تو الٰہی! حساب مت لیجو

راحیل فاروق — مئی 25، 2015 4:33 شام
آداب۔
عرصہ بیتا کسی سے اصلاح لیے ہوئے۔ ابھی بیٹھے بیٹھے ایک خیال آیا۔ اسے موزوں کیا ہے۔ اہلِ نظر کی خدمت میں پیش ہے۔ اصلاح کی درخواست ہے!
روزِمحشر عذاب مت دیجو
اور مجھ کو خراب مت کیجو
تیرے بندوں نے گن لیا سب کچھ
تُوالٰہی!حساب مت لیجو​
الف عین — مئی 26، 2015 3:05 صبح
ماشاء اللہ۔ ذو قافیتین بھی خوب نبھایا ہے۔
البتہ لیجو کے ساتھ ’تم‘ کی ضمیر میرے خیال میں درست ہے، ’تو‘ کی نہیں۔
سید عاطف علی — مئی 26، 2015 6:17 صبح
ماشاء اللہ۔ ذو قافیتین بھی خوب نبھایا ہے۔
البتہ لیجو کے ساتھ ’تم‘ کی ضمیر میرے خیال میں درست ہے، ’تو‘ کی نہیں۔
لیجو والے لہجے کے حساب سے تم اور تو دونوں ہی موافق لگتے ہیں ۔ جیسا کہ ان کی کچھ متغیر حالتیں بھی ہیں ۔ مثلاً ۔ کیجو کیجیو۔دیجو دیجیو۔ جیسا کہ غالب کہتے ہین لکھ دیجیو یارب انہیں ۔۔۔الخ
۔ دوسرا مصرع اگرچہ سادگی اور روانی کے لحاظ سے اچھا ہے مگر مجھے بقیہ کلاسیکی فضا سے ہم آہنگ نہیں لگ رہا ۔ اسے ذرا مطابق کیا جائے تو زیادہ مزید بہتر صورت ممکن ہو۔مثلاً مجھ کو زیر ِعتاب مت کیجو وغیرہ ۔
نیز اسی مصررع میں "خراب کرنا" ایک عام محآورہ ہے جو محاورۃً معنوی وسعت رکھتا ہے ۔۔۔یہاں واضح تر اور مخصوص لفظ یا ترکیب استعمال ہو نا بھی قرین ِلطافت لگتاہے۔
۔۔۔ بہر حال ربعی قطعہ قابل داد ہے۔ خؤبصورت اسلوب میں بہترین بیان ۔
الشفاء — مئی 26، 2015 6:26 صبح
آداب۔
عرصہ بیتا کسی سے اصلاح لیے ہوئے۔ ابھی بیٹھے بیٹھے ایک خیال آیا۔ اسے موزوں کیا ہے۔ اہلِ نظر کی خدمت میں پیش ہے۔ اصلاح کی درخواست ہے!
روزِمحشر عذاب مت دیجو
اور مجھ کو خراب مت کیجو
تیرے بندوں نے گن لیا سب کچھ
تُوالٰہی!حساب مت لیجو​
ماشاءاللہ بہت خوب۔۔۔:)
یوں کیسا لگے گا کہ
روز محشر عذاب مت دیجو
مجھ کو زیر عتاب مت کیجو
تیرے بندوں نے گن لیا سب کچھ
اب الٰہی! حساب مت لیجو۔۔۔
لئیق احمد — مئی 26، 2015 6:41 صبح
روز محشر عذاب مت دیجو
مجھ کو زیر عتاب مت کیجو
تیرے بندوں نے گن لیا سب کچھ
اب الٰہی! حساب مت لیجو۔۔۔
یہ زیادہ اچھا لگ رہا ہے :)
راحیل فاروق — مئی 26، 2015 11:23 صبح
یوں کیسا لگے گا کہ
روز محشر عذاب مت دیجو
مجھ کو زیر عتاب مت کیجو
تیرے بندوں نے گن لیا سب کچھ
اب الٰہی! حساب مت لیجو۔۔۔
اور مجھ کو خراب مت کیجو میں خوبی یہ تھی کہ آگے وجہ بیان کر دی گئی ہے زیادتی کی۔ یعنی پہلے بندے خراب کر چکے ہیں اور خراب ہونے کی تاب نہیں۔ باقی اب کی جگہ تو کا استعمال اس باعث تھا کہ بندوں سے تقابل اور تضاد ظاہر ہو۔ تیرے بندوں نے گن لیا سب کچھ۔ تو الٰہی حساب مت لیجو!
اگر محولہ بالا توجیہات صاحب نظروں کو پسند نہیں آتیں تو بندہ بندگی کو حاضر ہے۔
راحیل فاروق — مئی 26، 2015 11:30 صبح
نیز اسی مصررع میں "خراب کرنا" ایک عام محآورہ ہے جو محاورۃً معنوی وسعت رکھتا ہے ۔۔۔یہاں واضح تر اور مخصوص لفظ یا ترکیب استعمال ہو نا بھی قرین ِلطافت لگتاہے۔
قائل کر لیا آپ کی بصیرت نے۔ کیسی نکتے کی بات پکڑی ہے!
نشان دہی کے لیے ممنون ہوں۔:in-love:
راحیل فاروق — مئی 26، 2015 11:35 صبح
البتہ لیجو کے ساتھ ’تم‘ کی ضمیر میرے خیال میں درست ہے، ’تو‘ کی نہیں۔
آپ شاید اہلِ زبان ہیں استاذی۔ ہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں؟
ہم نے تو اس قاعدے پر استعمال ہوتے سنا ہے۔ اب گمان ہو رہا ہے کہ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا!
اگر آپ کو یقین ہے یا کوئی سند میسر ہے تو بدل دوں؟
ابن رضا — مئی 26، 2015 11:41 صبح
آداب۔
عرصہ بیتا کسی سے اصلاح لیے ہوئے۔ ابھی بیٹھے بیٹھے ایک خیال آیا۔ اسے موزوں کیا ہے۔ اہلِ نظر کی خدمت میں پیش ہے۔ اصلاح کی درخواست ہے!
روزِمحشر عذاب مت دیجو
اور مجھ کو خراب مت کیجو
تیرے بندوں نے گن لیا سب کچھ
تُوالٰہی!حساب مت لیجو​

