جس کی کھوج میں ہوں جب مجھ کو مل جائے گا

عظیم — اگست 19، 2021 12:49 شام

جس کی کھوج میں ہوں جب مجھ کو مل جائے گا
چین بھی میرے دل کو جا کر تب آئے گا
جیسے جیسے نزدیکی بڑھتی جائے گی
شمع کو پروانہ پھر اور بھی للچائے گا
ابھی سے یہ ہے حال کہ کٹنا دن ہے محال
عشق نہ جانے آگے کیسا تڑپائے گا
بھولنے والا میں بھی نہیں لگتا اس کو
وہ بھی ایسا ہے ہر حال میں یاد آئے گا
میں وہ مجنوں ہوں جو دشت میں بیٹھے ہوئے
ریت پہ لکھ لکھ کر کچھ دل کو بہلائے گا
کس کے لیے غم کھاؤں دنیا داری کا
جو قسمت میں لکھا ہے وہ ہو جائے گا
میرے بس میں کب ہے یہ دل کی آگ عظیم
جس نے لگائی ہے وہ خود ہی بڑھکائے گا
عظیم — اگست 19، 2021 3:48 شام
بابا
الف عین — اگست 19، 2021 4:05 شام
اچھی غزل ہے لیکن ذرا تقطیع چیک کر لو، کہیں سات، کہیں ساڑھے سات اور کہیں آٹھ رکنی لگتی ہے!
بڑھکائے یا بھڑکائے؟
عظیم — اگست 19، 2021 4:06 شام
اچھی غزل ہے لیکن ذرا تقطیع چیک کر لو، کہیں سات، کہیں ساڑھے سات اور کہیں آٹھ رکنی لگتی ہے!
بڑھکائے یا بھڑکائے؟
جی بابا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%B3-%DA%A9%DB%8C-%DA%A9%DA%BE%D9%88%D8%AC-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D8%AC%D8%A8-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%DA%A9%D9%88-%D9%85%D9%84-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DA%AF%D8%A7.117232/