محمد حسین — جنوری 5، 2014 7:15 شام
حا لت دل کا تذکرہ کیجے
نعمت حق کا شکر ادا کیجے
ھم سے نفرت ھے تو بتا دیجے
سچ چھپا کر نہ یوں رکھا کیجے
جس سے کہنا ھے،جانتا ہے وہ سب
حال دل اور بیان کیا کیجے
بھائے ہے یا نھیں مگر اے دوست
جو ھودل میں وہی کہا کیجے
ابن رضا — جنوری 5، 2014 7:22 شام
بحر کونسی ہے بھائی؟
شاہد شاہنواز — جنوری 5، 2014 7:33 شام
حا لت دل کا تذکرہ کیجے
نعمتِ حق کا شکر ادا کیجے
۔۔۔ ۔دل کی حالت کا تذکرہ کیجے ۔۔ ۔۔فاعلاتن مفاعلن فعلن ۔۔
اب نعمت حق کا شکر ، وزن میں ہو بھی تو دل کی حالت کا نعمت حق کے شکر سے تعلق معلوم نہیں ہوتا۔۔۔
باقی اشعار بھی قابل غور ہیں۔۔۔ خارج از بحر ہونا قابل ذکر اور ناقابل معافی خامی ہے۔
جو آپ کہنا چاہتے ہیں وہ بروزن ہونا ضروری ہے۔ آپ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں۔۔۔
الف عین — جنوری 6، 2014 7:05 صبح
مطلع دو لخت محسوس ہوتا ہے۔
تیسر شعر میں حال دل اور بیان کیا کیجے‘ روانی متاثر ہے اُر تقطیع ہونے کی وجہ سے
آخری شعر میں بھائے ہے میں روانی نہیں ہے اور دوست بھی بھرتی کا ہے۔ اس مصرع کو بدلا جا سکتا ہے
مزمل شیخ بسمل — جنوری 6، 2014 7:18 صبح
باقی اشعار بھی قابل غور ہیں۔۔۔ خارج از بحر ہونا قابل ذکر اور ناقابل معافی خامی ہے۔
جو آپ کہنا چاہتے ہیں وہ بروزن ہونا ضروری ہے۔ آپ خود ہی اپنی مدد کرسکتے ہیں۔۔۔
تمام اشعار پہلے ہی بحر میں ہیں۔ شاید شاہد صاحب کو مغالطہ ہوا ہے کہ مطلع کا مصرع اول بحر میں نہیں۔
بحر خفیف: فاعلاتن مفاعلن فعلن
محمد حسین — جنوری 6، 2014 6:59 شام
سب اشعار وزن پر ہیں۔ فاعلاتن مفاعلن فعلن
حالت اور نعمت میں ت کے نیچے زیر ھے۔
"حال دل" میں بھی ل کے نیچے زیر ہے۔
شاہد شاہنواز — جنوری 7، 2014 12:17 شام
سب اشعار وزن پر ہیں۔ فاعلاتن مفاعلن فعلن
حالت اور نعمت میں ت کے نیچے زیر ھے۔
"حال دل" میں بھی ل کے نیچے زیر ہے۔
متفق۔
احمد بلال — جنوری 7، 2014 5:50 شام
جس سے کہنا ہے سب، وہ جانتا ہے
حال دل کا بیان کیا کیجے
محمد حسین — جنوری 8، 2014 7:13 شام
اچھا ہے