تو جلتا اک چراغ روشنی کی خود مثال ہے

نور وجدان — فروری 6، 2016 2:48 شام
تو جلتا اک چراغ روشنی کی خود مثال ہے
جِلو میں تیرے رہنا زندگی کا بھی سوال ہے
مرا وجود تیرے عشق کی جو خانقاہ ہے
ہوں آئنہ جمال ،تیرے ُحسن کا کمال ہے
مقامِ طُور پر یہ جلوے نے کِیا ہے فاش راز
کہ اَز فنائے ہست سے ہی چلنا کیوں محال ہے
ِفشار میں َرواں تُو جان سے قرین یار ہے
جو دورِیاں ہیں درمیاں، فقط یہ اک خیال ہے
نگاہِ خضر مجھ پہ ہے کہ معجزہ مسیح ہے
عروجِ ذات میرا تیرے ساتھ کا کمال ہے
تری طلب کی جستجو میں جو اسیر ہوگئی
تجھے علم کہ کس پڑاؤ اوج یا زوال ہے
تو بحربے کنار ، خامشی ترا سلیقہ ہے
میں موج ہُوں رواں کہ شور نے کیا نڈھال ہے
نایاب — فروری 6، 2016 3:41 شام
واہہہہہہہہہ
بہت خوب کوشش ہے
بہت دعائیں
ِفشار میں َرواں تُو جان سے قرین یار ہے
جو دورِیاں ہیں درمیاں، فقط یہ اک خیال ہے
باباجی — فروری 6، 2016 3:46 شام
واہ واہ کمال
تری طلب کی جستجو کی میں تو ہوگئیاسیر
تجھے علم کہ کس پڑاؤ اوج یا زوال ہے
کامران چوہدری — فروری 6، 2016 3:48 شام
تو جلتا اک چراغ روشنی کی خود مثال ہے
جِلو میں تیرے رہنا زندگی کا بھی سوال ہے
مرا وجود تیرے عشق کی جو خانقاہ ہے
ہوں آئنہ جمال ،تیرے ُحسن کا کمال ہے
مقامِ طُور پر یہ جلوے نے کِیا ہے فاش راز
کہ اَز فنائے ہست میں ہی چلنا کیوں محال ہے
ِفشار میں َرواں تُو جان سے قرین یار ہے
جو دورِیاں ہیں درمیاں، فقط یہ اک خیال ہے
نگاہِ خضر مجھ پہ ہے کہ معجزہ مسیح ہے
عروجِ ذات میرا تیرے ساتھ کا کمال ہے
تری طلب کی جستجو کی میں تو ہوگئی اسیر
تجھے علم کہ کس پڑاؤ اوج یا زوال ہے
تو بحربے کنار ، خامشی ترا سلیقہ ہے
میں موج ہُوں رواں کہ شور نے کیا نڈھال ہے
کیا خوب کہا۔۔۔۔۔محترمہ سعدیہ نے شاعری میں بھی قدم جما لئے ہیں اور اعلی قسم کی شاعری تخلیق کرنے لگی ہیں۔۔۔۔۔داد قبول کیجئے
نور وجدان — فروری 6، 2016 4:32 شام
واہہہہہہہہہ
بہت خوب کوشش ہے
بہت دعائیں

شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔ جستجو خوب سے خوب تر کی ۔۔۔۔
واہ واہ کمال
تری طلب کی جستجو کی میں تو ہوگئیاسیر
تجھے علم کہ کس پڑاؤ اوج یا زوال ہے
مجھے لگتا کہ دل پر ٹھا لگا ہے ۔۔۔۔۔شکریہ کہ آپ کو کمال لگا :)
کیا خوب کہا۔۔۔۔۔محترمہ سعدیہ نے شاعری میں بھی قدم جما لئے ہیں اور اعلی قسم کی شاعری تخلیق کرنے لگی ہیں۔۔۔۔۔داد قبول کیجئے

