" حسن کیا ہے ؟ " ۔۔۔۔۔۔ برائے اصلاح

صفی حیدر — جون 20، 2016 1:16 شام
محترم سر الف عین اور دیگر اساتذہ کرام و محفلین سے اصلاح کی درخواست ہے ۔۔۔۔۔۔
" حسن کیا ہے ؟ "
ہم نشیں تم پوچھتے ہو حسن کیا ہے؟
کائناتِ رنگ و بو میں کیا مکمل حسن بھی ہے ؟
کیا عناصر حسن کہلاتے ہیں جن کی مستقل صورت نہیں ہے؟
حسن کیا ہے؟
کیا ہوا اور آب ہے یا پھر پتھر ہے؟
یا حواسِ خمسہ کی صورت گری ہے
جو ادھورے چند خاکوں سے بنی ہے
گر بصارت سے اسے دیکھو تو یہ کچھ بھی نہیں ہے
اک تماشہ ہے جو رنگوں میں ڈھلا ہے
خامشی ، آواز کیا ہے؟
سرد کیا اور گرم کیا ہے؟
کیا ہے میٹھا ترش کیا ہے؟
یہ سماعت کا ہے دھوکہ، لمس کا احساس ہے یا پھر زباں کا ذائقہ ہے؟
حسن کیا ہے؟
ہم نشیں میرے سنو تم
راز یہ کھولوں بتا ئوں حسن کیا ہے؟
حسن نغمہ روح کا ہے
لفظ کن کے خوبصورت سے توازن کا بیاں ہے
حسن بے ترتیب سے انداز میں بکھرا ہے لیکن
اس میں اک مخصوص سی ترتیب ہے جو
گلستاں میں اور سمندر میں پہاڑوں اور میدانوں میں ہر اک سمت میں پھیلی ہوئی ہے
حسن اس ترتیب کو پہچان لینے میں چھپا ہے
عباد اللہ — جون 20، 2016 1:22 شام
بہت خوب
کیا ہوا اور آب ہے یا پھر پتھر ہے؟
کیا ہوا اور آب ہے یا پھر ہے پتھر
شاید اس طرح وزن میں آ جائے لیکن بندش چست نہیں
محمد تابش صدیقی — جون 20، 2016 2:31 شام
بہت خوب
کیا ہوا اور آب ہے یا پھر ہے پتھر
شاید اس طرح وزن میں آ جائے لیکن بندش چست نہیں
اگر یوں کر دیں
کیا ہوا ہے، آب ہے یا پھر پتھر؟
صفی حیدر — جون 20، 2016 2:32 شام
بہت شکریہ سر عباد اللہ آپ نے میری کاوش کو پسند کیا ۔۔۔۔ سر یہ مصرعہ " کیا ہوا اور آب ہے یا پھر پتھر ہے ؟ " ۔۔۔۔ فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن کے وزن پر ہے ۔۔۔۔ اس میں " پتھر" کو فَعَل کے وزن پر لیا ہے ۔۔۔۔ کیا یہ درست نہیں ہے ؟؟ ۔۔۔۔۔۔ اگر اس مصرعے کو اسطرح کر دیا جائے ۔۔۔۔ ؟؟؟
" حسن پتھر ہے ، ہوا ہے ، آب ہے کیا ؟ "

عباد اللہ — جون 20، 2016 2:36 شام
نہیں دوست میرا خیال ہے (جو غلط بھی ہو سکتا ہے) کہ پتھر فعلن کے وزن پر ہے یعنی 22 اور یہ میرے نام کے ساتھ سر کا لاحقہ کچھ عجیب نہیں لگتا؟
اوہ مطلب سابقہ!
عباد اللہ — جون 20، 2016 2:37 شام
اگر یوں کر دیں
کیا ہوا ہے، آب ہے یا پھر پتھر؟
وزن گڑ بڑ ہے بھیا اساتذہ بہتر بتا سکتے ہیں
صفی حیدر — جون 20، 2016 2:38 شام
اگر یوں کر دیں
کیا ہوا ہے، آب ہے یا پھر پتھر؟
سر تابش صدیقی فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن کے وزن پر یہ مصرعہ نہیں آتا ۔۔۔ اس کو اگر اسطرح کر دیں
" حسن پتھر ہے ، ہوا ہے ، آب ہے کیا ؟ "​
محمد تابش صدیقی — جون 20، 2016 2:39 شام
وزن گڑ بڑ ہے بھیا اساتذہ بہتر بتا سکتے ہیں
اور میں نالائق تو شاگرد کہلانے کے بھی لائق نہیں. :)
عباد اللہ — جون 20، 2016 2:40 شام
اور میں نالائق تو شاگرد کہلانے کے بھی لائق نہیں. :)
اور ہم "ننگِ محفل" آپ کے قدموں کی خاک کہلانے کے بھی لائق نہیں
سلامتی ہو
صفی حیدر — جون 20، 2016 2:43 شام
نہیں دوست میرا خیال ہے (جو غلط بھی ہو سکتا ہے) کہ پتھر فعلن کے وزن پر ہے یعنی 22 اور یہ میرے نام کے ساتھ سر کا لاحقہ کچھ عجیب نہیں لگتا؟
اوہ مطلب سابقہ!
آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے اس لیے سر کہتا ہوں ۔۔۔۔ عروض انجن کا مطابق " پتھر " کا وزن فعلن اور فَعَل دونوں ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔ باقی اساتذہ کی رائے کا انتظار ہے۔۔۔ میرے لیے آپ کا شمار بھی اساتذہ میں ہوتا ہے ۔۔۔
صفی حیدر — جون 20، 2016 2:47 شام
اور میں نالائق تو شاگرد کہلانے کے بھی لائق نہیں. :)
سر آپ کی ہنر مندی کے تو ہم دل سے قائل ہیں آپ نے غالب اقبال اور میر کا مکمل کلام ایپس کی شکل میں عطا کیا ۔۔۔
محمد تابش صدیقی — جون 20، 2016 2:53 شام
اور ہم "ننگِ محفل" آپ کے قدموں کی خاک کہلانے کے بھی لائق نہیں
سلامتی ہو
ان الفاظ کو سنبھال کر رکھیے. کسی درست جگہ استعمال کیجیے گا. :)
اور میری بات عاجزی کا نمونہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے. :)
محمد تابش صدیقی — جون 20، 2016 2:54 شام
سر آپ کی ہنر مندی کے تو ہم دل سے قائل ہیں آپ نے غالب اقبال اور میر کا مکمل کلام ایپس کی شکل میں عطا کیا ۔۔۔
ادب سے محبت کو کسی رنگ میں تو ظاہر ہونا ہی تھا. :)
عباد اللہ — جون 20، 2016 2:59 شام
ان الفاظ کو سنبھال کر رکھیے. کسی درست جگہ استعمال کیجیے گا. :)
اور میری بات عاجزی کا نمونہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے. :)
نہیں بھیا آپ نے جو غالب کا کلام ایپ کی شکل میں فراہم کیا ہے یہ سب اسی باعث ہے بہت دعائیں
صفی حیدر — جون 20، 2016 3:03 شام
ادب سے محبت کو کسی رنگ میں تو ظاہر ہونا ہی تھا. :)
آپ کی ادب سے محبت ایسے خوبصورت رنگ میں ظاہر ہوئی کہ آپ کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے اللہ پاک سلامت رکھے ۔۔۔۔
الف عین — جون 22، 2016 6:26 صبح
پتھر کا وزن فعلن ہی درست ہے۔ بغیر شد کے کبھی استعمال نہیں ہوتا۔ اس مصرع کو دالگ الگ و مصرعوں میں توڑ دیں تو روانی کی بہتر صورت نکل سکتی ہے۔
اور یہ دو مصرعے کے بھرتی کے محسوس ہوتے ہیں۔
ہم نشیں میرے سنو تم
راز یہ کھولوں بتا ئوں حسن کیا ہے؟
سید عمران — جون 22، 2016 6:50 صبح
نہیں دوست میرا خیال ہے (جو غلط بھی ہو سکتا ہے) کہ پتھر فعلن کے وزن پر ہے یعنی 22 اور یہ میرے نام کے ساتھ سر کا لاحقہ کچھ عجیب نہیں لگتا؟
اوہ مطلب سابقہ!
چلیے ۔۔۔:)پیر کا لگادیتے ہیں۔
عباد اللہ — جون 22، 2016 8:00 صبح
چلیے ۔۔۔:)پیر کا لگادیتے ہیں۔
جو مزاجِ یار میں آئے
صفی حیدر — جون 22، 2016 11:02 صبح
پتھر کا وزن فعلن ہی درست ہے۔ بغیر شد کے کبھی استعمال نہیں ہوتا۔ اس مصرع کو دالگ الگ و مصرعوں میں توڑ دیں تو روانی کی بہتر صورت نکل سکتی ہے۔
اور یہ دو مصرعے کے بھرتی کے محسوس ہوتے ہیں۔
ہم نشیں میرے سنو تم
راز یہ کھولوں بتا ئوں حسن کیا ہے؟
بہت نوازش سر ۔۔۔۔ "پتھر" کے بارے میں میرا ابہام دور کر دیا ۔۔۔۔۔۔باقی دو مصرعے بدلنے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔۔
سید عمران — جون 22، 2016 11:07 صبح
بہت نوازش سر ۔۔۔۔ "پتھر" کے بارے میں میرا ابہام دور کر دیا ۔۔۔۔۔۔باقی دو مصرعے بدلنے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔۔
شکر ہے پتھر سے تو جان چھوٹی... :grin::grin::grin:
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D8%B3%D9%86-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DB%81%DB%92-%D8%9F-%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.90533/