تمہیں شاید نہیں معلوم الفت کس کو کہتے ہیں

متلاشی — نومبر 20، 2011 7:44 صبح
ایک غزل اصلاح کے لئے پیشِ خدمت ہے ۔
تمہیں شاید نہیں معلوم ،الفت کس کو کہتے ہیں
چلے آؤ سنو تم بھی ، محبت کس کو کہتے ہیں
محبت اک حقیقت ہے ، ہزاروں رنگ ہیں اس میں
جو ہیں راہی وفا کے وہ ، تو چاہت اس کو کہتے ہیں
جو بندوں سے خدا کی ہو،تو رحمت ہے سراسر یہ
جو کی جائے خدا سے تو، عبادت اس کو کہتے ہیں
کرے محکوم حاکم سے ، اطاعت ہے یہ کہلاتی
رعایا سے کرے شہ تو، عدالت اس کو کہتے ہیں
جو ہو اولاد سے ماں کی ، تو شفقت ہے سرا سر یہ
جو ہو یاروں میں باہم تو ، رفاقت اس کو کہتے ہیں
کرے گر علم سے طالب ، تو محنت نام ہے اس کا
غلاموں کی ہو آقا سے تو مدحت اس کو کہتے ہیں
جو ہو گم راہ کو رہ سے ہدایت ہے یہ کہلاتی
کرے گر ’’کام‘‘سے کوئی مشقت اس کو کہتے ہیں
جو حق پر جان تک اپنی لٹا دیں پر نہ خم ہو سر
صداقت نام ہے اس کا ، شجاعت اس کو کہتے ہیں
کبھی خلوت کبھی جلوت، عجب ہی ڈھنگ ہیں اس کے
محبت یوں ہی ہوتی ہے ، محبت اس کو کہتے ہیں
متلاشی
17-10-11
متلاشی — نومبر 23، 2011 2:44 شام
استاذِ گرامی! پسندیدگی کا شکریہ۔۔۔
برائے مہربانی اس کی اصلاح بھی فرما دیں۔
فاروق درویش — نومبر 25، 2011 10:27 شام
ت
ایک غزل اصلاح کے لئے پیشِ خدمت ہے ۔
تمہیں شاید نہیں معلوم ،الفت کس کو کہتے ہیں
چلے آؤ سنو تم بھی ، محبت کس کو کہتے ہیں
محبت اک حقیقت ہے ، ہزاروں رنگ ہیں اس میں
جو ہیں راہی وفا کے وہ ، تو چاہت اس کو کہتے ہیں
جو بندوں سے خدا کی ہو،تو رحمت ہے سراسر یہ
جو کی جائے خدا سے تو، عبادت اس کو کہتے ہیں
کرے محکوم حاکم سے ، اطاعت ہے یہ کہلاتی
رعایا سے کرے شہ تو، عدالت اس کو کہتے ہیں
جو ہو اولاد سے ماں کی ، تو شفقت ہے سرا سر یہ
جو ہو یاروں میں باہم تو ، رفاقت اس کو کہتے ہیں
کرے گر علم سے طالب ، تو محنت نام ہے اس کا
غلاموں کی ہو آقا سے تو مدحت اس کو کہتے ہیں
جو ہو گم راہ کو رہ سے ہدایت ہے یہ کہلاتی
کرے گر ’’کام‘‘سے کوئی مشقت اس کو کہتے ہیں
جو حق پر جان تک اپنی لٹا دیں پر نہ خم ہو سر
صداقت نام ہے اس کا ، شجاعت اس کو کہتے ہیں
کبھی خلوت کبھی جلوت، عجب ہی ڈھنگ ہیں اس کے
محبت یوں ہی ہوتی ہے ، محبت اس کو کہتے ہیں
متلاشی
17-10-11
بیٹا جی آپ نے مطلع میں ہی ردیف بدل دیا ؟ ردیف ،، کس کو کہتے ہیں ،، یا ،، اس کو کہتے ہیں ،، میں سے ایک منتخب کریں
اشارہ دے رہا ہو
2221۔۔۔۔۔ 2221۔۔۔۔۔2221۔۔۔۔2221
تمہیں معلوم کیا جاناں کہ الفت کس کو کہتے ہیں
کسی پر مر مٹو ! جانو محبت کس کو کہتے ہیں
محبت اک حقیقت ہے ،صنم افسانہ لکھتے ہیں
بتان ِ حسن کیا جانیں عبادت کس کو کہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔
آپ کیلئے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اتنی رفتار نہ پکڑیں ۔۔۔۔ ایک غزل شروع کریں تو اس پر محنت کریں اصلاح لیں اسے سنواریں ، نکھاریں اور پھر دوسری شروع کریں ، بیک وقت چار پانچ غزلیں شروع کریں گے تو نہ اصلاح دینے والے اصلاح دے پائیں گے اور نہ ہی آپ کچھ سمجھ پائیں گے۔۔۔۔۔ سو آپ الجھ کر رہ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
متلاشی — نومبر 26، 2011 3:48 صبح
ت
بیٹا جی آپ نے مطلع میں ہی ردیف بدل دیا ؟ ردیف ،، کس کو کہتے ہیں ،، یا ،، اس کو کہتے ہیں ،، میں سے ایک منتخب کریں
اشارہ دے رہا ہو
2221۔۔۔۔۔ 2221۔۔۔۔۔2221۔۔۔۔2221
تمہیں معلوم کیا جاناں کہ الفت کس کو کہتے ہیں
کسی پر مر مٹو ! جانو محبت کس کو کہتے ہیں
محبت اک حقیقت ہے ،صنم افسانہ لکھتے ہیں
بتان ِ حسن کیا جانیں عبادت کس کو کہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔
آپ کیلئے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اتنی رفتار نہ پکڑیں ۔۔۔۔ ایک غزل شروع کریں تو اس پر محنت کریں اصلاح لیں اسے سنواریں ، نکھاریں اور پھر دوسری شروع کریں ، بیک وقت چار پانچ غزلیں شروع کریں گے تو نہ اصلاح دینے والے اصلاح دے پائیں گے اور نہ ہی آپ کچھ سمجھ پائیں گے۔۔۔۔۔ سو آپ الجھ کر رہ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔

