تُمھارے کوچے سے چلے بھی جائیں، تو کریں گے کیا؟

نور وجدان — دسمبر 6، 2018 12:07 شام
تمھارے کوچے سے چلے بھی جائیں، تو کریں گے کیا؟
گَلی گَلی نہ دیں تمھیں صَدائیں، تو کریں گے کیا؟
جلن تُمھاری ہے نصیب، لطفِ آشنائی میں
گزر کے خود سے تم تلک نہ آئیں، تو کریں گے کیا؟
فنائے ہست بعد دید کی طلب؟ یوں زندگی
میں مرتے مرتے مَر ہی گر نہ پائیں؟ تو کریں گے کیا؟
جِگر کے زخموں کا علاج ہوتا ہے؟ کِدھر، کَہاں؟
مسیحا سے ہی مل اگر نہ پائیں، تو کریں گے کیا؟
دِکھے ہو چار سُو تمھی، نہیں گماں میں کوئی اور
خیال میں نہ زندگی بِتائیں، تو کریں گے کیا؟
مہک تُمھاری بِکھری ہے چہار سو، کہ کاخِ دل
میں شمع کو ہی ڈھونڈنے نہ پائیں، تو کریں گے کیا؟
ادب کا یہ مقام ہے کہ روشنی جلو میں ہے
طواف میں یہ پر بھی جلتے جائیں، تو کریں گے کیا؟
فاخر رضا — دسمبر 6، 2018 12:20 شام
کیا اسے پڑھ کر سنا سکتی ہیں
محمد تابش صدیقی — دسمبر 6، 2018 1:19 شام
کیا اسے پڑھ کر سنا سکتی ہیں
مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن
منیب الف — دسمبر 6، 2018 3:27 شام
خوبصورت پیرایۂ اظہار ہے، ما شاء اللہ!
فنائے ہست بعد دید کی طلب؟ یوں زندگی
میں مرتے مرتے مَر ہی گر نہ پائیں؟ تو کریں گے کیا؟
مہک تُمھاری بِکھری ہے چار سو، کہ کاخِ دل
میں شمع کو ہی ڈھونڈنے نہ پائیں، تو کریں گے کیا؟
بعض اساتذہ دونوں مصرعے اس طرح ملانے کو معائب سخن میں داخل کرتے ہیں،
لیکن مجھے تو اچھے لگے!
محمد تابش صدیقی — دسمبر 6، 2018 3:58 شام
مہک تُمھاری بِکھری ہے چار سو، کہ کاخِ دل
چہار سو
نور وجدان — دسمبر 7، 2018 8:17 صبح
کیا اسے پڑھ کر سنا سکتی ہیں
آج تک پڑھا نہیں ہے، کوشش کی جاسکتی ہے مگر:)
نور وجدان — دسمبر 7، 2018 8:19 صبح
خوبصورت پیرایۂ اظہار ہے، ما شاء اللہ!
بعض اساتذہ دونوں مصرعے اس طرح ملانے کو معائب سخن میں داخل کرتے ہیں،
لیکن مجھے تو اچھے لگے!
اکثر اسطرح کا اظہار کثرت سے دیکھا ہے مگر میرے علم میں اضافہ ہوا کہ یہ معائب سخن ہے، کوئی تجویز ؟ بہت شکریہ آپ کا
نور وجدان — دسمبر 7، 2018 8:20 صبح
شکریہ تابش بھائی
فاخر رضا — دسمبر 7، 2018 8:37 صبح
مفاعلن مفاعلن مفاعلن مفاعلن
کسی مشہور غزل کا مصرعہ لکھ دیں. بہت نوازش ہوگی
محمد تابش صدیقی — دسمبر 7، 2018 9:05 صبح
کسی مشہور غزل کا مصرعہ لکھ دیں. بہت نوازش ہوگی
مشہور غزل تو کوئی ذہن میں نہیں۔ ناصر کاظمی کی ایک غزل ملی ہے۔
دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا
فلسفی — دسمبر 7، 2018 10:16 صبح
محترم اس شعر میں "دوپہر" کو فاعلن کے وزن پر باندھا گیا ہے شاید۔ کیا یہ درست ہے؟ یا میں غلط سمجھا ہوں۔
یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں
اب آئنے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا
محمد تابش صدیقی — دسمبر 7، 2018 10:57 صبح
محترم اس شعر میں "دوپہر" کو فاعلن کے وزن پر باندھا گیا ہے شاید۔ کیا یہ درست ہے؟ یا میں غلط سمجھا ہوں۔
یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں
اب آئنے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا
جی۔ یہ درست ہے۔
محمد وارث — دسمبر 7، 2018 11:08 صبح
کسی مشہور غزل کا مصرعہ لکھ دیں. بہت نوازش ہوگی
آپ کے لیے بالخصوص، حفیظ جالندھری مرحوم کی مخمس کا ایک بند (اسی بحر میں):
لباس ہے پھٹا ہوا، غُبار میں اٹا ہوا
