تیرے سبھی غموں کو اپنے ہی غم بنا لوں----برائے اصلاح

ارشد چوہدری — نومبر 14، 2019 1:32 صبح
الف عین
عظیم
@خلیل ارحمن
@سیّد عاطف علی
-----------
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن
-----------
تیرے سبھی غموں کو اپنے ہی غم بنا لوں
تیری خوشی کی خاطر دل میں انہیں چھپا لوں
-----------
آئے ہو میرے گھر میں میری ہے خوش نصیبی
آنگن کو آج اپنے پھولوں سے میں سجا لوں
----------
" پلکوں پہ تم کو اپنی گر ہوسکے سجالوں"
---------------
تیری یہ ہم نشینی میرے لئے اہم ہے
دل چاہتا ہے میرا سب سے تجھے چھپا لوں
----------------
آنسو کبھی نہ آئیں آنکھوں میں اب تمہاری
کانٹے سبھی تمہاری راہوں کے میں اٹھا لوں
--------------
دونوں کی ایک منزل تم ہمسفر ہو میرے
جو بوجھ ہو تمہارا کاندھوں پہ میں اٹھا لوں
--------------------
دونوں کے دل ملے ہیں اب غیر تو نہیں ہم
پہلو میں آ کے بیٹھو یوں پیار کا مزا لوں
---------------
ارشد کے دل میں آیا تصویر کو تمہاری
سو مرتبہ میں چوموں ، سینے سے پھر لگا لوں
--------------
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 14، 2019 1:47 صبح
آئے ہو میرے گھر میں میری ہے خوش نصیبی
پلکوں پہ تجھ کو اپنی جو ہو سکے بٹھا لوں
توجہ فرمائیے! اس شعر میں بھی شُتر گربہ در آیا ہے۔
ارشد چوہدری — نومبر 14، 2019 2:51 صبح
خلیل بھائی میں چاہتا تھا استاد جی سے پہلے آپ دیکھ لیں اچھا ہوا آپ نے چیک کر لیا
اگر پلکوں پہ تجھ کی بجائے (تم کو ) کردوں تو کیا ٹھیک ہو جائے گا
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 14، 2019 3:02 صبح
خلیل بھائی میں چاہتا تھا استاد جی سے پہلے آپ دیکھ لیں اچھا ہوا آپ نے چیک کر لیا
اگر پلکوں پہ تجھ کی بجائے (تم کو ) کردوں تو کیا ٹھیک ہو جائے گا
جی بہتر ہوجائے گا۔
ارشد چوہدری — نومبر 14، 2019 3:04 صبح
اسی شعر کا ایک متبادل مصرع بھی لکھا ہے ،دیکھیں وہ کیسا ہے
محمد خلیل الرحمٰن — نومبر 14، 2019 3:08 صبح
" پلکوں پہ تم کو اپنی گر ہوسکے سجالوں"
عمران سرگانی — نومبر 14، 2019 5:48 صبح
پہلا مصرعہ
ہر ایک غم کو تیرے اپنا میں غم بنا لوں
یا
تیرے ہرایک غم کو اپنا میں غم بنا لوں
عمران سرگانی — نومبر 14، 2019 5:54 صبح
باقی مصرعے بھی الفاظ کے ترتیب تبدیل کر کے بہتر کیے جا سکتے ہیں
الف عین — نومبر 14، 2019 6:14 صبح
تیرے سبھی غموں کو اپنے ہی غم بنا لوں
تیری خوشی کی خاطر دل میں انہیں چھپا لوں
----------- عمران کا مراسلہ دیکھنے سے پہلے انہیں سطور پر سوچ رہا تھا
تیرے ہر ایک غم کو میں اپنا غم بنا لوں
بہتر ہو گا
آئے ہو میرے گھر میں میری ہے خوش نصیبی
آنگن کو آج اپنے پھولوں سے میں سجا لوں
---------- 'تم آئے میرے گھر میں، جی چاہتا ہے میرا
بہتد گرہ ہو گی
" پلکوں پہ تم کو اپنی گر ہوسکے سجالوں"
--------------- بیکار مصرع ہے، محبوب کیا مکھی ہے؟
تیری یہ ہم نشینی میرے لئے اہم ہے
دل چاہتا ہے میرا سب سے تجھے چھپا لوں
---------------- دو لخت لگتا ہے
یہ تیری ہم نشینی.... میں روانی بہتر ہے
آنسو کبھی نہ آئیں آنکھوں میں اب تمہاری
کانٹے سبھی تمہاری راہوں کے میں اٹھا لوں
-------------- دوسرے مصرع کی روانی بہتر کی جا سکتی ہے
دونوں کی ایک منزل تم ہمسفر ہو میرے
جو بوجھ ہو تمہارا کاندھوں پہ میں اٹھا لوں
-------------------- دو لختی اس میں بھی محسوس ہوتی ہے
محبوب کو کندھوں پر بٹھانا ہو
دونوں کے دل ملے ہیں اب غیر تو نہیں ہم
پہلو میں آ کے بیٹھو یوں پیار کا مزا لوں
