تین اشعار کی آمد.

مزمل شیخ بسمل — ستمبر 28، 2012 11:40 صبح
کیا زندگی ہے زیست کا کوئی مزا بھی ہے
ہم بے حیا ہیں ایسے کیا کوئی جیابھی ہے
خود چارہ گر, مریض بھی خود, خود دوا بھی ہے
ہر سانس میرا اسکے اسیر رضا بھی ہے
بسمل بتوں کو دیکھ کر ایماں قوی ہوا
جو حسن بے بہا ہے وہ شان خدا بھی ہے.
احمد بلال — ستمبر 28، 2012 3:39 شام
بلا کی آمد ہے۔ کیا طبیعت پائی ہے۔
یہ بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ہے کیا ؟
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 28، 2012 7:22 شام
بلا کی آمد ہے۔ کیا طبیعت پائی ہے۔
یہ بحر مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف ہے کیا ؟

جی جناب یہ اخرب + مکفوف + محذوف ہی ہے۔ :)
بہت شکریہ پسندیدگی کے لئے۔
قرۃالعین اعوان — ستمبر 28، 2012 7:24 شام
واہ!
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 28، 2012 7:26 شام

شکریہ :)
ایم اے راجا — ستمبر 28، 2012 8:29 شام
بہت خوب، بسمل صاحب
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 28، 2012 8:37 شام
بہت خوب، بسمل صاحب
شکریہ جناب پسندیدگی کے لئے۔
الف عین — ستمبر 29، 2012 6:34 صبح
خوب۔ لیکن خود تین بار ایک ہی مصرع میں عجیب سا نہیں لگ رہا!
محمد وارث — ستمبر 29، 2012 7:32 صبح
مقطع بہت اچھا ہے۔
مطلع میں کیا کو کَ باندھنا مجھے تھوڑا سا گڑبڑ لگا ہے، کوئی مثال ہو تو ضرور دیجیے گا، میرے خیال میں اس کو سبب خفیف ہی باندھا جاتا ہے اور مزید الف نہیں گرایا جاتا۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 29، 2012 8:42 صبح
مقطع بہت اچھا ہے۔
مطلع میں کیا کو کَ باندھنا مجھے تھوڑا سا گڑبڑ لگا ہے، کوئی مثال ہو تو ضرور دیجیے گا، میرے خیال میں اس کو سبب خفیف ہی باندھا جاتا ہے اور مزید الف نہیں گرایا جاتا۔

جی وارث بھائی صحیح نشاندہی کردی ہے آپ نے۔
وارث بھائی اشعار جیسے تھے ویسے ہی پیش کردیے۔ سوچا آپ اور استاد جی جیسے سینئر حضرات کے ہوتے ہوئے کیسا غم۔ کیا کو یک حرفی باندھنا میرے علم میں بھی نہیں۔ اور اگر کسی نے باندھا بھی ہو تو نشاندہی کے بعد مجھے خود اچھا نہیں لگ رہا اپنے شعر میں کیا کیَ باندھنا۔ سو یہ غلط ہی ہے۔ :) اس ”کیا“ کو درمیان سے حذف کردیتا ہوں:
ہم بے حیا ہیں ایسے کوئی جیا بھی ہے
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 29، 2012 8:42 صبح
واہ ۔۔ بہت خوب میاں کمال کے اشعار ہیں۔۔ تکنیکی اصلاح تو جائے خود ہے ہی پر اشعار واقعی خوب خیالات کے حامل ہیں۔۔۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 29، 2012 8:46 صبح
خوب۔ لیکن خود تین بار ایک ہی مصرع میں عجیب سا نہیں لگ رہا!

استاد جی مجھے عجیب محسوس نہیں ہوا۔ یہ تکرار لفظی مجھے معیوب نہیں محسوس ہوئی۔ جیسے میرؔ:
درد ہی خود ہے خود دوا ہے عشق
شیخ کیا جانے تو کہ کیا ہے عشق
لیکن معیوب ہے تو ضرور تبدیلی کا منتظر
اگر آپ کچھ اصلاح کردیں تو ممنون۔
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 29، 2012 8:50 صبح
واہ ۔۔ بہت خوب میاں کمال کے اشعار ہیں۔۔ تکنیکی اصلاح تو جائے خود ہے ہی پر اشعار واقعی خوب خیالات کے حامل ہیں۔۔۔