مکرمی جناب فاروق درویش صاحب۔۔۔!
خاکسار کی اس غزل پر نظرِ کرم فرمانے کا شکریہ۔۔۔۔!
واقعی ردیف کی طرف میرا دھیان ہی نہیں گیا۔۔۔۔میں اس کو ٹھیک کر کے دوبارہ پوسٹ کرتاہوں۔۔۔
آپ کا قیمتی مشورہ سرآنکھوں پر۔۔۔۔!
الف عین — نومبر 26، 2011 6:54 صبح
پھر کیا طے کیا ذیشان؟ اس کو یا کس کو۔۔۔ کاپی کر رہا ہوں
متلاشی — نومبر 26، 2011 12:22 شام
پھر کیا طے کیا ذیشان؟ اس کو یا کس کو۔۔۔ کاپی کر رہا ہوں
استاد محترم کس کو زیادہ بہتر لگ رہا ہے۔۔۔
سیدہ سارا غزل — نومبر 26، 2011 4:15 شام
ت
بیٹا جی آپ نے مطلع میں ہی ردیف بدل دیا ؟ ردیف ،، کس کو کہتے ہیں ،، یا ،، اس کو کہتے ہیں ،، میں سے ایک منتخب کریں
اشارہ دے رہا ہو
2221۔۔۔۔۔ 2221۔۔۔۔۔2221۔۔۔۔2221
تمہیں معلوم کیا جاناں کہ الفت کس کو کہتے ہیں
کسی پر مر مٹو ! جانو محبت کس کو کہتے ہیں
محبت اک حقیقت ہے ،صنم افسانہ لکھتے ہیں
بتان ِ حسن کیا جانیں عبادت کس کو کہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔
آپ کیلئے میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اتنی رفتار نہ پکڑیں ۔۔۔۔ ایک غزل شروع کریں تو اس پر محنت کریں اصلاح لیں اسے سنواریں ، نکھاریں اور پھر دوسری شروع کریں ، بیک وقت چار پانچ غزلیں شروع کریں گے تو نہ اصلاح دینے والے اصلاح دے پائیں گے اور نہ ہی آپ کچھ سمجھ پائیں گے۔۔۔۔۔ سو آپ الجھ کر رہ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔
سر ان دو مصرعوں نے تشنگی بڑھا دی ، آپ کی مکمل غزل کا انتظار رہے گا
تمہیں معلوم کیا جاناں کہ الفت کس کو کہتے ہیں
کسی پر مر مٹو ! جانو محبت کس کو کہتے ہیں
محبت اک حقیقت ہے ،صنم افسانہ لکھتے ہیں
بتان ِ حسن کیا جانیں عبادت کس کو کہتے ہیں
مغزل — نومبر 28، 2011 11:42 صبح
رسید حاضر ہے قبلہ۔ میں بھی بزرگوں کی باتوں سے کشید کر رہا ہوں۔۔ سلامت رہیں
محمود احمد غزنوی — نومبر 28، 2011 2:25 شام
ریاضت نام ہے انکی گلی میں آنے جانے کا
تصور میں بسے رہنا، عبادت اسکو کہتے ہیں۔۔
شاعر نامعلوم

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%85%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B4%D8%A7%DB%8C%D8%AF-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%88%D9%85-%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA-%DA%A9%D8%B3-%DA%A9%D9%88-%DA%A9%DB%81%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.48701/