--------------- دل مل چکے ہیں اپنے.... بہتر ہو گا، محض ملے ہیں' سے بات سمجھ میں نہیں آتی
ارشد کے دل میں آیا تصویر کو تمہاری
سو مرتبہ میں چوموں ، سینے سے پھر لگا لوں
----------درست
ارشد چوہدری — نومبر 15، 2019 3:04 صبح
الف عین
-----------------
تیرے ہر ایک غم کو میں اپنا غم بنا لوں
تیری خوشی کی خاطر دل میں انہیں چھپا لوں
-----------
تم آئے میرے گھر میں ، جی چاہتا ہے میرا
آنگن کو آج اپنے پھولوں سے میں سجا لوں
--------
یہ تیری ہم نشینی میرے لئے اہم ہے
دل چاہتا ہے میرا سب سے تجھے چھپا لوں
----------------یا
جی چاہتا ہے میرا اپنا تجھے بنا لوں
-----------------
آنسو کبھی نہ آئیں آنکھوں میں اب تمہاری
جو راستے میں آئیں کانٹے سبھی اٹھا لوں
--------------
دونوں کی ایک منزل تم ہمسفر ہو میرے
کاندھوں پہ تم کو اپنے جو ہو سکے اٹھا لوں
------------
مجھ پر ہوا ہے لازم تیرا خیال رکھنا
تاکہ تری وفا کو تیری خوشی سے پا لوں
-------------
دل مل چکے ہیں اپنے اب غیر تو نہیں ہم
پہلو میں آ کے بیٹھو یوں پیار کا مزا لوں
------------
ارشد کے دل میں آیا تصویر کو تمہاری
سو مرتبہ میں چوموں ، سینے سے پھر لگا لوں
----------درست
الف عین — نومبر 15، 2019 5:09 شام
یہ تیری ہم نشینی میرے لئے اہم ہے
دل چاہتا ہے میرا سب سے تجھے چھپا لوں
----------------یا
جی چاہتا ہے میرا اپنا تجھے بنا لوں
----------------- ہم نشینی کی اہمیت کو ثابت کرنے والا دوسرا مصرع ہونا چاہیے تب ہی ربط قائم ہو سکے گا
آنسو کبھی نہ آئیں آنکھوں میں اب تمہاری
جو راستے میں آئیں کانٹے سبھی اٹھا لوں
-------------- کانٹے کس کے راستے میں آئیں، یہ تو واضح ہوا ہی نہیں!
دونوں کی ایک منزل تم ہمسفر ہو میرے
کاندھوں پہ تم کو اپنے جو ہو سکے اٹھا لوں
------------ کندھوں کو تکلیف مت دیجیے اور شعر کو نکال دیجے
مجھ پر ہوا ہے لازم تیرا خیال رکھنا
تاکہ تری وفا کو تیری خوشی سے پا لوں
------------- یہ بھی سمجھ نہیں سکا
ارشد چوہدری — نومبر 15، 2019 10:28 شام
الف عین
(دوبارا معذرت کے ساتھ)
یہ تیری ہم نشینی میرے لئے اہم ہے
دل چاہتا ہے اس کو اب مستقل بنا لوں
--------------
آنسو کبھی نہ آئیں آنکھوں میں اب تمہاری
کانٹے سبھی تمہاری راہوں کے میں اٹھا لوں
------------یا
خوشیاں ہزار تیرے قدموں میں لا کے ڈالوں
----------
اچھا سفر کٹے گا ، دونوں کا اس طرح سے
تجھ کو اگر تُو مانے میں ہمسفر بنا لوں
---------------
تیرے ہے دم قدم سے دل کے جہاں میں رونق
گھر کو بھی کیوں نہ ایسے جنّت نما بنا لوں
-------------
الف عین — نومبر 16، 2019 4:57 صبح
پہلے دونوں شعر درست ہو گئے
اچھا سفر کٹے گا ، دونوں کا اس طرح سے
تجھ کو اگر تُو مانے میں ہمسفر بنا لوں
--------------- اس کو یوں لکھیں تو بہتر ہے
تجھ کو، اگر تُو مانے، میں ہمسفر بنا لوں
تیرے ہے دم قدم سے دل کے جہاں میں رونق
گھر کو بھی کیوں نہ ایسے جنّت نما بنا لوں
------------- پہلے مصرع میں 'ہے' کی جگہ روانی کے لیے درست نہیں
ہے تیرے دم قدم......
درست ہو گا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D8%B1%DB%92-%D8%B3%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%BA%D9%85%D9%88%DA%BA-%DA%A9%D9%88-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%DB%81%DB%8C-%D8%BA%D9%85-%D8%A8%D9%86%D8%A7-%D9%84%D9%88%DA%BA-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.109177/