آپ کی پسندیدگی ناچیز کے حق میں مسرت کا سامان کرتی ہے۔
شکریہ۔ شاد و آباد رہیں۔ :)
محمد بلال اعظم — ستمبر 29، 2012 8:51 صبح
واہ بسمل صاحب
آپ کے ہوتے ہوئے ہمارے اکثر مشہور اور بھدے شعراء کو اپنے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔ اشارہ کس کی طرف ہے آپ سمجھ تو گئے ہوں گے ہی۔
بسمل بتوں کو دیکھ کر ایماں قوی ہوا
جو حسن بے بہا ہے وہ شان خدا بھی ہے.​
کیا لاجواب مقطع ہے۔ سب سے زیادہ متاثر اسی شعر نے کیا۔
جو حسن بے بہا ہے وہ شان خدا بھی ہے.​
واہ واہ سبحان اللہ
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 29، 2012 9:18 صبح
واہ بسمل صاحب
آپ کے ہوتے ہوئے ہمارے اکثر مشہور اور بھدے شعراء کو اپنے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔ اشارہ کس کی طرف ہے آپ سمجھ تو گئے ہوں گے ہی۔
بسمل بتوں کو دیکھ کر ایماں قوی ہوا
جو حسن بے بہا ہے وہ شان خدا بھی ہے.​
کیا لاجواب مقطع ہے۔ سب سے زیادہ متاثر اسی شعر نے کیا۔
جو حسن بے بہا ہے وہ شان خدا بھی ہے.​
واہ واہ سبحان اللہ

شکریہ بلال. :)
دوست میں تو شاعر نہیں ہوں . بس کبھی کبھی کوئی ایک دو اشعار آجائیں تو ٹھیک ورنہ وہ روانی بھی نہیں اب طبیعت میں.
اور بھونڈے اور بھدے شاعروں میں تو سر فہرست میں خود ہوں.
ہاں مشہور نہیں ہوں :D
مہدی نقوی حجاز — ستمبر 29، 2012 9:46 صبح
واہ بسمل صاحب
آپ کے ہوتے ہوئے ہمارے اکثر مشہور اور بھدے شعراء کو اپنے مستقبل کی فکر کرنی چاہیے۔ اشارہ کس کی طرف ہے آپ سمجھ تو گئے ہوں گے ہی۔
بسمل بتوں کو دیکھ کر ایماں قوی ہوا​
جو حسن بے بہا ہے وہ شان خدا بھی ہے.​
کیا لاجواب مقطع ہے۔ سب سے زیادہ متاثر اسی شعر نے کیا۔
جو حسن بے بہا ہے وہ شان خدا بھی ہے.​
واہ واہ سبحان اللہ
میں بھی تو "ان" حضرت کے بارے بتائیں۔۔۔!!
سید ذیشان — ستمبر 29، 2012 9:49 صبح
بہت خوب بسمل بھائی خصوصاً یہ شعر تو بہت اچھا لگا:
بسمل بتوں کو دیکھ کر ایماں قوی ہوا​
جو حسن بے بہا ہے وہ شان خدا بھی ہے​
مزمل شیخ بسمل — ستمبر 29، 2012 9:51 صبح
بہت خوب بسمل بھائی خصوصاً یہ شعر تو بہت اچھا لگا:
بسمل بتوں کو دیکھ کر ایماں قوی ہوا​
جو حسن بے بہا ہے وہ شان خدا بھی ہے​
شکریہ بڑے بھائی. آپ کو پسند آیا میرے لئے اعزاز کی بات ہے :)
احمد بلال — ستمبر 29، 2012 10:07 صبح
جی وارث بھائی صحیح نشاندہی کردی ہے آپ نے۔
وارث بھائی اشعار جیسے تھے ویسے ہی پیش کردیے۔ سوچا آپ اور استاد جی جیسے سینئر حضرات کے ہوتے ہوئے کیسا غم۔ کیا کو یک حرفی باندھنا میرے علم میں بھی نہیں۔ اور اگر کسی نے باندھا بھی ہو تو نشاندہی کے بعد مجھے خود اچھا نہیں لگ رہا اپنے شعر میں کیا کیَ باندھنا۔ سو یہ غلط ہی ہے۔ :) اس ”کیا“ کو درمیان سے حذف کردیتا ہوں:
ہم بے حیا ہیں ایسے کوئی جیا بھی ہے
اب تو وزن کا خلا آ گیا ہے۔
اور مقطع کے پہلے مصرعے میں "کر" مجھے کھٹک رہا ہے۔ اس کی وضاحت کر دیں
احمد بلال — ستمبر 29، 2012 10:13 صبح
مطلع کے دوسرے مصرع کو اگر یوں کر دیا جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم بے حیا ہیں کیا کوئی ایسے جیا بھی ہے
صفحات: 1 2 3

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%DB%8C%D9%86-%D8%A7%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%A2%D9%85%D8%AF.54866/