تیری الفت کی قسم تجھ سے محبّت کی ہے

ارشد چوہدری — مئی 21، 2022 6:02 شام
الف عین
محمّد احسن سمیع :راحل:
عظیم
سید عاطف علی
صابرہ امین
---------------
تیری الفت کی قسم تجھ سے محبّت کی ہے
تجھ کو چاہیں گے سدا ہم نے یہ نیّت کی ہے
-----------
ہے خبر ہم کو زمانہ ہے مخالف اپنا
اس لئے ہم نے زمانے سے بغاوت کی ہے
--------------
لوگ کہتے ہیں ترا پیار ہے جھوٹا سپنا
کیا کریں دل نے مگر تیری حمایت کی ہے
------------
مطمئن دل ہے ہمارا تو محبّت کر کے
ہم محبّت کو سمجھتے ہیں عبادت کی ہے
-----------
بھولنا تجھ کو نہیں اب تو ہمارے بس میں
تجھ کو پانے کے لئے ہم نے ریاضت کی ہے
---------
بد گمانی ہے اگر دل میں تمہارے کوئی
اس کو سمجھو کہ یہ دنیا نے شرارت کی ہے
-----------
وصل حاصل ہے ہمیں آج تو نعمت سمجھو
اس کو سمجھو کہ خدا نے یہ عنایت کی ہے
------------
بد نگاہی ہے تری آج بھی عادت ارشد
اس لئے پیار سے اس نے یہ شکایت کی ہے
----------
الف عین — مئی 22، 2022 6:14 صبح
درست ہے یہ غزل
مطمئن دل ہے ہمارا تو محبّت کر کے
ہم محبّت کو سمجھتے ہیں عبادت کی ہے
محبت لفظ کو دہرانے کی بجائے
عشق کو ہم یہ سمجھتے ہیں عبادت کی ہے
یا
عشق کرتے ہیں، سمجھتے ہیں، عبادت کی ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%81%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D9%82%D8%B3%D9%85-%D8%AA%D8%AC%DA%BE-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%AD%D8%A8%D9%91%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%DB%81%DB%92.118468/