تیر آخر کمان سے نکلا.۔۔۔ ۔۔۔۔۔ غزل اصلاح کے لئے

کاشف اسرار احمد — جولائی 1، 2016 6:35 صبح
ایک غزل اصلاح اور تبصرے کے لئے پیش کر رہا ہوں.
استاد محترم جناب الف عین سر سے اصلاح کی درخواست ہے.
مطلع کا پہلا مصرع جناب فارس کی غزل سے ہے.
احباب سے گزارش ہے کہ اپنی رائے سے ضرور نوازیں. بندہ منتظر ہے!
فاعلاتن مفاعلن فعلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
×××××××××××××××××××××××××××××
"ضبط کے امتحان سے نکلا"
تیر آخر کمان سے نکلا
کتنے مبہم نشان سے نکلا
اک چھپا در مکان سے نکلا
پڑھنے والی کے دل کا شہزادہ
اُس پری داستان سے نکلا
رات شبنم نے آہ و زاری کی
پر یہ آنسو چٹان سے نکلا
مختصر وصل کا زمانہ بھی
ہجر کے خاندان سے نکلا
اس کی پیہم جفا کے بدلے میں
شکریہ ہی زبان سے نکلا
رنگ کے ساتھ جلد بھی بدلی
بڑھ کے وہم و گمان سے نکلا
میں روایت شکن ہمیشہ کا
گھر کے امن و امان سے نکلا
دور سیارگاں کا سنّاٹا
صبح پہلی اذان سے نکلا
نام بچوں کا جب لیا کاشف
"خوش رہو تم!"، زبان سے نکلا
سیّد کاشف
××××××××××××××××××××××××××××××
حسن محمود جماعتی — جولائی 1، 2016 7:13 صبح
بہت خوب کاشف بھائی۔ حسن اتفاق سے کچھ روز پہلے چند مصرعے ترتیب پائے۔ سب سے پہلا مصرعہ اور شعر کچھ یوں تھا۔۔
بات کھل کر جو آج کہہ دی ہے
تیر سارے کمان سے نکلے۔۔۔
اکمل زیدی — جولائی 1، 2016 7:53 صبح
رات شبنم نے آہ و زاری کی
پر یہ آنسو چٹان سے نکلا
واہ کیا استعارہ ہے . . .
باقی اوو ر آل گڈ ہے
الف عین — جولائی 1، 2016 11:34 صبح
اچھی غزل ہے ماشاء اللہ۔
کتنے مبہم نشان سے نکلا
اک چھپا در مکان سے نکلا
واضح نہیں۔

رنگ کے ساتھ جلد بھی بدلی
بڑھ کے وہم و گمان سے نکلا
یہ بھی واضح نہیں۔

نام بچوں کا جب لیا کاشف
"خوش رہو تم!"، زبان سے نکلا
یہ"تم: کہاں سے آ گیا۔ بچوں کا نام تو لینے والا کوئی اور تھا یا بچے ہی تھے؟
باقی درست بلکہ بہت اچھی غزل ہے۔
کاشف اسرار احمد — جولائی 1، 2016 7:59 شام
شکریہ استاد محترم جناب الف عین سر
میں سمجھ نہیں پایا کہ ان اشعار میں کس ابہام کی جانب اشارہ ہے ؟
رنگ کے ساتھ جلد بھی بدلی
بڑھ کے وہم و گمان سے نکلا
نام بچوں کا جب لیا کاشف
خوش رہو تم زبان سے نکلا

رہنمائی فرمائیں.
چند اشعار اور اس غزل میں شامل کر رہا ہوں. آپ سے گزارش ہے کہ ان کو بھی ایک بار اصلاح کی نظر سے دیکھ لیں.
رفعتِ آسمان کا سچ بھی
میری اونچی اڑان سے نکلا
جب عمارت کی نیو رکھی گئی
تب کا لمحہ تکان سے نکلا
سارے رشتوں کو آزما کر میں
جھوٹ کے درمیان سے نکلا

جزاک اللہ
الف عین — جولائی 2، 2016 7:36 صبح
نئے اشعار درست ہیں۔
جب شعر ہی سمجھ میں نہیں آ سکا تو یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ کس ابہام کی طرف اشارہ ہے؟
بچوں والے شعر میں صیغے پر غور کرو۔
شاہد شاہنواز — جولائی 2، 2016 8:48 صبح
رنگ کے ساتھ جلد بھی بدلی
بڑھ کے وہم و گمان سے نکلا

