رات تین شعر ہوئے حمد کے ، مجھے اس مد میں تنقید اور اصلاح درکار ہے۔ ترے وجود سے آگے ، وجود سارے غلط
ترے شہود سے آگے شہود سارے غلط
یہ رنگ اور کسی کے لیئے ہے وجد کناں
وگرنہ بود غلط ہے ، نبود سارے غلط
میں کس اساس پہ رکھوں گمانِ ردوقبول
مرے قیام غلط ہیں ، سجود سارے غلط باقی ۔۔ آئندہ نیاز مند
فاروقی — اکتوبر 14، 2008 7:27 صبح
واہ واہ ........کمال کے ہیں .........میرا مطلب تھا ہوں گے آپ کے ہی لیکن کمال کے ہیں ...... منصف حضرات ہی ان سے انصاف کر سکتے ہیں ..........
نوید صادق — اکتوبر 14، 2008 7:43 صبح
فی الحال رسید حاضر ہے، تفصیل شام کو۔
مغزل — اکتوبر 14، 2008 8:03 صبح
یعنی یہ بدعت (رسید والی) ہم سے ۔۔ اہلِ صدق تک پہنچ گئی ۔۔
خرم شہزاد خرم — اکتوبر 14، 2008 8:59 صبح
بہت خوب جناب کیا بات ہے مغل صاحب کمال کی شاعری ہے نوید صاحب جب آپ شام کو جواب دیں گے تو اس کی بحر بھی بتا دیجئے گا شکریہ
سبحان اللہ! سبحان اللہ! سبحان اللہ!
انتہائی خوبصورت۔۔۔ مکمل کیجیے حضور۔ بے چینی سے انتظار رہے گا۔ خرم! یہ مجتث میں ہے۔
مغزل — اکتوبر 14، 2008 12:26 شام
یقین کیجئے ۔۔ دل بڑھا دیا آپ نے ۔۔ انشا اللہ آج ہی مکمل کرتا ہوں فاتح صاحب ۔جزاک اللہ
(دراصل ان اشعار کے کہنے پر رات کچھ عالموں نے کفر کے فتوے لگائےتھے ۔۔ میں تو ڈر گیا تھا۔۔
اس لیے پہلی بار شعبہِ اصلاح میں ارسال کیا کہ ہوسکتا ہے میں غلطی پر ہوں۔۔ جزاک اللہ )
علما کے فتاویٰ سے نہ ڈریں کہ درج بالا مصرع اقبال کا ہے اور اپنی ذات میں اچھا خاصا 'کافرانہ' دکھتا ہے لیکن مصرع ثانی (وحدت پرست ہیں ہم، واحد خدا ہمارا) پڑھ کر وضاحت ہو جاتی ہے۔
اسی طرح اگر آپ بھی قیام و سجود غلط ہونے کی توجیہ بیان فرما دیں تو علما خاموش ہو جائیں گے۔
مغزل — اکتوبر 15، 2008 5:07 صبح
لیجئے ۔۔۔ ہم نے ایسا ہی کیا ۔۔ بلکہ ایسا کیا کہ انہیں کہا :
’’ یہ میرا اور رب کا معاملہ ہے میں اس کی بارگاہ میں جوکہوں ۔۔ آپ کو کیا ‘‘
ویسے سلسلہ چل پڑا ہے ۔۔ ان اشعار پر بات ہوجائے تو باقی ماندہ بھی پیش کرتا ہوں ۔
رات تین شعر ہوئے حمد کے ، مجھے اس مد میں تنقید اور اصلاح درکار ہے۔ ترے وجود سے آگے ، وجود سارے غلط
ترے شہود سے آگے شہود سارے غلط
یہ رنگ اور کسی کے لیئے ہے وجد کناں
وگرنہ بود غلط ہے ، نبود سارے غلط
میں کس اساس پہ رکھوں گمانِ ردوقبول
مرے قیام غلط ہیں ، سجود سارے غلط باقی ۔۔ آئندہ نیاز مند
اب جب بات تبنقید کی ہو رہی ہے تو کچھ عارضی طور پر کہہ ہی دوں.
تیسرا شعر سب سے عمدہ ہے، مجھے پسند آیا. لیکن پہلے دونوں اشعار کچھ سوال پیدا کر رہے ہیں.
مطلع میں وجود تو غلط ہو سکتے ہیں لیکن شہود؟ وہ بھی ترا شہود...
دوسرے شعر میں رنگوں کے وجد کناں ہونے کا تعلق بود نبود سے واضح نہیں ہوتا. کیا کہنا چاہتے ہو محمود؟
مغزل — اکتوبر 16، 2008 6:32 صبح
رنگ وجد کناں ۔۔ سے مراد کائنات کے رنگ ( سیارگان و ستارے و کاہکشاں ۔۔۔۔ سبھی ۔۔۔ )
سورۃ بقرہ کی ایک آیت ( صبغۃ اللہ و من احسن من اللہ صبغۃ ) اور ایک دوسری آیت جس میں اللہ فرماتا ہے ۔
کہ اے ( محبوب (صل اللہ علیہ وسلم ) ۔) میں اگر تمھیں خلق نہ کرتا تو یہ کائنات نہ بناتا، حتٰی کہ
اپنا رب ہونا ظاہر نہ کرتا ۔۔ معنوی اعتبار سے یہ شعرنعت کی طرف جارہا ہے ۔ مگر تفضیلِ کل کے
تحت ۔۔ قادرِ حقیقی ہی اس عمل کاسزاوار ہے ۔۔ یوں حمد کے زمرے میں اسے لیا ہے۔ آپ مزید کچھ بات کیجئے نا ۔