جہاں میں دل نہیں لگتا

loneliness4ever — مارچ 30، 2015 10:33 صبح
السلام علیکم
فقیر حاضر ہے اصلاح کی درخواست لیکر
امید ہے دامن خالی نہیں رہے گا

چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا

یہ محفل ہی ستم گر ہے
خدا جس کا ہوا زر ہے
ضرورت جب پڑی سر پر
بکا ایماں یہاں پر ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا

عداوت کی یہ دنیا ہے
سیاست کی یہ دنیا ہے
محبت میں بناوٹ ہے
ضرورت کی یہ دنیا ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا

سحر کی بات کیا کرنی
ثمر کی بات کیا کرنی
حوالوں کی یہ دنیا ہے
ہنر کی بات کیا کرنی
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا

اذاں جس نے بھی دینی ہے
کہاں جانے وہ ہستی ہے
خدا ہر اک یہاں لگتا
کمی ایسی بشر کی ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا

صحافت میںیہاں لالچ
صداقت میں یہاں لالچ
جہاں دولت کا بھوکا ہے
عبادت میں یہاں لالچ
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا

عجب مشکل میں ہستی ہے
اسی الجھن میں رہتی ہے
کرے سجدہ یہ کس کس کو
خداﺅں کی یہ بستی ہے
چلو اب ہم چلیں یاروں
جہاں میں دل نہیں لگتا

س ن مخمور
فاروق احمد بھٹی — مارچ 30، 2015 10:41 صبح
چلو اب ہم چلیں یاروں
خیال اچھا ہے مجھے پسند آیا باقی نظم پہ رائے قائم کرنے کی میری بساط نہیں وہ تو اساتذہ ہی کریں گے یہ مصرع مجھے کچھ غلط لگ رہا ہے یاروں کی سمجھ نہیں آئی میرے خیال میں یارو ہونا چاہیے اور چلیں کی جگہ چلے ہونا چاہیے
loneliness4ever — مارچ 30، 2015 11:41 صبح
خیال اچھا ہے مجھے پسند آیا باقی نظم پہ رائے قائم کرنے کی میری بساط نہیں وہ تو اساتذہ ہی کریں گے یہ مصرع مجھے کچھ غلط لگ رہا ہے یاروں کی سمجھ نہیں آئی میرے خیال میں یارو ہونا چاہیے اور چلیں کی جگہ چلے ہونا چاہیے

بجا فرمایا آپ نے ۔۔۔۔۔۔ خاکسار ممنون و مسرور ہے
آپ کی عنایت پر ۔۔۔۔۔ توجہ کا یہ سلسلہ مستقل رکھیں
اللہ آباد و بے مثال رکھے آپکو ۔۔۔ آمین
احسان اللہ سعید — مارچ 30، 2015 12:08 شام
خدا ہر اک یہاں لگتا
کمی ایسی بشر کی ہے
:thumbsup2:
کرے سجدہ یہ کس کس کو
خداﺅں کی یہ بستی ہے
مطلب سب فراعین ہیں۔ بس موسی کی ضرورت ہے۔
بہت خوب!
الف عین — مارچ 31، 2015 11:42 صبح
یارو درست ہے یاروں نہیں، لیکن چلیں اور چلے میں فرق ہے۔
چلو اب ہم چلے یارو۔۔۔ مراد یعنی ہم تو روانہ ہو چکے
چلو اب ہم چیں یارو۔۔ مطلب چلو ہم ساتھ ساتھ چلیں، ابھی چلنے کا کام شروع نہیں ہوا۔
یہاں ’چلیں‘ ہی درست ہے۔
البتہ دوسرے بہت سے مصرعوں میں روانی کی کمی ہے، یا بے ربطی محسوس ہو رہی ہے۔ مثلاً
سحر کی بات کیا کرنی
ثمر کی بات کیا کرنی
حوالوں کی یہ دنیا ہے
ہنر کی بات کیا کرنی
ان چاروں میں ربط دکھائی نہیں دیتا۔
x boy — مارچ 31، 2015 12:00 شام
گڈ
دل لگ جائیگا تو آگے کیسے چل سکیں گے
اس جہاں میں تو بندہ مسافر ہے اگلے جہاں کی تیاری کرکے سفر میں چلتے رہیے۔
loneliness4ever — مارچ 31، 2015 2:56 شام
یارو درست ہے یاروں نہیں، لیکن چلیں اور چلے میں فرق ہے۔
چلو اب ہم چلے یارو۔۔۔ مراد یعنی ہم تو روانہ ہو چکے
چلو اب ہم چیں یارو۔۔ مطلب چلو ہم ساتھ ساتھ چلیں، ابھی چلنے کا کام شروع نہیں ہوا۔
یہاں ’چلیں‘ ہی درست ہے۔
البتہ دوسرے بہت سے مصرعوں میں روانی کی کمی ہے، یا بے ربطی محسوس ہو رہی ہے۔ مثلاً
سحر کی بات کیا کرنی
ثمر کی بات کیا کرنی
حوالوں کی یہ دنیا ہے
ہنر کی بات کیا کرنی
ان چاروں میں ربط دکھائی نہیں دیتا۔

محترم استاد آپ کی آمد اور عطا پر دل شاد ہے
اور بندہ ممنون ہے
روانی اور ربط کی کھوج کے لئے اس کاوش کو سوچ کی بھٹی میں پھر ڈالے دیتا
اور امید کرتا ہوں جلد خدمت میں ترمیم کے ساتھ حاضر ہونگا
اللہ صحت و تندرستی کی دولت سے مالا مال رکھے آپ کو ۔۔۔ آمین

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%DB%81%D8%A7%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AF%D9%84-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D9%84%DA%AF%D8%AA%D8%A7.81071/