جان حاضر ہے دوستی کے لیے ۔۔ برائے اصلاح ۔۔۔

شاہد شاہنواز — جنوری 24، 2014 9:34 شام
جان حاضر ہے دوستی کے لیے
زندگی ہے تری خوشی کے لیے
ہم تو زندہ ہیں موت کی خاطر
لوگ مرتے ہیں زندگی کے لیے
وہ جو در بند کرکے رکھتے ہیں
کھولتے ہیں کسی کسی کے لیے
اک نظر دیکھئے چراغوں کو
کیسے جلتے ہیں روشنی کے لیے
لکھ چکے اپنے غم کا افسانہ
اب قلم تھامیے سبھی کے لیے
ایک لمحے کو بولنےوالے
اب ہیں خاموش اک صدی کےلیے
شیرازخان — جنوری 24، 2014 9:37 شام
بہت اعلیٰ جناب۔۔۔۔!!
الف عین — جنوری 25، 2014 9:11 صبح
نہیں بھئی، ایک شعر بھی ایسا نہیں نکلا جسے قبول کیا جا سکے
شاہد شاہنواز — جنوری 25، 2014 11:48 صبح
نہیں بھئی، ایک شعر بھی ایسا نہیں نکلا جسے قبول کیا جا سکے
گویا پوری غزل ہی رد ہے۔۔۔ اس پر مزید بات نہ کی جائے؟
ابن رضا — جنوری 25، 2014 11:58 صبح
گویا پوری غزل ہی رد ہے۔۔۔ اس پر مزید بات نہ کی جائے؟
یقیناً آپ کی گزشتہ کاوشیں نسبتاً بدرجہا بہتر ہوں گی اور استادِ محترم سمجھتے ہوں گے کہ آپ کو گذشتہ سے پیوستہ ہو کر مزید عمودی سفر اختیار کرنا چاہیے۔ :)

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A7%D9%86-%D8%AD%D8%A7%D8%B6%D8%B1-%DB%81%DB%92-%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD-%DB%94%DB%94%DB%94.71499/