روزَ محشر عذاب تو نہیں دیا جائیگا البتہ حساب کتاب ضرور ہوگا یا توقیر و رسوائی کا محل ہے، عذاب کا مرحلہ قبر میں یا پھر جزا کے بعد
راحیل فاروق — مئی 26، 2015 1:45 شام
روزَ محشر عذاب تو نہیں دیا جائیگا البتہ حساب کتاب ضرور ہوگا یا توقیر و رسوائی کا محل ہے، عذاب کا مرحلہ قبر میں یا پھر جزا کے بعد
بجا فرمایا۔ عذاب کا محل تو محشر واقعی نہیں ہے۔ مگر چونکہ فیصلے کا محل ہے اس لیے لوگ یوں بولتے ہیں۔ مثلاً اسے پھانسی کی سزا دی گئی ہے۔ مراد ہے فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
الشفاء — مئی 27، 2015 8:33 صبح
اور مجھ کو خراب مت کیجو میں خوبی یہ تھی کہ آگے وجہ بیان کر دی گئی ہے زیادتی کی۔ یعنی پہلے بندے خراب کر چکے ہیں اور خراب ہونے کی تاب نہیں۔ باقی اب کی جگہ تو کا استعمال اس باعث تھا کہ بندوں سے تقابل اور تضاد ظاہر ہو۔ تیرے بندوں نے گن لیا سب کچھ۔ تو الٰہی حساب مت لیجو!
اگر محولہ بالا توجیہات صاحب نظروں کو پسند نہیں آتیں تو بندہ بندگی کو حاضر ہے۔

ارے حضور۔ ہم ان شاعرانہ موشگافیوں سے تہی داماں ہیں۔ آپ جیسے با علم لوگ ان رموز و اوقاف کے باے میں زیادہ جانتے ہوں گے۔۔
قطعہ میں خطاب چونکہ رب العالمین سے تھا ، تو دوسرا مصرع "اور مجھ کو خراب مت کیجو" میں یوں لگا کہ جیسے خراب کرنے کی ذمہ داری اُس عزوجل پر ڈالی جا رہی ہو۔ جو بعض طبیعتوں پر گراں گزر سکتی تھی۔ اس لئے ہم نے سید عاطف علی بھائی کا تجویز کردہ مصرع وہاں جڑ دیا۔۔۔:)
اور آخری مصرع میں محترم اعجاز عبید صاحب نے "تم اور تو" کی طرف توجہ دلائی تو ہم نے وہاں "اب" تجویز کر دیا کہ
تیرے بندوں نے گن لیا سب کچھ
اب الٰہی! حساب مت لیجو۔۔
ہمارے خیال میں اس طرح بھی ابلاغ مکمل ہی ہے۔۔۔ باقی آپ اور اساتذہ کرام ہی زیادہ بہتر سمجھتے ہیں، کیونکہ
ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں ۔۔۔:)
x boy — مئی 27، 2015 9:07 صبح
آداب۔
عرصہ بیتا کسی سے اصلاح لیے ہوئے۔ ابھی بیٹھے بیٹھے ایک خیال آیا۔ اسے موزوں کیا ہے۔ اہلِ نظر کی خدمت میں پیش ہے۔ اصلاح کی درخواست ہے!
روزِمحشر عذاب مت دیجو
اور مجھ کو خراب مت کیجو
تیرے بندوں نے گن لیا سب کچھ
تُوالٰہی!حساب مت لیجو​

سبحان اللہ
راحیل فاروق — جولائی 13، 2015 12:32 صبح
شکریہ، بھائی۔
نایاب — جولائی 13، 2015 12:48 صبح
سبحان اللہ
حق تعالی قبول فرمائے آمین
بہت خوب کہا ہے ۔
بہت دعائیں
راحیل فاروق — جولائی 13، 2015 9:09 شام
سبحان اللہ
حق تعالی قبول فرمائے آمین
بہت خوب کہا ہے ۔
بہت دعائیں
شکریہ، نایاب صاحبہ۔ آپ کے لیے بھی دعائیں!
لئیق احمد — جولائی 13، 2015 9:17 شام
نایاب صاحب
راحیل فاروق — جولائی 14، 2015 11:59 صبح
بجا۔:laugh1:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%88-%D8%A7%D9%84%D9%B0%DB%81%DB%8C-%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%A8-%D9%85%D8%AA-%D9%84%DB%8C%D8%AC%D9%88.82201/