Imran Niazi — نومبر 18، 2009 5:06 صبح
اسلام و علیکم اساتذہءِ محترم
اِس غزل یہ تو مجھے پتہ ہے کہ ڈانٹ پڑیگی،
مگر کتنی یہ پتہ نہیں،
چلیںدیکھ لیتے ہیں
خود پہ اتنی مجھے رسائی دے
جب میںچاہوں مجھے دکھائی دے
"مجھکو محدود یوں بینائی دے
جس طرف دیکھوں تو دکھائی دے"
آ ک بس جا سخن میںمیرے تو
بس یہی اجرِ آشنائی دے
اپنی آغوش میںچھپا مجھ کو
رنجِ دنیا سے کچھ رہائی دے
اے خدا ! مجھکو اِس وفا کی سزا
اور اُسے اجرِ بے وفائی دے
دل کو ایسے بنا دیا پتھر
اب یہ روئے نہ یہ دہائی دے
اپنی خوشیاں چھپا کہ رکھ بیشک
مجھکو غم سے تو آشنائی دے
'اپنے'
دل میںمحدود کر نہ یوں مجھکو
اپنی سوچوں تلک رسائی دے
تو اگر ساتھ ہو تو میں چاہؤں
مجھکو دھڑکن بھی نہ سنائی دے
میںگیا تو نہ لوٹ پاؤں گا
پہلے یہ سوچ پھر رہائی دے
میںوفا پر کتاب لکھتا ہوں
مجھکو اشکوں کی روشنائی دے
ایک عمران بات مان مری
زہر پہلے دے پھر جدائی دے
فاتح — نومبر 18، 2009 11:02 صبح
وزن کے اعتبار سے تو بالکل درست ہے سوائے حسن مطلع کے جسے آپ نے خود ہی سرخ کر کے واوین میں لکھا ہے۔
الف عین — نومبر 18، 2009 5:11 شام
پہلے تو وہی املا کی بات کروں گا، اساتذۂ ہوتا ہے، اساتذہِ بھی غلط ہے اور اساتذہءِ تو اور بھی افلاطونی ہے۔ اس کے علاوہ
اپنی خوشیاں چھپا کہ رکھ بیشک
میں تمہارا مطلب شاید یہ تھا
اپنی خوشیاں چھپا کےرکھ بیشک
اب غزل کی بات۔۔۔۔
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے، سرخ میںجو حسن مطلع ہے، اس میں اصل گڑبڑ ’بینائی‘ کا تلفظ ہے، اگر یہ ’بِنائی ‘ گوارا کیا جا سکتا، تو درست ہوتا۔
آ کے بس جا سخن میںمیرے تو
بس یہی اجرِ آشنائی دے
اچھا شعر ہے، بس ’تو‘ کی ضرورت نہیں۔ یعنی بحر میں فٹ کرنے کے لئے تو ’تو‘ ضروری ہے، لیکن مفہوم اور فصاحت کے لئے نہیں۔
اے خدا ! مجھکو اِس وفا کی سزا
اور اُسے اجرِ بے وفائی دے
اس میں ’اِس‘ زائد ہے۔ اس کی جگہ ’دے‘ سے اچھا کام چل جانا چاہئے یعنی
اے خدا ! مجھکو دے وفا کی سزا
اور اُسے اجرِ بے وفائی دے
دل کو ایسے بنا دیا پتھر
اب یہ روئے نہ یہ دہائی دے
بہت اچھا شعر ہے، لیکن مجھ کو ’نا‘ ہجائے بلند کے بطور کھٹک رہا ہے
تو اگر ساتھ ہو تو میں چاہؤں
مجھکو دھڑکن بھی نہ سنائی دے
اس میں بھی ’نہ‘ کی گڑبڑ ہے،
ایک عمران بات مان مری
زہر پہلے دے پھر جدائی دے
یہاں اپنے سے تخاطب ہے یا محبوب سے؟
محض ان اشعار کے بارے میںکہا ہے جن میں کچھ خامیاں کھل رہی ہیں۔ باقی یوں تو درست لگ رہے ہیں۔ دوسروں کا کیا خیال ہے؟
Imran Niazi — نومبر 21، 2009 4:21 شام
پہلے تو وہی املا کی بات کروں گا، اساتذۂ ہوتا ہے، اساتذہِ بھی غلط ہے اور اساتذہءِ تو اور بھی افلاطونی ہے۔ اس کے علاوہ
