جنہیں سورج کا ہم سفر ہونا ہے برائے اصلاح

محمد بلال اعظم — اگست 1، 2012 3:42 شام
جنہیں سورج کا ہم سفر ہونا ہے​
ابھی گھر سے انہیں بے گھر ہونا ہے​
آج ظالم سماج کے سامنے​
کسی کا دل، کسی کا سر ہونا ہے​
جو بڑے زعم میں تجھے پانے نکلے​
انہیں اب رسوا دربدر ہونا ہے​
جتنے انساں تھے سب خدا ہو چکے
کیا خداؤں کو اب بشر ہونا ہے
عزم راسخ یقین کامل مرا​
تیرگی کو تو مختصر ہونا ہے​
محمد بلال اعظم — اگست 1، 2012 3:43 شام
جس شعر کو ہائی لائٹ کیا ہے، اس کے متعلق ایک بات پوچھنی ہے کہ یہ شعر ہو تو گیا ہے مگر اس میں کہیں کوئی شرکیہ پہلو تو نہیں نکلتا؟
الف عین
محمد وارث
محمد بلال اعظم — اگست 1، 2012 3:53 شام
احمد بلال
احمد بلال — اگست 1، 2012 4:57 شام
یہ کس بحر میں لکھی ہے؟
محمد بلال اعظم — اگست 1، 2012 4:59 شام
یہ کس بحر میں لکھی ہے؟

بحر خفیف
احمد بلال — اگست 1، 2012 8:51 شام
پھر آپ کو اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ردیف فاعلن پر تقطیع ہو رہا ہے۔ کیونکہ ہونا کا و نہیں گر سکتا۔ جبکہ بحر خفیف میں آخری رکن فعلن یا ف ع لن ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دوسرے شعر کے پہلے مصرعے میں "سامنے" کو آخری رکن پہ باندھنے میں بھی یہی غلطی ہے۔ جس شعر پہ شرک کا گمان ہو رہا ہے اس کے دوسرے مصرعے کو کس معنی میں کہا ہے؟
بہرحال خیال اچھا ہے۔
احمد بلال — اگست 1، 2012 8:59 شام
تیسرے شعر کے پہلے مصرعے میں "تجھے" میں جھ مشدداستعمال کیا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔
"نے نکلے" ؟ پورا مصرع ہی نظر ثانی کی ضرورت رکھتا ہے۔
مقطع کا آخری مصرع بھی۔
فی الحال کوئی درستگی نہیں کر رہا تاکہ آپ پہلے خود کوشش کریں۔
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2012 9:13 شام
صرف ردیف نہیں سارے ہی مصرعوں کا آخری رکن فاعلن ہے۔
پوری غزل توجہ چاہتی ہے۔
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2012 9:15 شام
تیسرے شعر کے پہلے مصرعے میں "تجھے" میں جھ مشدداستعمال کیا گیا ہے جو کہ غلط ہے۔
"نے نکلے" ؟ پورا مصرع ہی نظر ثانی کی ضرورت رکھتا ہے۔
مقطع کا آخری مصرع بھی۔
فی الحال کوئی درستگی نہیں کر رہا تاکہ آپ پہلے خود کوشش کریں۔

میرے خیال میں لفظ ”تجھے“ کے ساتھ وزن کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ ”پانے نکلے“ کے ساتھ مسئلہ ہے۔
احمد بلال — اگست 1، 2012 9:31 شام
مزمل شیخ بسمل
فاعلاتن مفاعلن فعلن
جو بڑے زعم میں تج جھے پا نے نکلے
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2012 9:35 شام
مزمل شیخ بسمل
فاعلاتن مفاعلن فعلن
جو بڑے زعم میں تج جھے پا نے نکلے

فاعلاتن = جو بڑے زع
مفاعلن = ممے تجے
زعم میں دوسرے ساکن کو متحرک کیا گیا ہے۔
احمد بلال — اگست 1، 2012 9:55 شام
فاعلاتن = جو بڑے زع
مفاعلن = ممے تجے
زعم میں دوسرے ساکن کو متحرک کیا گیا ہے۔
یہ بھی ممکن ہے
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2012 10:05 شام

