برائے اصلاح
جیون میں مجھے اس کے لکھ لکھ کے مٹایا ہے
قرطاس پہ قسمت نے یوں مجھ کو سمایا ہے
آنسو کی طرح بکھرے اِن اُوس کے قطروں سے
لگتا ہے فلک کو بھی اُلفت نے رلایا ہے
روشن ہی نہیں کرتا میں گھر کے چراغوں کو
جب شام اُترتی ہےدل اپنا جلایا ہے
جو آج برستے ہیں بادل یہ بنا موسم
لگتا ہے مرا ان کو پھر حال سنایا ہے
رستوں سے گزرتا ہوں آواز یہ دیتی ہیں
اک ساتھ نے بستی کو یادوں سے سجایا ہے
احساس ِ محبت کو اس دور کے لوگوں نے
بس وقت گزاری کا اک کھیل بنایا ہے
س ن مخمور
جیون میں مجھے اس کے لکھ لکھ کے مٹایا ہے
قرطاس پہ قسمت نے یوں مجھ کو سمایا ہے
آنسو کی طرح بکھرے اِن اُوس کے قطروں سے
لگتا ہے فلک کو بھی اُلفت نے رلایا ہے
روشن ہی نہیں کرتا میں گھر کے چراغوں کو
جب شام اُترتی ہےدل اپنا جلایا ہے
جو آج برستے ہیں بادل یہ بنا موسم
لگتا ہے مرا ان کو پھر حال سنایا ہے
رستوں سے گزرتا ہوں آواز یہ دیتی ہیں
اک ساتھ نے بستی کو یادوں سے سجایا ہے
احساس ِ محبت کو اس دور کے لوگوں نے
بس وقت گزاری کا اک کھیل بنایا ہے
س ن مخمور