۔۔ یہاں ایک مصرع دوسرے کے ساتھ مربوط نہیں ہوتا۔ اس شعر سے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ شاعر کہنا کیا چاہتا ہے۔ یہاں آپ تو مجھے بتا سکتے ہیں کہ مطلب کیا تھا، لیکن لطف تب ہے جب شعر اپنا مدعا خود واضح کرتا ہو۔
نام بچوں کا جب لیا کاشف
خوش رہو تم زبان سے نکلا
۔۔۔ اس شعر کے دوسرے مصرعے سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ "خوش رہو تم" کے الفاظ کس سے کہے جا رہے ہیں۔ خود شاعر سے یا بچوں سے؟
کاشف اسرار احمد — جولائی 2، 2016 8:54 صبح
نئے اشعار درست ہیں۔
جب شعر ہی سمجھ میں نہیں آ سکا تو یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ کس ابہام کی طرف اشارہ ہے؟
بچوں والے شعر میں صیغے پر غور کرو۔
شکریہ سر۔
نوازش جناب کی۔
کاشف اسرار احمد — جولائی 2، 2016 8:56 صبح
رنگ کے ساتھ جلد بھی بدلی
بڑھ کے وہم و گمان سے نکلا

۔۔ یہاں ایک مصرع دوسرے کے ساتھ مربوط نہیں ہوتا۔ اس شعر سے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ شاعر کہنا کیا چاہتا ہے۔ یہاں آپ تو مجھے بتا سکتے ہیں کہ مطلب کیا تھا، لیکن لطف تب ہے جب شعر اپنا مدعا خود واضح کرتا ہو۔
نام بچوں کا جب لیا کاشف
خوش رہو تم زبان سے نکلا
۔۔۔ اس شعر کے دوسرے مصرعے سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ "خوش رہو تم" کے الفاظ کس سے کہے جا رہے ہیں۔ خود شاعر سے یا بچوں سے؟
بہت بہت شکریہ شاہنواز بھائی۔
ان اشعار پر دوبارہ غور کرتا ہوں۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے۔
جزاک اللہ۔
کاشف اسرار احمد — جولائی 2، 2016 10:23 شام
استاد محترم مکمل غزل حاضر ہے. حسنِ مطلع اور ایک شعر حذف کر رہا ہوں. دو نئے اشعار بھی شامل کئے ہیں.
غزل کے اشعار کی ترتیب بھی از سر نو کی ہے.
××××××××××××××××××××
"ضبط کے امتحان سے نکلا"
تیر آخر کمان سے نکلا
اس کی پیہم جفا کے بدلے میں
شکریہ ہی زبان سے نکلا
پڑھنے والی کے دل کا شہزادہ
اُس پری داستان سے نکلا
رات شبنم نے آہ و زاری کی
پر یہ آنسو چٹان سے نکلا
مختصر وصل کا زمانہ بھی
ہجر کے خاندان سے نکلا
میں روایت شکن ہمیشہ کا
گھر کے امن و امان سے نکلا
جب عمارت کی نیو رکھی گئی
تب کا لمحہ تکان سے نکلا
رفعتِ آسمان کا سچ بھی
میری اونچی اڑان سے نکلا
دور سیارگاں کا سنّاٹا
صبح پہلی اذان سے نکلا
یاد بچوں کو جب کیا کاشف
"خوش رہو تم!"، زبان سے نکلا

××××××××××××××××××××
الف عین — جولائی 3، 2016 7:43 صبح
ہاں۔اب مکمل درست ہو گئی ہے غزل۔ بچے بھی خوش ہو گئے ہیں!!
کاشف اسرار احمد — جولائی 3، 2016 5:29 شام
شکریہ استاد محترم !!
محمد امین — جولائی 5، 2016 5:12 شام
بہت اچھی غزل ہے کاشف بھائی۔۔۔۔ اللہ کرے زورِ سخن اور زیادہ
کاشف اسرار احمد — جولائی 5، 2016 6:48 شام
بہت اچھی غزل ہے کاشف بھائی۔۔۔۔ اللہ کرے زورِ سخن اور زیادہ
شکریہ جناب !
سید اسد معروف — جولائی 11، 2016 6:19 صبح
زبر دست۔بہت عمدہ۔
کاشف اسرار احمد — جولائی 11، 2016 2:24 شام
نوازش !!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D8%B1-%D8%A2%D8%AE%D8%B1-%DA%A9%D9%85%D8%A7%D9%86-%D8%B3%DB%92-%D9%86%DA%A9%D9%84%D8%A7-%DB%94%DB%94%DB%94-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92.90747/