امین شارق — جون 14، 2022 11:16 شام
الف عین سر
یاسر شاہ
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
جب حسِیں پُر شباب ہوتے ہیں
عِشق والوں کا خواب ہوتے ہیں
میرے خوابوں مرے خیالوں میں
آپ ہی تو جناب ہوتے ہیں
یوں مہکتے ہیں عارضِ دلبر
جیسے کِھلتے گُلاب ہوتے ہیں
ہم نے روکا تھا عِشق کرنے سے
ہم سے ہی اِجتناب ہوتے ہیں
عاشقی میں نہیں مرا تیرا
عِشق میں کب حساب ہوتے ہیں
راہِ اُلفت میں سوچ کر آنا
عِشق میں اِضطراب ہوتے ہیں
ہِجر و فُرقت ہیں عِشق میں لازم
دشت میں تو سراب ہوتے ہیں
عِشق میں گر سکون لُٹ جائے
پھر کہاں دستیاب ہوتے ہیں
یہ محبت کے درد بھی شارؔق
زِندگی میں عذاب ہوتے ہیں
الف عین — جون 15، 2022 4:28 صبح
الف عین سر
یاسر شاہ
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
جب حسِیں پُر شباب ہوتے ہیں
عِشق والوں کا خواب ہوتے ہیں
ہوتے ہیں ردیف کے ساتھ اسم جمع ہونا چاہیے، یا اس کا شائبہ ہی ہو۔ خواب تو درست ہے لیکن "عشق والوں کے" ہونا تھا
میرے خوابوں مرے خیالوں میں
آپ ہی تو جناب ہوتے ہیں
درست
یوں مہکتے ہیں عارضِ دلبر
جیسے کِھلتے گُلاب ہوتے ہیں
درست
ہم نے روکا تھا عِشق کرنے سے
ہم سے ہی اِجتناب ہوتے ہیں
اجتناب جمع کے ساتھ درست نہیں
عاشقی میں نہیں مرا تیرا
عِشق میں کب حساب ہوتے ہیں
حساب بھی ہوتا ہے ہونا تھا، ہوتے ہیں نہیں
راہِ اُلفت میں سوچ کر آنا
عِشق میں اِضطراب ہوتے ہیں
یہ بھی وہی سقم
ہِجر و فُرقت ہیں عِشق میں لازم
دشت میں تو سراب ہوتے ہیں
درست
عِشق میں گر سکون لُٹ جائے
پھر کہاں دستیاب ہوتے ہیں
یہ بھی غلط
یہ محبت کے درد بھی شارؔق
زِندگی میں عذاب ہوتے ہیں
درست
امین شارق — جون 16، 2022 9:16 صبح
الف عین سر بہت نوازش اصلاح کے لئے،
اجتناب اور
حساب والے اشعار نکال دئے ہیں
اضطراب اور
دستیاب والے اشعار تبدیل کردئے ہیں۔
جب حسِیں پُر شباب ہوتے ہیں
عِشق والوں کے خواب ہوتے ہیں
وصل کے بعد ہِجر کے لمحے
باعثِ اِضطراب ہوتے ہیں
عِشق کے بعد لمحے فُرصت کے
اب کہاں دستیاب ہوتے ہیں
عمر شرجیل چوہدری — جون 16، 2022 12:47 شام
بہت خوب۔ البتہ چند غزل میں چند لفظوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے
امین شارق — جون 16، 2022 6:51 شام
شکریہ عمر صاحب۔۔
الف عین — جون 17، 2022 3:56 صبح
الف عین سر بہت نوازش اصلاح کے لئے،
اجتناب اور
حساب والے اشعار نکال دئے ہیں
اضطراب اور
دستیاب والے اشعار تبدیل کردئے ہیں۔
جب حسِیں پُر شباب ہوتے ہیں
عِشق والوں کے خواب ہوتے ہیں
وصل کے بعد ہِجر کے لمحے
باعثِ اِضطراب ہوتے ہیں
عِشق کے بعد لمحے فُرصت کے
اب کہاں دستیاب ہوتے ہیں
اب درست ہیں اشعار