شاعر کو اس بات کا علم ہے یہ مجھے نہیں پتا۔ لیکن اصولِ تقطیع یہی ہے اور اسی طرح ہر شعر تقطیع ہوتا ہے۔ یعنی دوسرا ساکن متحرک بنایا جاتا ہے۔ (شعر کے درمیان ہو تو۔)
احمد بلال — اگست 1، 2012 10:10 شام
شاعر کو اس بات کا علم ہے یہ مجھے نہیں پتا۔ لیکن اصولِ تقطیع یہی ہے اور اسی طرح ہر شعر تقطیع ہوتا ہے۔ یعنی دوسرا ساکن متحرک بنایا جاتا ہے۔ (شعر کے درمیان ہو تو۔)
دونوں میموں ادغام بھی ممکن ہے۔ فی الحال کوئی مثال ذہن میں نہیں آ رہی۔ الف عین ۔
احمد بلال — اگست 1، 2012 10:13 شام
شاعر کو اس بات کا علم ہے یہ مجھے نہیں پتا
کیوں بھئی محمد بلال اعظم ؟
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2012 10:15 شام
دونوں میموں ادغام بھی ممکن ہے۔ فی الحال کوئی مثال ذہن میں نہیں آ رہی۔ الف عین ۔
خیر یہ شعر تو ویسے بھی عیبِ تنافر کا شکار ہے۔ اب دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
آپ جس کی بات کر رہے ہیں وہ صوتی صورت ہوتی ہے۔ لیکن تقطیع میں الگ الگ ہی گنا جاتا ہے۔
مثال کے طور پے مفاعیلن کے وزن پے کہیں:
شبِ غم میں
تقطیع میں میم دو ہی آئینگے
احمد بلال — اگست 1، 2012 10:19 شام
خیر یہ شعر تو ویسے بھی عیبِ تنافر کا شکار ہے۔ اب دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
آپ جس کی بات کر رہے ہیں وہ صوتی صورت ہوتی ہے۔ لیکن تقطیع میں الگ الگ ہی گنا جاتا ہے۔
مثال کے طور پے مفاعیلن کے وزن پے کہیں:
شبِ غم میں
تقطیع میں میم دو ہی آئینگے
خیر دیکھتے ہیں الف عین صاحب کیا کہتے ہیں
مزمل شیخ بسمل — اگست 1، 2012 10:22 شام
جی با لکل! ہم تو تکّے بازی سے کام لیتے ہیں۔ اصل تو فیصلہ وہی کرینگے۔ انتظار ہے انکا۔
محمد بلال اعظم — اگست 2، 2012 3:38 صبح
سب سے پہلے میں اس غزل کی تقطیع کرتا ہوں۔
مطلع:
فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن(2211-2121-211)
ج نِ سورج--کَ ہم س فر--ہُ نَ ہے (جنہیں سورج کا ہم سفر ہونا ہے)
ابِ گر سے--انے بِ گر--ہُ نَ ہے (ابھی گھر سے انہیں بے گھر ہونا ہے)
دوسرا شعر:
فاعلاتن مفاعلن فاعلن(2212-2121-212)
آ ج ظا لم--س ما ج کے--سا م نے (آج ظالم سماج کے سامنے)
فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن(2211-2121-211)
ک سِ کا دل--ک سی کِ سر--ہُ نَ ہے (کسی کا دل، کسی کا سر ہونا ہے)
تیسرا شعر:
فاعلاتن مفاعلن فعلیان(2212-2121-1212)
جو ب ڑے زع--م مے ت جے--پا نِ نک لِ (جو بڑے زعم میں تجھے پانے نکلے)
فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن(2211-2121-211)
انِ اب رس--وِ در ب در--ہُ نَ ہے (انہیں اب رسوا دربدر ہونا ہے)
چوتھا شعر:
فاعلاتن مفاعلن فاعلن(2212-2121-212)
جت نِ ان سا--تِ سب خ دا--ہو چ کے (جتنے انساں تھے سب خدا ہو چکے)
کا خ دا ؤ--کَ ان ب شر--ہو نَ ہے (کیا خداؤں کو اب بشر ہونا ہے)
پانچواں شعر:
فاعلاتن مفاعلن فاعلن(2212-2121-212)
عز م را سخ--ی قی ن کا--مل م را (عزم راسخ، یقین کامل مرا)
تے ر گی کو--تَ مخ ت صر--ہو نَ ہے (تیرگی کو تو مختصر ہونا ہے)
محمد بلال اعظم — اگست 2، 2012 3:59 صبح
صرف ردیف نہیں سارے ہی مصرعوں کا آخری رکن فاعلن ہے۔
پوری غزل توجہ چاہتی ہے۔

کیا ہونا بطور ہُ نَ یا ہو نَ تقطیع نہیں کیا جا سکتا ہے؟
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%D9%88%D8%B1%D8%AC-%DA%A9%D8%A7-%DB%81%D9%85-%D8%B3%D9%81%D8%B1-%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.53159/