تمام جسمِ نازنیں، چھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہ سوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
فلسفی — دسمبر 7، 2018 11:10 صبح
کیا لفظ "دوپہر" کو فاعلن اور مفعول دونوں طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
محمد وارث — دسمبر 7، 2018 11:11 صبح
محترم اس شعر میں "دوپہر" کو فاعلن کے وزن پر باندھا گیا ہے شاید۔ کیا یہ درست ہے؟ یا میں غلط سمجھا ہوں۔
یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں
اب آئنے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا
دوپہر کا صحیح وزن فاعلن ہی ہے، دیکھیے حسرت موہانی:
دوپہر کی دھوپ میں میرے بُلانے کے لیے
وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
محمد تابش صدیقی — دسمبر 7، 2018 11:13 صبح
کیا لفظ "دوپہر" کو فاعلن اور مفعول دونوں طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
صرف فاعلن
فلسفی — دسمبر 7، 2018 11:20 صبح
دوپہر کا صحیح وزن فاعلن ہی ہے، دیکھیے حسرت موہانی:
دوپہر کی دھوپ میں میرے بُلانے کے لیے
وہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے


بہت شکریہ۔ کچھ اپنی کم علمی تھی اور پھر عروض کی ویب سائٹ پر بھی وزن مفعول دکھا رہا تھا اس لیے گڑبڑا گیا تھا۔ وضاحت کے لیے آپ حضرات کا شکریہ۔
محمد وارث — دسمبر 7، 2018 12:01 شام
بہت شکریہ۔ کچھ اپنی کم علمی تھی اور پھر عروض کی ویب سائٹ پر بھی وزن مفعول دکھا رہا تھا اس لیے گڑبڑا گیا تھا۔ وضاحت کے لیے آپ حضرات کا شکریہ۔
جی عروض ویب سائٹ پر اگر کوئی شعر ہے تو یہاں بھی پوسٹ کر دیں تا کہ علم ہو سکے ویسے علمی اردو لغت میں واضح طور پر پہر کا تلفظ پَہَِر لکھا ہے سو دو پہر فاعلن ہوگا، مفعول کے لیے کسی استاد کے شعر کی سند چاہیئے جس میں پہر فاع یا دوپہر مفعول باندھا گیا ہو۔
فلسفی — دسمبر 7، 2018 12:05 شام
جی عروض ویب سائٹ پر اگر کوئی شعر تو یہاں بھی پوسٹ کر دیں تا کہ علم ہو سکے ویسے علمی اردو لغت میں واضح طور پر پہر کا تلفظ پَہَِر لکھا ہے سو دو پہر فاعلن ہوگا، مفعول کے لیے کسی استاد کے شعر کی سند چاہیئے جس میں پہر فاع یا دوپہر مفعول باندھا گیا ہو۔
سر میرے غلط تلفظ کی وجہ سے مجھے مذکورہ شعر پڑھنے میں مشکل ہو رہی تھی اس لیے اس شعر کو عروض کی ویب سائٹ میں اصلاح کے لنک سے جانچا تھا اس میں دوپہر مکمل لفظ کا وزن مفعول دکھا رہا ہے۔
فاخر رضا — دسمبر 7، 2018 12:53 شام
آپ کے لیے بالخصوص، حفیظ جالندھری مرحوم کی مخمس کا ایک بند (اسی بحر میں):
لباس ہے پھٹا ہوا، غُبار میں اٹا ہوا
تمام جسمِ نازنیں، چھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہ سوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
جزاک اللہ میرے پیارے بھائی
خدا آپ کو اور فیملی کو ہمیشہ خوش رکھے اور کوئی غم نہ دے سوائے غم حسین کے
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D9%8F%D9%85%DA%BE%D8%A7%D8%B1%DB%92-%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%92-%D8%B3%DB%92-%DA%86%D9%84%DB%92-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA%D8%8C-%D8%AA%D9%88-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92-%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%9F.104558/