جو تارِ ہستی سے اتار کے قبا چلے

نور وجدان — مارچ 24، 2017 8:18 صبح
جو تارِ ہستی سے اتار کے قبا چلے
غمِ حیات بھی ہمی سے شرم کھا چلے
نشانے پر لگے تھے تیر جتنے بھی لگے
زمانے کے رواجوں پر سو مسکرا چلے
شجر سیاہ ،دھوپ میں جلے، تو سو ہوئے
صبا کے جھونکے راکھ ساتھ ہی اڑا چلے
بریدہ شاخ سے گلوں کو توڑتے رہے
جو لوگ خوشبو کی نئی دکاں سجا چلے
یہ سیل آب جانے کب تلک پرکھ کرے
کنارے سے چٹان ساتھ جو بہا چلے
سید عمران — مارچ 24، 2017 8:40 صبح
بہت اچھے!!!
La Alma — مارچ 24، 2017 9:32 صبح
نشانے پر لگے تھے تیر جتنے بھی لگے
زمانے کے رواجوں پر سو مسکرا چلے
زبردست . فنی باریکیاں تو ماہرین بتائیں گے لیکن یہ غزل تفہیم اور ابلاغ میں بہرحال کامیاب رہی . ویل ڈن .
الف عین — مارچ 24، 2017 4:41 شام
چٹان ہندی لفظ ہے، اس کو فارسی کی طرح ’چٹاں‘ نہیں کیا جا سکتا۔
اکثر حروف کا اسقاط ہو رہا ہے جس سے روانی متاثر ہے۔
المیٰ نے تو ترسیل و ابلاغ کی سند دے دی ہے۔ شاید میں ہی کج فہم ہوں جس کو کوئی ایک شعر بھی سمجھ میں نہیں آیا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%D9%88-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%90-%DB%81%D8%B3%D8%AA%DB%8C-%D8%B3%DB%92-%D8%A7%D8%AA%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%D9%82%D8%A8%D8%A7-%DA%86%D9%84%DB%92.95444/