اپنی خوشیاں چھپا کہ رکھ بیشک
میں تمہارا مطلب شاید یہ تھا
اپنی خوشیاں چھپا کےرکھ بیشک
اب غزل کی بات۔۔۔۔
ماشاء اللہ اچھی غزل ہے، سرخ میںجو حسن مطلع ہے، اس میں اصل گڑبڑ ’بینائی‘ کا تلفظ ہے، اگر یہ ’بِنائی ‘ گوارا کیا جا سکتا، تو درست ہوتا۔
آ کے بس جا سخن میںمیرے تو
بس یہی اجرِ آشنائی دے
اچھا شعر ہے، بس ’تو‘ کی ضرورت نہیں۔ یعنی بحر میں فٹ کرنے کے لئے تو ’تو‘ ضروری ہے، لیکن مفہوم اور فصاحت کے لئے نہیں۔
اے خدا ! مجھکو اِس وفا کی سزا
اور اُسے اجرِ بے وفائی دے
اس میں ’اِس‘ زائد ہے۔ اس کی جگہ ’دے‘ سے اچھا کام چل جانا چاہئے یعنی
اے خدا ! مجھکو دے وفا کی سزا
اور اُسے اجرِ بے وفائی دے
دل کو ایسے بنا دیا پتھر
اب یہ روئے نہ یہ دہائی دے
بہت اچھا شعر ہے، لیکن مجھ کو ’نا‘ ہجائے بلند کے بطور کھٹک رہا ہے
تو اگر ساتھ ہو تو میں چاہؤں
مجھکو دھڑکن بھی نہ سنائی دے
اس میں بھی ’نہ‘ کی گڑبڑ ہے،
ایک عمران بات مان مری
زہر پہلے دے پھر جدائی دے
یہاں اپنے سے تخاطب ہے یا محبوب سے؟
محض ان اشعار کے بارے میںکہا ہے جن میں کچھ خامیاں کھل رہی ہیں۔ باقی یوں تو درست لگ رہے ہیں۔ دوسروں کا کیا خیال ہے؟
سر سب سے پہلی بات کہ 'اساتذہِ' میںجو 'ہ' آپ استعمال کرتے ہیںوہ مجھے نہیںملتی اِس لیئے بار بار غلطی دہرائی جا رہی ہے،
اے خدا ! مجھکو دے وفا کی سزا
اور اُسے اجرِ بے وفائی دے
بہت خوب لگ رہا ہے مجھ نا سمجھ کی سمجھ بوجھ کے مطابق
آ کے بس جا سخن میںمیرے تو
بس یہی اجرِ آشنائی دے
تو پھر اِس کو تبدیل کروں یا کام چلاؤں ؟
دل کو ایسے بنا دیا پتھر
اب یہ روئے نہ یہ دہائی دے
اس کو میںنے چھٹی دے دی کیونک اِس میںمجھے چھ خاصیت نظر نہیںآرہی
آپ کی روئے کا منتظر ہوں
ایک عمران بات مان مری
زہر پہلے دے پھر جدائی دے
سر !غلطی واقعی ہو گئی کیونکہ اِس میںمیں نے سرائیکی طرز پہ غلطی سے اپنا نام لگا کر بھی کسی اور کو مخاطب ر لیا،
کیونکہ سرائیکی میںاےسا اکثر سنتا رہتا ہوں تو ذہن میںہی نہیںآیا،
بہت معذرت،،،،،،،
بات عمران کی بھی مان اِک تو،،،،
کیا یہ ؟؟؟؟؟؟
Imran Niazi — نومبر 21، 2009 4:27 شام
اتنی محدود دے نظر مجھ کو
وارث صاحب اور اعجاز ساحب یہ فقرہ کیسا رہیگا ؟
الف عین — نومبر 21، 2009 5:07 شام
اتنی محدود دے نظر مجھ کو
وارث صاحب اور اعجاز ساحب یہ فقرہ کیسا رہیگا ؟
کہاں عمران؟ اس کا مصرع اولیٰ لگایا ہے؟
زہر پہلے دے پھر جدائی دے
سمجھ میں نہیں آیا۔
یہ ہے ہمزہ اردو محفل میں میں بھی نہیں لگا پاتا ہوں کہ صرف انٹر نیٹ اکسپلورر میں یہ کنٹرول اور آلٹ ’او‘ سے بنتی ہے۔ میں گوگل کروم اور فائر فاکس استعمال کرتا ہوں، اس میں ممکن نہیں۔ کبھی لکھتا ہوں تو اپنے اردو دوست کی بورڈ سے، جہاں یہ اسی کنجی کامبو (یا آلٹ جی آر او کے ساتھ بنتی ہے۔
