ہے عرض کر دیتا ہوں کہ یہ بھی سیکھنے کا ایک طریقہ ہے۔
مزمل شیخ بسمل — اپریل 23، 2015 11:28 صبح
یقیناً میں نے کچھ غلط لکھ ڈالا ہے استاد جی۔

نشاندہی کا منتظر ہوں۔
سید عاطف علی — اپریل 23، 2015 11:54 صبح
یہاں مقطع میں بیان نامکمل ہے، ،پانی کے کس چیز میں ہونے کی بات کی گئی ہے۔
یا شاید "کتنے پانی میں ہونے" کو برت لیا گیا ہے ۔ یہ بھی درست نہیں۔اگر یہی ہے تو۔
محمد یعقوب آسی — اپریل 23، 2015 4:05 شام
یقیناً میں نے کچھ غلط لکھ ڈالا ہے استاد جی۔

نشاندہی کا منتظر ہوں۔
ارے نہیں صاحب! آپ کا جملہ اچھا لگا، تعریف کر دی۔ الفاظ "ناقص ترین رائے" کا اپنا ایک ذائقہ ہے۔
یہ تو آپ کو بھی پتہ ہے، قوافی پر کوئی سوال ہو تو میں آپ کی طرف بھیج دیا کرتا ہوں۔
نوید اکرم — اپریل 25، 2015 7:21 صبح
قافیوں کا مسئلہ تو حل ہوا۔ اب محترم جناب
الف عین صاحب کے تبصرے کا انتظا ر ہے
الف عین — اپریل 25، 2015 8:29 صبح
یہ قافئے درست تو کہے جاتے ہیں، لیکن مجھے درست نہیں لگتے۔ باقی میری رائے۔۔۔
پہلے اشعار درست ہیں۔
ہلتا نہیں ہے کیوں سر اثبات یا نفی میں
اس دل میں کیا ہے آخر، یہ راز کب کھلے گا؟
÷÷اس دل سے مراد اپنا دل یا محبوب کا دل؟ ظاہر ہے محبوب کا ہی مراد ہو گا، تو بہتر ہے ’اس کا دل‘ استعمال کیا جائے تاکہ احتمال نہ رہے۔
میں مانگتا ہوں اس کو ہر اک دعا میں رب سے
دریا نہ مل سکا تو ساگر ہی پھر ملے گا
÷÷دوسرے مصرع سے مطلب؟ کیا محبوب سالم نہیں مل سکا تو کم از کم اس کی ایک آدھ تانگ ہی ہاتھ آ جائے؟؟؟؟
مذاق بر طرف، یہ مطلب بھی اس وقت نکل سکتا ہے جب کہ ساگر دریا سے چھوٹا ہو۔ لیکن در اصل ایسا نہیں۔ ساگر سمندر کو کہتے ہیں۔
جس عرش پر ہے بیٹھا بن کر خدا وہ ظالم
اے میرے ربِّ ارحم! وہ عرش کب ہلے گا؟
۔۔ارحم۔۔ یہ تو عربی میں امر کا صیغہ ہے، رحیم کے معنی میں نہیں۔
کچھ بھی نہیں کہے گا مردوں کو یہ زمانہ
عورت کا عمر ساری دھبّہ نہیں دھلے گا
۔۔عمر ساری رواں نہیں،
عورت کا زندگی بھر۔۔۔
رواں ہو سکتا ہے
پانی ہے اس میں کتنا ، تب ہی پتہ چلے گا
دارالعمل میں آئے گا جب نوید اپنا
پانی ہے اس میں کتنا ، تب ہی پتہ چلے گا
۔۔یہ بحر دو حصوں میں ٹوٹتی ہے، مفعول فاعلاتن، مفعول فاعلاتن
لیکن پہلا مصرع بھی دو حصوں میں ٹوٹ رہا ہے، آئے ‘ پر پہلا حصہ ختم ہوتا ہے، اور دوسرا ’گا‘ سے شروع!! بات مکمل ایک ہی حصے میں ہونی چاہئے۔ ’اپنا‘ بھی غلط ہے، ’اپنے‘ کا محل ہے۔ اس مصرع کو بدلو
نوید اکرم — اپریل 28، 2015 4:57 شام
میں مانگتا ہوں اس کو ہر اک دعا میں رب سے
دریا نہ مل سکا تو ساگر ہی پھر ملے گا
÷÷دوسرے مصرع سے مطلب؟ کیا محبوب سالم نہیں مل سکا تو کم از کم اس کی ایک آدھ تانگ ہی ہاتھ آ جائے؟؟؟؟
مذاق بر طرف، یہ مطلب بھی اس وقت نکل سکتا ہے جب کہ ساگر دریا سے چھوٹا ہو۔ لیکن در اصل ایسا نہیں۔ ساگر سمندر کو کہتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اگر میری دعا قبول ہو گئی تو مجھے میرا محبوب (دریا) مل جائے گااور اگر ایسا نہ ہوا تو اس میں بھی کوئی نہ کوئی حکمت ہو گی اور میری قسمت میں اس سے بھی بہتر شخص (سمندر) ہو گا۔
۔۔ارحم۔۔ یہ تو عربی میں امر کا صیغہ ہے، رحیم کے معنی میں نہیں۔
یہ فعل امر "اِرحَم" نہیں ، بلکہ اسم التفضیل "اَرحَم" ہے یعنی "سب سے زیادہ رحم کرنے والا"، جیسا کہ ارحم الراحمین میں استعمال ہوتا ہے
الف عین — اپریل 29، 2015 7:44 صبح
مطلب یہ ہے کہ اگر میری دعا قبول ہو گئی تو مجھے میرا محبوب (دریا) مل جائے گااور اگر ایسا نہ ہوا تو اس میں بھی کوئی نہ کوئی حکمت ہو گی اور میری قسمت میں اس سے بھی بہتر شخص (سمندر) ہو گا۔
لیکن ’تو‘ اور ’ہی‘ سے یہ مطلب ظاہر نہیں ہوتا۔کسی نہ کسی حکمت کا سمجھنے کے لئے کوئی قرینہ نہیں مصرع میں۔