السلام علیکم
فقیر حاضر ہے اصلاح کی درخواست لیکر
امید ہے دامن خالی نہیں رہے گا
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
یہ محفل ہی ستم گر ہے
خدا جس کا ہوا زر ہے
ضرورت جب پڑی سر پر
بکا ایماں یہاں پر ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
عداوت کی یہ دنیا ہے
سیاست کی یہ دنیا ہے
محبت میں بناوٹ ہے
ضرورت کی یہ دنیا ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
سحر کی بات کیا کرنی
ثمر کی بات کیا کرنی
حوالوں کی یہ دنیا ہے
ہنر کی بات کیا کرنی
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
اذاں جس نے بھی دینی ہے
کہاں جانے وہ ہستی ہے
خدا ہر اک یہاں لگتا
کمی ایسی بشر کی ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
صحافت میںیہاں لالچ
صداقت میں یہاں لالچ
جہاں دولت کا بھوکا ہے
عبادت میں یہاں لالچ
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
عجب مشکل میں ہستی ہے
اسی الجھن میں رہتی ہے
کرے سجدہ یہ کس کس کو
خداﺅں کی یہ بستی ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
س ن مخمور
فقیر حاضر ہے اصلاح کی درخواست لیکر
امید ہے دامن خالی نہیں رہے گا
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
یہ محفل ہی ستم گر ہے
خدا جس کا ہوا زر ہے
ضرورت جب پڑی سر پر
بکا ایماں یہاں پر ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
عداوت کی یہ دنیا ہے
سیاست کی یہ دنیا ہے
محبت میں بناوٹ ہے
ضرورت کی یہ دنیا ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
سحر کی بات کیا کرنی
ثمر کی بات کیا کرنی
حوالوں کی یہ دنیا ہے
ہنر کی بات کیا کرنی
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
اذاں جس نے بھی دینی ہے
کہاں جانے وہ ہستی ہے
خدا ہر اک یہاں لگتا
کمی ایسی بشر کی ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
صحافت میںیہاں لالچ
صداقت میں یہاں لالچ
جہاں دولت کا بھوکا ہے
عبادت میں یہاں لالچ
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
عجب مشکل میں ہستی ہے
اسی الجھن میں رہتی ہے
کرے سجدہ یہ کس کس کو
خداﺅں کی یہ بستی ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا
س ن مخمور