جن اشعار کو میں نے چھوڑ دیا تھا، وہ درست ہی ہیں۔ وہ شعر بھی اچھا ہے جس کو چھٹی دینے کا لکھا ہے۔
Imran Niazi — نومبر 22، 2009 3:14 شام
کہاں عمران؟ اس کا مصرع اولیٰ لگایا ہے؟
زہر پہلے دے پھر جدائی دے
سمجھ میں نہیں آیا۔
یہ ہے ہمزہ اردو محفل میں میں بھی نہیں لگا پاتا ہوں کہ صرف انٹر نیٹ اکسپلورر میں یہ کنٹرول اور آلٹ ’او‘ سے بنتی ہے۔ میں گوگل کروم اور فائر فاکس استعمال کرتا ہوں، اس میں ممکن نہیں۔ کبھی لکھتا ہوں تو اپنے اردو دوست کی بورڈ سے، جہاں یہ اسی کنجی کامبو (یا آلٹ جی آر او کے ساتھ بنتی ہے۔
جن اشعار کو میں نے چھوڑ دیا تھا، وہ درست ہی ہیں۔ وہ شعر بھی اچھا ہے جس کو چھٹی دینے کا لکھا ہے۔
سلام سر !
سر پہلے تو یہ بتائیںکے مصرع اولیٰ کیا ہوتا ہے ؟
میںنے لکھا تو عمران لیکن مخاطب سامنے والے سے ہوں اِس کا یہ مطلب ہے،
سرائیکی میںاکثر ایسا سنتا رہا ہوں، سرائیکی شاعری میں،
تو غلطی سے اردو میں میںلکھ گیا،
سر میںبھی کروم استعمال کرتا ہوں اور مجھے نھی ملتی "ۃ' اِس لیئے اگر آپ کی اجازت ہو تو اِسی سے کام چلا لیتے ہیں
اور میںاُس شعر کو چھٹی نہیںدیتا میں کچھ سوچ کہ جواب دوں گا،
باتعمران کی بھی مان اِک تو
ذہر پہلے دے پھر جدائی دے
یہ کیسا ہے ؟؟؟؟
Imran Niazi — نومبر 22، 2009 3:22 شام
کہاں عمران؟ اس کا مصرع اولیٰ لگایا ہے؟
زہر پہلے دے پھر جدائی دے
سمجھ میں نہیں آیا۔
یہ ہے ہمزہ اردو محفل میں میں بھی نہیں لگا پاتا ہوں کہ صرف انٹر نیٹ اکسپلورر میں یہ کنٹرول اور آلٹ ’او‘ سے بنتی ہے۔ میں گوگل کروم اور فائر فاکس استعمال کرتا ہوں، اس میں ممکن نہیں۔ کبھی لکھتا ہوں تو اپنے اردو دوست کی بورڈ سے، جہاں یہ اسی کنجی کامبو (یا آلٹ جی آر او کے ساتھ بنتی ہے۔
جن اشعار کو میں نے چھوڑ دیا تھا، وہ درست ہی ہیں۔ وہ شعر بھی اچھا ہے جس کو چھٹی دینے کا لکھا ہے۔
اتنی محدود دے نظر مجھکو
جس طرف دیکھوں تو دکھائی دے
الف عین — نومبر 22، 2009 5:10 شام
اچھا شعر ہے۔ لیکن یہ تو نیا شعر ہے، اس لئے صرف ایک مصرع سے میںسمجھ نہیں سکا۔
مصرع اولی مطلب پہلا مصرع
محمود احمد غزنوی — نومبر 22، 2009 7:15 شام
ایسی وسعت نظر میں دے مجھ کو
ہر طرف تُو ہی تُو دکھائی دے



Imran Niazi — نومبر 23، 2009 9:46 صبح
اچھا شعر ہے۔ لیکن یہ تو نیا شعر ہے، اس لئے صرف ایک مصرع سے میںسمجھ نہیں سکا۔
مصرع اولی مطلب پہلا مصرع
سر یہ نیا نہیںہے،
"اتنی محدود سی بینائی دے" کو تبدیل کیا ہے
مغزل — نومبر 23، 2009 9:57 صبح
بہت خوب ، نیازی صاحب، اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
بابا جانی بہت بہ شکریہ۔ مفصل نقد کے لیے ۔