نوید اکرم — مارچ 7، 2015 8:06 صبح
حسن و شبابِ زن سے مخمور مل گئی ہے
وہ خوش جمال، چشمِ بد دور مل گئی ہے
لوگوں کو تو ملیں گی جنت میں جا کے حوریں
مجھ کو اسی جہاں میں اک حور مل گئی ہے
مدہوش کر دے مجھ کو اس کے بدن کی خوشبو
لگتا ہے مجھ کو مشکِ کافور مل گئی ہے
مجھ کو نہیں رہی اب تاریکیوں کی پرواہ
مجھ کو مقابلے میں مہ نور مل گئی ہے
نوید اکرم — مارچ 11، 2015 5:58 شام
بعد از ترمیم:
تاریکیوں کی دشمن مہ نور مل گئی ہے
وہ خوش جمال، چشمِ بد دور مل گئی ہے
لوگوں کو تو ملیں گی جنت میں جا کے حوریں
مجھ کو اسی جہاں میں اک حور مل گئی ہے
ادب دوست — مارچ 11، 2015 8:17 شام
شاعری تو خیر اچھی ہے ہی مگر اس سے زیادہ اچھی یہ خبر ہے
الف عین — مارچ 12، 2015 6:22 صبح
مجھے خیال آ رہا ہے کہ یہ میں دیکھ چکا ہوں اور اپنے مشورے بھی دے چکا ہوں، لیکن ابھی تلاش کیا تو ملی نہیں یہ غزل۔
لوگوں کو تو۔۔۔
کی روانی پر کہاتھا میں نے، کہ ’کتو‘ اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ اس میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے۔
رواں صورت یوں ہو سکتی ہے
سب کو تو مل سکیں گی ۔۔۔۔
نوید اکرم — مارچ 12، 2015 5:49 شام
شاعری تو خیر اچھی ہے ہی مگر اس سے زیادہ اچھی یہ خبر ہے
ابھی یہ خبر نہیں، صرف خوش فہمی ہے

نوید اکرم — مارچ 12، 2015 5:51 شام
مجھے خیال آ رہا ہے کہ یہ میں دیکھ چکا ہوں اور اپنے مشورے بھی دے چکا ہوں، لیکن ابھی تلاش کیا تو ملی نہیں یہ غزل۔
لوگوں کو تو۔۔۔
کی روانی پر کہاتھا میں نے، کہ ’کتو‘ اچھا نہیں لگ رہا ہے۔ اس میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے۔
رواں صورت یوں ہو سکتی ہے
سب کو تو مل سکیں گی ۔۔۔۔
بعد از ترمیم نمبر 2:
تاریکیوں کی دشمن مہ نور مل گئی ہے
وہ خوش جمال، چشمِ بد دور مل گئی ہے
لوگوں کو ہوں گی حاصل جنت میں جا کے حوریں
مجھ کو اسی جہاں میں اک حور مل گئی ہے
ادب دوست — مارچ 12، 2015 6:16 شام
ابھی یہ خبر نہیں، صرف خوش فہمی ہے
کچھ کچھ اندازہ تو مجھے تھا کہ یہ خوش فہمی ہی ہو سکتی ہے - کیونکہ ایسی بہت سی خوش فہمیاں ، بعد میں سنگین غلط فہمیاں ثابت ہوتی ہیں