یعنی کہ حد کردی ۔۔۔۔۔ اعلی قسم کا پتا نہیں ہے مگر آپ کے تبصرے نے مجھے سچ میں اعلی بنا دیا ہے ۔۔۔شکریہ بہت آپ کا
سارہ خان — فروری 6، 2016 4:35 شام
اتنی اچھی غزل لکھنے پر مبارک ہو ۔۔۔ :thumbsup2::thumbsup2::applause::applause:
نور وجدان — فروری 6، 2016 4:42 شام
اتنی اچھی غزل لکھنے پر مبارک ہو ۔۔۔ :thumbsup2::thumbsup2::applause::applause:
خیر مبارک ۔۔۔۔۔شکریہ جناب ۔۔۔:):)
عمر سیف — فروری 7، 2016 5:54 صبح
خوب
نور وجدان — فروری 7، 2016 6:45 صبح
شکریہ عمر بھائی
محمدظہیر — فروری 7، 2016 7:33 صبح
عمدہ شاعری کر رہی ہیں آج کل :p
سجاد علی — فروری 7، 2016 7:46 صبح
واھ
نور وجدان — فروری 7، 2016 10:38 صبح
عمدہ شاعری کر رہی ہیں آج کل :p
شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔ویسے پہلے والی شاعری کے بارے میں بتا کے تعریف اور بڑھا دی :p
نور وجدان — فروری 7، 2016 10:46 صبح
آداب !
الشفاء — فروری 7، 2016 11:07 صبح
جو دورِیاں ہیں درمیاں، فقط یہ اک خیال ہے
واہ۔ کیا کہنے۔۔۔:)
سعیدالرحمن سعید — فروری 7، 2016 1:20 شام
سعدی بہنا بہت خوبصورت موضوعات ہیں ۔ لیکن یہ غزل اس سے کہیں بہتر ، بہت بڑھیا بن سکتی ہے۔ کئی جگہوں پر بحر اور وزن پورا کرتے ہوئے ، جو، تو ،کہ، ہے جیسے الفاظ کا درست جگہوں پر استعمال نہیں کیا گیا۔ جو مصرعوں کی روانی کو متاثر بھی کر رہا ہے اور کئی جگہوں پر معنوی ابہام بھی پیدا کر رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر اسی غزل پر نظر ثانی اور الفاظ کی نشست و برخاست کر کے اسے ری ارینج کیا جائے تو بہت اچھی غزل بن سکتی ہے۔
سعیدالرحمن سعید — فروری 7، 2016 1:28 شام
سعدیہ بہنا ذرا توجہ کریں
مثال کے طور پر آپکا ایک مصرع یوں ہے۔
"مقامِ طُور پر یہ جلوے نے کِیا ہے فاش راز" ۔ لیکن یہ روان بھی نہیں اور الفاظ کی بے ترتیبی مصرع کےجمالیاتی حسن کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
لیکن اگر آپ الفاظ کو آگے پیچھے کر کے ، اسے کو ایسے کر دیا جائے ، "مقامِ طور پہ جلوے نے راز فاش کیا" ۔ تو مصرع صاف اور رواں تر ہو جائے گا
ایسے ہی اور مصرعوں پر بھی تھوڑی سی محنت کر کے انہیں نکھارا جا سکتا ہے۔​
نور وجدان — فروری 7، 2016 1:29 شام
سعدی بہنا بہت خوبصورت موضوعات ہیں ۔ لیکن یہ غزل اس سے کہیں بہتر ، بہت بڑھیا بن سکتی ہے۔ کئی جگہوں پر بحر اور وزن پورا کرتے ہوئے ، جو، تو ،کہ، ہے جیسے الفاظ کا درست جگہوں پر استعمال نہیں کیا گیا۔ جو مصرعوں کی روانی کو متاثر بھی کر رہا ہے اور کئی جگہوں پر معنوی ابہام بھی پیدا کر رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر اسی غزل پر نظر ثانی اور الفاظ کی نشست و برخاست کر کے اسے ری ارینج کیا جائے تو بہت اچھی غزل بن سکتی ہے۔

پہلے پہل تو نوازش و عنایت کہ اس کو پڑھا اور سمجھا اور مفید مشورے سے نواز ہے مگر چونکہ مجھے سیکھنا ہے اس لیے سوال کا جواب بحثیت بھائی آپ پر لازم ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے آپ درست کچھ نہیں کردیں ۔۔جہاں ابہام ہے اور کیوں ہے اور کس جگہ تعقیدی لفظی ہے اس کو بتادیں تاکہ میں اس کو دوبارہ ری ارینج کرسکوں ۔۔۔۔۔۔
نور وجدان — فروری 7، 2016 1:30 شام
لیکن اگر آپ الفاظ کو آگے پیچھے کر کے ، اسے کو ایسے کر دیا جائے ، "مقامِ طور پہ جلوے نے راز فاش کیا" ۔ تو مصرع صاف اور رواں تر ہو جائے گا

کیا۔۔۔۔۔۔۔فع کے طور باندھنا نہیں ۔یہاں فعو کے وزن پر بندھتا ہے ۔۔ اس لحاظ سے آپ کی تصیحح نے وزن متاثر کردیا ہے
سعیدالرحمن سعید — فروری 7، 2016 1:31 شام
پہلے پہل تو نوازش و عنایت کہ اس کو پڑھا اور سمجھا اور مفید مشورے سے نواز ہے مگر چونکہ مجھے سیکھنا ہے اس لیے سوال کا جواب بحثیت بھائی آپ پر لازم ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے آپ درست کچھ نہیں کردیں ۔۔جہاں ابہام ہے اور کیوں ہے اور کس جگہ تعقیدی لفظی ہے اس کو بتادیں تاکہ میں اس کو دوبارہ ری ارینج کرسکوں ۔۔۔۔۔۔
مثال کے طور پر آپکا ایک مصرع یوں ہے۔
"مقامِ طُور پر یہ جلوے نے کِیا ہے فاش راز" ۔
لیکن یہ رواں بھی نہیں اور الفاظ کی بے ترتیبی مصرع کےجمالیاتی حسن کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
لیکن اگر بحر کے انتخاب پر نظر ثانی کریں ، الفاظ کو آگے پیچھے کر کے ، اسے کو ایسے کر دیا جائے ، "
مقامِ طور پہ جلوے نے راز فاش کیا
" ۔ تو مصرع صاف اور رواں تر ہو جائے گا
ایسے ہی اور مصرعوں پر بھی تھوڑی سی محنت کر کے انہیں نکھارا جا سکتا ہے۔​
نور وجدان — فروری 7، 2016 1:31 شام
شکریہ جناب ۔۔۔۔۔:)
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%88-%D8%AC%D9%84%D8%AA%D8%A7-%D8%A7%DA%A9-%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA-%D8%B1%D9%88%D8%B4%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%AE%D9%88%D8%AF-%D9%85%D8%AB%D8%A7%D9%84-%DB%81%DB%92.87768/