حال ِ ذات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح

loneliness4ever — مئی 12، 2015 5:34 شام
حال ِذات
اگر
کاجل نہ پھیلے تو
حسیں آنکھوں سے اپنی تم،
نظارہ پھر
بچھڑتی شام کا کرنا،
فلک کے چاند کا کرنا،
پلٹتی موج کا کرنا،
وہ اڑتی خاک کا کرنا،
وہ پھیلی رات کا کرنا،
کبھی جو جاننا چاہو
مرا گر حال تم جاناں!!!
سید فصیح احمد — مئی 13، 2015 7:39 صبح
اچھی کوشش۔ نظم کے اجزأ کی پرکھ تو اساتذہ ہی کریں گے مگر میری درخواست ہے کہ نظم کا عنوان کچھ اور چنیں۔ :) :)
الف عین — مئی 13، 2015 12:11 شام
وہ اڑتی خاک کا کرنا،
وہ پھیلی رات کا کرنا،
میں ’وہ‘ بھرتی کا لفظ لگ رہا ہے۔ الفاظ بدل دیں
ابن رضا — مئی 13، 2015 12:21 شام
بہت مختصر اور پیاری سی نظم کے لیے داد
اور عنوان ہونا چاہیے" جستجو ":)
تاہم متفق ہونا لازمی نہیں
loneliness4ever — مئی 13، 2015 7:03 شام
محفل میں شریک تمام احباب کا شکر گزار ہوں
شفیق استاد محترم الف عین صاحب کی رائے کے مطابق "وہ" کو تبدیل کرکے
حاضر ہوا ہوں محترم بھائی ابن رضا کے تجویز کردہ نام کے ساتھ
"جستجو"
اگر کاجل نہ پھیلے تو
حسیں آنکھوں سے اپنی تم،
نظارہ پھر
بچھڑتی شام کا کرنا،
فلک کے چاند کا کرنا،
پلٹتی موج کا کرنا،
بکھرتی خاک کا کرنا،
اکیلی رات کا کرنا،
کبھی جو جاننا چاہو
مرا گر حال تم جاناں!!!
الف عین — مئی 15، 2015 5:58 صبح
اب درست ہے نظم
ابن رضا — مئی 15، 2015 12:26 شام
۔
اکیلی رات کا کرنا،
کبھی جو جاننا چاہو
مزید مشورہ
اکیلی رات؟
جو جاننا کی ادائیگی میں کچھ صوتی ثقالت حائل ہے۔
کاشف اسرار احمد — مئی 15، 2015 3:19 شام
ماشا اللہ ۔۔
Mystic Enigma — مئی 21، 2015 10:25 صبح
حال ِذات
اگر
کاجل نہ پھیلے تو
حسیں آنکھوں سے اپنی تم،
نظارہ پھر
بچھڑتی شام کا کرنا،
فلک کے چاند کا کرنا،
پلٹتی موج کا کرنا،
وہ اڑتی خاک کا کرنا،
وہ پھیلی رات کا کرنا،
کبھی جو جاننا چاہو
مرا گر حال تم جاناں!!!
آرام سے بہت کچھ کہ دیا

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D9%90-%D8%B0%D8%A7%D8%AA-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.81925/