جیسے مر گیا میں۔۔۔۔۔۔۔۔برائے اصلاح

شیرازخان — جنوری 1، 2014 8:14 شام
دیکھ کر اک آہ ٹھنڈی بھر گیا میں
اے زمانے تجھ سے شاید ڈر گیا میں
لوگ سب اک لاش کو گھیرئے ہوئے تھے
یو ں لگا مجھ کو کہ جیسے مر گیا میں
میں بھی پہلے کانچ کا پیکر ہی تھا پر
رہ کے ان پتھروں میں بن پتھر گیا میں
ایک چادر بھی نہیں اب پاس میرے
خود سری کی سردیوں میں ٹھر گیا میں
کوئی دستاویز مجھ کو مل نہ پائی
جب کبھی بھی عمر کےدفترگیا میں
حوصلوں کی شہ پہ نکلا تھا سفر پر
اور تماشہ بن کے سیدھا گھر گیا میں
سامنے سے اس لیئے گزرا اُٹھا کر
آئینہ تیرے بھی آگے کر گیا میں
خود پسندی کی لَے میں شیراز اکثر
چاہتا تو میں نہیں تھا پرَ گیا میں
الف عین
شوکت پرویز — جنوری 2، 2014 7:01 صبح
دوسرے اشعار سے قطعِ نظر:
میں بھی پہلے کانچ کا پیکر ہی تھا پر
رہ کے ان پتھروں میں بن پتھر گیا میں
میں بھی پہلے کانچ کا پیکر تھا، لیکن
پتھروں میں رہ کے پتھر بن گیا میں
:)
شیرازخان — جنوری 2، 2014 7:20 صبح
دوسرے اشعار سے قطعِ نظر:
میں بھی پہلے کانچ کا پیکر تھا، لیکن
پتھروں میں رہ کے پتھر بن گیا میں
:)
باقی اشعار کا کیا ہو گا جناب۔۔اس کو تلف روں تو؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AC%DB%8C%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%B1-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.70786/