جب اسکی آنکھ سے ٹپکے کو تم نے سچ جانا

محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 17، 2011 7:58 شام
ایک غزل تصحیح کے لیے پیشِ خدمت ہے
غزل
جب اس کی آنکھ سے ٹپکے کو تم نے سچ جانا
تو پھر بتائو تمہیں سچ کی جستجو کیوں ہے
فریب کھائے ہووں کے نقوشِ پا ہیں یہ
انھی پہ چلیے تو منزل کی آرزو کیوں ہے
عذاب جھیل چکا ہوں زمانے بھر کے سب
یہی ہے عشق تو پھر اتنی ھاو ھو کیوں ہے
جو شہرِ ذات کی پہنائیوں میں ڈوب چکا
اسے نشے کے لیے حاجتِ سبو کیوں ہے
جنوں کی آخری منزل پہ آخرش پہنچے
خلیل اب تمہیں احساسِ رنگ و بو کیوں ہے
محمد خلیل الرحمٰن
الف عین — اپریل 18، 2011 6:56 شام
بہت خوب خلیل۔ غزل مکمل ہے اور اصلاح طلب نہیں۔ میں زبردستی کی اصلاح نہیں کرتا!!
البتہ
جو شہرِ ذات کی پہنائیوں میں ڈوب چکا
اسے نشے کے لیے حاجتِ سبو کیوں ہے
میری سمجھ سے بالا تر ہے۔ شہر کیوں نشہ کرنا چاہتا ہے، یہ سمجھ میں نہیں آیا۔
ایک کمی ہے۔۔ ایک مطلع اور مزید کہہ لو۔
محمود احمد غزنوی — اپریل 19، 2011 6:24 صبح
اپنی معلومات کیلئے پوچھ رہا ہوں کہ اس مصرح میں سب کی بجائے اگر سبھی استعمال کیا جائے تو بہتر ہے یا نہیں؟۔۔
عذاب جھیل چکا ہوں زمانے بھر کے سبھی
اور دوسری بات یہ کہ اس شعر :
جو شہر ِ ذات کی پہنائیوں میں ڈوب چکا
اسے نشے کے لیے حاجتِ سبو کیوں ہے
شہرِ ذات یعنی ذات کا شہر۔۔۔میرے خیال مین اگر اسے بحرِ ذات کردیا جائے تو دوسرے مصرح کے ساتھ زیادہ مطابقت ہوجائے گی۔۔۔
جو بحرِ ذات کی گہرائیوں میں ڈوب گیا
اسے نشے کیلئے حاجتِ سبو کیا ہے۔ ۔
دخل در معقولات کیلئے معذرت :)
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 19، 2011 7:11 صبح
شکریہ غزنوی بھائ
میں ابھی حوالے تلاش کر ہی رہا تھا کہ آپ نے مشکل آسان کردی۔
آپکی تجویز کردہ دونوں تبدیلیاں نہایت عمدہ ہیں۔
الف عین — اپریل 19، 2011 10:31 صبح
’سبھی‘ والا مشورہ پسند آیا محمود غزنوی کا، لیکن بحر ہو یا شہر، بات نہیں بنتی۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 21، 2011 5:44 صبح
پروین شاکر اپنے مجموعے خوشبو کے دیباچے ’’دریچہ گل سے‘‘ میں رقم طراز ہیں۔
.برس بیتے، گئی رات کے کسی ٹھہرے ہوئے سناٹے میں اس نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ اس پر اس کے اندر کی لڑکی کو منکشف کردے۔ مجھے یقین ہے، یہ سن کر اس کا خدا اس کی سادگی پر ضرور مسکرایا ہوگا! ﴿ کچی عمروں کی لڑکیاں نہیں جانتیں ، کہ آشوبِ آگہی سے بڑا عذاب زمین والوں پر آج تک نہیں اترا﴾۔ پر وہ اس کی بات مان گیا۔۔۔۔۔ اور اسے چاند کی تمنا کرنے کی عمر میں ذات کے شہر ِ ہزار در کا اسم عطا کردیا گیا۔
شہرِ ذات ۔۔۔۔ کہ جس کے سب دروازے اندر کی طرف کھلتے ہیں اور جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔
پروین شاکر کے چند اشعار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضبط کی شہر پناہوں کی مرے مالک! خیر
غم کا سیلاب اگر مجھ کو بہانے آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح
دستِ گل پھیلا ہوا ہے مرے آنچل کی طرح
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ تو شہرِ درد کا احوال آنکھوں نے کہا
اور کچھ گلیوں کی سفاکی تھکن پہ سج گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے
موسمِ گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
محمود احمد غزنوی — اپریل 21، 2011 6:31 صبح
صد ہزاراں شہرِ دل عطّار گشت
ماہنوز اندر خمِ یک کوچہ ایم۔ ۔ ۔​
رومی
محمد وارث — اپریل 21، 2011 6:34 صبح
خوب غزل ہے خلیل صاحب، واہ!
الف عین — اپریل 22، 2011 10:11 صبح
شہرِ ذات پر اعتراض نہیں ہے، اس کے نشے کی عادت پر تعجب ہے!!
پپو — اپریل 22، 2011 2:06 شام
کیا میں بھی یہاں کوئی غزل اصلاح کے لیے پیش کرسکتا ہوں ؟
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 23، 2011 5:44 صبح
خوب غزل ہے خلیل صاحب، واہ!
آداب وارث صاحب۔ آپ کی نوازش۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 23، 2011 5:50 صبح
کیا میں بھی یہاں کوئی غزل اصلاح کے لیے پیش کرسکتا ہوں ؟

جی ہاں جناب! یہ زمرہ ہے ہی آپ کے اور ہمارے لیے کہ ہم اپنی نظموں اور غزلوں کی اصلاح کرواسکیں۔ محترم اساتذہ کرام اسے ہر روز مانیٹر کرتے ہیں اور اصلاح فرماتے ہیں۔ بس یوں کیجیے کہ مندرجہ ذیل زمرے پر کلک کیجیے اور نیا مضمون شروع کرکے اسمیں اپنی منظوم کاوش پیش کردیجیے۔http://www.urduweb.org/mehfil/forumdisplay.php?37-اِصلاحِ-سخن
جزاک اللہ الخیر
محمد خلیل الرحمٰن
جاسمن — مارچ 16، 2016 3:43 شام
خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A8-%D8%A7%D8%B3%DA%A9%DB%8C-%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE-%D8%B3%DB%92-%D9%B9%D9%BE%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D9%88-%D8%AA%D9%85-%D9%86%DB%92-%D8%B3%DA%86-%D8%AC%D8%A7%D9%86%D8%A7.33694/