تُم سے مِلنے کی آس رہتی ہے غزل نمبر187 شاعر امین شارؔق

امین شارق — جون 19، 2025 5:06 شام

دِید کی تیرے پِیاس رہتی ہے
تُم سے مِلنے کی آس رہتی ہے
بِن تیرے دِل کہیں نہیں لگتا
اور طبیعت اُداس رہتی ہے
لوگ کہتے ہیں جِس کو تنہائی
وہ میرے آس پاس رہتی ہے
ہائے اشرافیہ کے حلقوں میں
زندگی بے لباس رہتی ہے
آہ شارق دِلوں میں ہے کِینہ
اور زباں پر مِٹھاس رہتی ہے​
اے خان — جون 19، 2025 5:25 شام
واہ بہت عمدہ
اے خان — جون 19، 2025 5:26 شام
دِید کی تیرے پِیاس رہتی ہے
تُم سے مِلنے کی آس رہتی ہے
بِن تیرے دِل کہیں نہیں لگتا
اور طبیعت اُداس رہتی ہے
یاز یہ آپ کا ہوا
محمد عبدالرؤوف — جون 19، 2025 5:30 شام
بہت خوب شارق۔۔۔
یاز — جون 19، 2025 8:43 شام
بڑی نوازش جناب۔
سگریٹ نوشی آپ کی ہوئی
امین شارق — جون 19، 2025 9:25 شام
بہت شکریہ
امین شارق — جون 19، 2025 9:26 شام
بڑی نوازش رؤوف بھائی
صریر — جون 20، 2025 3:28 صبح

