اساتزہ سے ایک معاملے پرمشورہ درکار ہے۔ کیا ایک ہی شعر کے ایک مصرع میں ' تُو' اور دوسرے میں مجبورا ' تم' استعمال کیا جا سکتا ہے؟ ردیف کی وجہ سے مصرعِ ثانی میں 'تُو' استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ شکریہ۔
عمومی طور پر تو ( نثر ہو نظم) بیک وقت دونوں کا استعمال غیرفصیح ہی نظر آتا ہے لیکن آپ مثال دے کر بہتر انداز میں پوچھ سکتے ہیں کہ کیا اس طرح کا استعمال درست ہے یا نہیں۔ اس بارے میں مستند وضاحت تو الف عین اور محمد وارث جیسے اساتذہ کرام ہی کرسکتے ہیں کہ لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ ایک قادر الکلام شاعر ایک ہی شعر میں ایک ہی ”مخاطب“ کو بھی ”تو“ اور ”تم“ دونوں الفاظ سےبھی پکارنے کا قرینہ دکھلا سکتا ہے۔یعنی یہ ”ترکیب استعمال“ اور شاعر کی قدرت و مہارت پر منحصر ہے کہ وہ ایک ہی شعر میں ”تم“ اور ”تو“ دونوں کو کس طرح استعمال کر کے ”سند جواز“ عطا کرتا ہے۔ گو کہ یہ شعر آپ کے سوال کا جواب نہیں ہے لیکن اس میں بھی دونوں الفاظ کو استعمال کیا گیا ہے۔
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تم ہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے