جسے چاہا گیا وطن کی طرح----برائے اصلاح

Arshad khan — اپریل 14، 2016 6:16 شام
جسے چاہا گیا وطن کی طرح
لا یقیں ہے وہ میری گن کی طرح
جو نہیں تیرے پیرہن کی طرح
وہ لبادہ بهی ہے کفن کی طرح
روز یاں قتلِ عشق ہوتا ہے
کوچۂ یار بهی ہے رن کی طرح
پهول جیسے رفیق تهے اس میں
مقبرہ بهی لگا چمن کی طرح
بس فقط دل ہی تیرا ٹوٹ گیا
یار! کیوں رو رہے ہو زن کی طرح
وہ حسینہ بدلتی رہتی ہے
آدمی کو بھی پیرہن کی طرح
سفرِ روح میں سدا ارشد
ہم نے مانا اسے بدن کی طرح
ارشد خان خٹک ؔ
الف عین — اپریل 15، 2016 5:49 صبح
جھسے چاہا گیا وطن کی طرح
لا یقیں ہے وہ میری گن کی طرح
۔۔۔ یہ تو ٹھائیں ٹھائیں کر رہا ہے،
جو نہیں تیرے پیرہن کی طرح
وہ لبادہ بهی ہے کفن کی طرح
۔۔درست۔
روز یاں قتلِ عشق ہوتا ہے
کوچۂ یار بهی ہے رن کی طرح
۔۔ قافیہ اچھا نہیں لگ رہا یہاں۔ زبردستی کا شعر ہے۔
پهول جیسے رفیق تهے اس میں
مقبرہ بهی لگا چمن کی طرح
۔۔ یہ اکہرا شعر ہے۔ کوئی قرینہ نہیں کہ پھولوں کی رفاقت کیا کر رہی تھی۔
بس فقط دل ہی تیرا ٹوٹ گیا
یار! کیوں رو رہے ہو زن کی طرح
۔۔یہ بھی محض قافیہ آرائی ہے کہ ’زن‘ کا قافیہ سوارت ہو گیا۔
وہ حسینہ بدلتی رہتی ہے
آدمی کو بھی پیرہن کی طرح
۔۔ درست
سفرِ روح میں سدا ارشد
ہم نے مانا اسے بدن کی طرح
۔۔درست۔
سید اسد معروف — اپریل 15، 2016 10:11 صبح
بہت خوب
Arshad khan — اپریل 15، 2016 7:10 شام
جھسے چاہا گیا وطن کی طرح
لا یقیں ہے وہ میری گن کی طرح
۔۔۔ یہ تو ٹھائیں ٹھائیں کر رہا ہے،
جو نہیں تیرے پیرہن کی طرح
وہ لبادہ بهی ہے کفن کی طرح
۔۔درست۔
روز یاں قتلِ عشق ہوتا ہے
کوچۂ یار بهی ہے رن کی طرح
۔۔ قافیہ اچھا نہیں لگ رہا یہاں۔ زبردستی کا شعر ہے۔
پهول جیسے رفیق تهے اس میں
مقبرہ بهی لگا چمن کی طرح
۔۔ یہ اکہرا شعر ہے۔ کوئی قرینہ نہیں کہ پھولوں کی رفاقت کیا کر رہی تھی۔
بس فقط دل ہی تیرا ٹوٹ گیا
یار! کیوں رو رہے ہو زن کی طرح
۔۔یہ بھی محض قافیہ آرائی ہے کہ ’زن‘ کا قافیہ سوارت ہو گیا۔
وہ حسینہ بدلتی رہتی ہے
آدمی کو بھی پیرہن کی طرح
۔۔ درست
سفرِ روح میں سدا ارشد
ہم نے مانا اسے بدن کی طرح
۔۔درست۔
شکریہ استادِ محترم آپ کی محبتوں کا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D8%B3%DB%92-%DA%86%D8%A7%DB%81%D8%A7-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D9%88%D8%B7%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%B7%D8%B1%D8%AD-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.89354/