جب لوگوں سے اچھی طرح پیش آتا ہوں

عظیم — جولائی 7، 2021 9:31 صبح

جب لوگوں سے اچھی طرح پیش آتا ہوں
یوں لگتا ہے جیسے کہ میں دھل جاتا ہوں
بدل دیا ہے سب کچھ میرے شوق نے میں
اور ہی اک دنیا میں خود کو پاتا ہوں
پتا نہیں ہے موت ہی میری منزل ہو
لیکن میں اک سمت کو بڑھتا جاتا ہوں
ہر اک بات پہ لگتا ہے کچھ کمی رہی
بول کے تھوڑا سا میں بہت پچھتاتا ہوں
ایک عجب سی حالت ہے کچھ عرصہ سے
عشق سمجھ کر جس کو خواب سجاتا ہوں
دنیا سے بیگانہ ہو کر بیٹھے رہنا
یوں ہے کہ اپنے اندر کو درشاتا ہوں
بابا
محمد احسن سمیع راحلؔ — جولائی 7، 2021 10:25 صبح
اچھی غزل ہے عظیم بھائی ۔۔۔ مجھے بس مطلع کے دوسرے مصرعے میں کہ اضافی محسوس ہوا، جس کی وجہ سے جیسے کی ے بھی دب رہی ہے ۔۔۔ اگر اس کو نکال دیں تو بھی کوئی حرج نہیں بلکہ مصرعے کی روانی بہتر ہوجائے گی۔
الف عین — جولائی 7، 2021 11:51 صبح
راحل کی. بات درست ہے۔
اچھی غزل ہے مجھے بھی پسند آئی
عظیم — جولائی 8، 2021 9:57 صبح
اچھی غزل ہے عظیم بھائی ۔۔۔ مجھے بس مطلع کے دوسرے مصرعے میں کہ اضافی محسوس ہوا، جس کی وجہ سے جیسے کی ے بھی دب رہی ہے ۔۔۔ اگر اس کو نکال دیں تو بھی کوئی حرج نہیں بلکہ مصرعے کی روانی بہتر ہوجائے گی۔
جزاک اللہ خیر
راحل کی. بات درست ہے۔
اچھی غزل ہے مجھے بھی پسند آئی
جی بابا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%A8-%D9%84%D9%88%DA%AF%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%DA%86%DA%BE%DB%8C-%D8%B7%D8%B1%D8%AD-%D9%BE%DB%8C%D8%B4-%D8%A2%D8%AA%D8%A7-%DB%81%D9%88%DA%BA.116891/