جہاں بھی ترے ہجر میں آ گئی شب

نوید ناظم — جنوری 27، 2018 8:05 شام
فعولن فعولن فعولن فعولن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں بھی ترے ہجر میں آ گئی شب
یہی دل نے سمجھا کہ ہے آخری شب
تری یاد کا لمحہ آساں نہ گزرا
پھر اللہ اللہ کر کے کٹی شب
عجب حادثہ میری آنکھوں نے دیکھا
دیے بجھ گئے اور جلتی رہی شب
برس ہا برس جس کو دن ہم نے سمجھا
پھر آخر پتہ یہ چلا تھی وہ بھی شب
نئے سال میں بھی وہی رتجگے ہیں
وہی یاد تیری، وہی غم، وہی شب
اسے لوگ شبنم کے قطرے کہیں گے
بھلا کون مانے کہ روتی رہی شب
نوید ناظم — جنوری 27، 2018 8:07 شام
محترم سر الف عین
الف عین — جنوری 29، 2018 3:55 شام
درست ہے بلکہ اچھی غزل ہے۔ بس
پھر آخر پتہ یہ چلا تھی وہ بھی شب
’وہ بھی‘ کا ’وُبی‘ تلفظ درست نہیں۔ الفاظ کو الٹ دو،
پھر آخر پتہ یہ چلا وہ بھی تھی شب
کیا جا سکتا ہے نا!
نوید ناظم — جنوری 30، 2018 6:01 شام
درست ہے بلکہ اچھی غزل ہے۔ بس
پھر آخر پتہ یہ چلا تھی وہ بھی شب
’وہ بھی‘ کا ’وُبی‘ تلفظ درست نہیں۔ الفاظ کو الٹ دو،
پھر آخر پتہ یہ چلا وہ بھی تھی شب
کیا جا سکتا ہے نا!
بہت شکریہ سر!!
:)
عرفان سعید — جنوری 30، 2018 6:03 شام
عجب حادثہ میری آنکھوں نے دیکھا
دیے بجھ گئے اور جلتی رہی شب
بہت خوب!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%D8%AA%D8%B1%DB%92-%DB%81%D8%AC%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A2-%DA%AF%D8%A6%DB%8C-%D8%B4%D8%A8.99945/