دِید کی تیرے پِیاس رہتی ہے
تُم سے مِلنے کی آس رہتی ہے
بِن تیرے دِل کہیں نہیں لگتا
اور طبیعت اُداس رہتی ہے
لوگ کہتے ہیں جِس کو تنہائی
وہ میرے آس پاس رہتی ہے
ہائے اشرافیہ کے حلقوں میں
زندگی بے لباس رہتی ہے
آہ شارق دِلوں میں ہے کِینہ
اور زباں پر مِٹھاس رہتی ہے​
واہ شارق بھائی، زبردست! دل کو چھو لینے والے اشعار!♥️کیسے ہیں مزاج؟ کہاں رہے اتنے دنوں؟؟
امین شارق — جون 20، 2025 4:39 صبح
واہ شارق بھائی، زبردست! دل کو چھو لینے والے اشعار!♥️کیسے ہیں مزاج؟ کہاں رہے اتنے دنوں؟؟
بہت شکریہ حوصلہ افزائی کےلئے صریر بھائی الحمداللہ میں ٹحیک ہوں آپ کیسے ہیں ۔ مصروفیت تھی کچھ وجوہات تھی حاضر نہ ہوسکا۔
ظہیراحمدظہیر — جون 20، 2025 10:12 شام
بہت خوب ، امین شارق !
بہت دنوں بعد نظر آئے آپ ۔ امید ہے سب خیر و عافیت ہوگی۔
شعر اچھے ہیں ۔ بس مطلع میں سے شترگربہ دور کردیں۔ دوسرے شعر میں تیرے کو ترے اور تیسرے میں میرے کو مرے کردیں۔
امین شارق — جون 20، 2025 10:55 شام
بہت خوب ، امین شارق !
بہت دنوں بعد نظر آئے آپ ۔ امید ہے سب خیر و عافیت ہوگی۔
شعر اچھے ہیں ۔ بس مطلع میں سے شترگربہ دور کردیں۔ دوسرے شعر میں تیرے کو ترے اور تیسرے میں میرے کو مرے کردیں۔
بہت شکریہ ظہیر سر امید ہے آپ بھی خیریت سے ہوں گے سر نوازش ہوگی اگر آپ مطلع میں رہنمائی فرمادیں۔
امین شارق — جون 20، 2025 11:25 شام
ظہیر سر کیا اب یہ صحیح ہوگئی ہے۔
دِید کی تیرے پِیاس رہتی ہے
تُجھ سے مِلنے کی آس رہتی ہے
بِن ترے دِل کہیں نہیں لگتا
اور طبیعت اُداس رہتی ہے
لوگ کہتے ہیں جِس کو تنہائی
وہ مرے آس پاس رہتی ہے
ہائے اشرافیہ کے حلقوں میں
زندگی بے لباس رہتی ہے
آہ شارق دِلوں میں ہے کِینہ
اور زباں پر مِٹھاس رہتی ہے
صریر — جون 21، 2025 8:17 صبح
بہت شکریہ حوصلہ افزائی کےلئے صریر بھائی الحمداللہ میں ٹحیک ہوں آپ کیسے ہیں ۔ مصروفیت تھی کچھ وجوہات تھی حاضر نہ ہوسکا۔
الحمد للہ ،‌ میں بھی خیریت سے ہوں۔ اللہ آپ کی مشکلیں آسان فرمائے ، آمین!
خورشیداحمدخورشید — جون 21، 2025 8:17 صبح
دِید کی تیرے پِیاس رہتی ہے ----------- اس کی نثر بنے گی تیرے دید کی پیاس رہتی ہے کیا یہ درست ہوگا؟
تُجھ سے مِلنے کی آس رہتی ہے
تجویز
دید تیری کی پیاس رہتی ہے
ظہیراحمدظہیر — جون 23، 2025 4:12 صبح
ظہیر سر کیا اب یہ صحیح ہوگئی ہے۔
دِید کی تیرے پِیاس رہتی ہے
تُجھ سے مِلنے کی آس رہتی ہے
بِن ترے دِل کہیں نہیں لگتا
اور طبیعت اُداس رہتی ہے
لوگ کہتے ہیں جِس کو تنہائی
وہ مرے آس پاس رہتی ہے
ہائے اشرافیہ کے حلقوں میں
زندگی بے لباس رہتی ہے
آہ شارق دِلوں میں ہے کِینہ
اور زباں پر مِٹھاس رہتی ہے
مطلع میں دید کی تجنیس درست کرلیں ۔ جیسا خورشید احمد نے کہا کہ دید مؤنث ہے ۔
دید تیری کی پیاس رہتی ہے
"دید تیری کی" اچھی اردو نہیں ہے ۔ اور یہ شعر کی زبان تو بالکل بھی نہیں ہے۔
اس سے بہتر یہ ہوگا : ترے جلووں کی پیاس رہتی ہے ۔۔ یا ۔۔۔ ترے جلوے کی پیاس رہتی ہے
امین شارق — جون 26، 2025 7:18 صبح
ترے جلووں کی پیاس رہتی ہے
تُجھ سے مِلنے کی آس رہتی ہے
بِن ترے دِل کہیں نہیں لگتا
اور طبیعت اُداس رہتی ہے
لوگ کہتے ہیں جِس کو تنہائی
وہ مرے آس پاس رہتی ہے
ہائے اشرافیہ کے حلقوں میں
زندگی بے لباس رہتی ہے
آہ شارق دِلوں میں ہے کِینہ
اور زباں پر مِٹھاس رہتی ہے
امین شارق — جون 27، 2025 8:40 شام
بہت شکریہ الف عین سر۔
اشرف علی — جون 30، 2025 12:17 شام
ترے جلووں کی پیاس رہتی ہے
تُجھ سے مِلنے کی آس رہتی ہے
بِن ترے دِل کہیں نہیں لگتا
اور طبیعت اُداس رہتی ہے
لوگ کہتے ہیں جِس کو تنہائی
وہ مرے آس پاس رہتی ہے
ہائے اشرافیہ کے حلقوں میں
زندگی بے لباس رہتی ہے
آہ شارق دِلوں میں ہے کِینہ
اور زباں پر مِٹھاس رہتی ہے
بہت خوب ، بھائی
یاسر شاہ — جولائی 6، 2025 11:36 صبح
ظہیر سر کیا اب یہ صحیح ہوگئی ہے۔
دِید کی تیرے پِیاس رہتی ہے
تُجھ سے مِلنے کی آس رہتی ہے
بِن ترے دِل کہیں نہیں لگتا
اور طبیعت اُداس رہتی ہے
لوگ کہتے ہیں جِس کو تنہائی
وہ مرے آس پاس رہتی ہے
ہائے اشرافیہ کے حلقوں میں
زندگی بے لباس رہتی ہے
آہ شارق دِلوں میں ہے کِینہ
اور زباں پر مِٹھاس رہتی ہے
خوب ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%8F%D9%85-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D9%90%D9%84%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%A2%D8%B3-%D8%B1%DB%81%D8%AA%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%86%D9%85%D8%A8%D8%B1187-%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1-%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86-%D8%B4%D8%A7%D8%B1%D8%94%D9%82.121626/