تیرگی میں جل رہے ہیں خواب سارے

احسن مرزا — نومبر 13، 2012 7:40 شام
السلام و علیکم! ایک غزل محفل میں موجود احباب کے خدمت میں بغرضِ اصلاح حاضر ہے
تیرگی میں جل رہے ہیں خواب سارے​
ٹمٹماتے ہیں مری حسرت کے تارے​
ہم نے اکثر، اک جلا کر شمع تیری​
بس پتنگے حسرتِ دوراں کے مارے​
شاعری خونَ جگر سے ہورہی ہے​
چل پڑے جب سے جگر پر غم کے آرے​
کرب کی سولی پہ لٹکی ہے محبت​
اب بھی زندہ ہے تو حسرت کے سہارے​
جب ہوا تیری وفائوں کی چلے گی​
پھر ہی چٹخیں گے محبت سے شرارے​
کھول رکھی ہے لحد دل کی کبھی سے​
اب کوئی آکر نئی حسرت اتارے​
دل میں خیمے لگ گئے تنہائیوں کے​
(کون آنکھوں میں بسی دنیا سنوارے)​
کس طرح سے غم منایا جائے احسن​
اور کیسے، شب کوئی رو کر گزارے​
الف عین — نومبر 14، 2012 10:54 صبح
اچھی غزل ہے، ماشاء اللہ بہت کم ضرورت ہے اصلاح کی۔انشاء اللہ بعد میں مشورے دیتا ہوں۔
احسن مرزا — نومبر 14، 2012 11:59 صبح
محترم مجھے انتظار رہے گا۔ ہمت افزائی پر بھی ممنون ہوں بہت!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DA%AF%DB%8C-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D9%84-%D8%B1%DB%81%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D8%B3%D8%A7%D8%B1%DB%92.56317/