حفاظت۔۔۔۔۔برائے اصلاح

شیرازخان — دسمبر 16، 2013 7:28 شام
یقیں سے نہ ہو گی گماں کی حفاظت
مگر لازمی ہے زباں کی حفاظت
ہوا کی نظر میں پڑا ریت پر تھا
ہمیں سونپ دی تھی نشاں کی حفاظت
یہ کون و مکاں ہی مرے لُٹ گئے ہیں
فقط کی ہے کون و مکاں کی حفاظت
یہاں کی ہوا بھی گلہ گھونٹتی ہے
یہاں سب سے مشکل ہے جاں کی حفاظت
ہزاروں کے سینوں میں بھی رکھ دیا ہے
زمے لی ہے جس نے قرآں کی حفاظت
جہاں دوسرا بھی کہیں کھو نہ دیں ہم
نہ محفوط یہاں ہیں نہ واں کی حفاظت
ابھی سوچتے ہیں بلندی پہ آکر
پروں کی کریں یا اُڑاں کی حفاظت
وفا کے محافط ہیں شیراز اب تک
کہاں پر کھڑے ہیں کہاں کی حفاظت
الف عین
الف عین — دسمبر 17، 2013 3:03 صبح
ہوا کی نظر میں پڑا ریت پر تھا
ہمیں سونپ دی تھی نشاں کی حفاظت
÷÷واضح نہیں۔ روانی بھی پہلے مصرع کی بہتر کرو۔
یہ کون و مکاں ہی مرے لُٹ گئے ہیں
فقط کی ہے کون و مکاں کی حفاظت
÷÷مفہوم؟ مطلب حفاظت ہی درست نہیں ہوئی۔
ہزاروں کے سینوں میں بھی رکھ دیا ہے
زمے لی ہے جس نے قرآں کی حفاظت
÷÷ذمے کا تلفظ، اس میں تشدید ہے۔ پہلے مصرع میں ”بھیُ بھی زائد ہے۔
جہاں دوسرا بھی کہیں کھو نہ دیں ہم
نہ محفوط یہاں ہیں نہ واں کی حفاظت
÷÷دوسرا مصرع بدل دو۔ یہاں بھی ’یاں‘ آتا ہے، لیکن مطلب ظاہر نہیں ہوتا جو کہنا چاہ رہے ہو۔
ابھی سوچتے ہیں بلندی پہ آکر
پروں کی کریں یا اُڑاں کی حفاظت
÷÷اڑان ہندی لفظ ہے، رفارسی کی طرح اسے اڑاں نہیں کیا جا سکتا۔
وفا کے محافط ہیں شیراز اب تک
کہاں پر کھڑے ہیں کہاں کی حفاظت
÷÷اس میں بھی بات مکمل نہیں ہوئی۔ کہاں کر رہے ہیں کہاں۔۔ ست شاید کچھ واضح ہو۔
خالد محمود چوہدری — دسمبر 17، 2013 3:19 صبح
ان گنت کے سینوں میں رکھ دیا ہے
ذمہ لیا جس نے قرآں کی حفاظت
میں نہ شاعر ہوں نہ شاعری کی سمجھ ہے جیسے اچھا لگا لکھ دیا
عابی مکھنوی — دسمبر 17، 2013 6:03 صبح
اصلاح اساتذہ کا کام ہے سو وہ کر رہے ہیں۔
یہ کون و مکاں ہی مرے لُٹ گئے ہیں
فقط کی ہے کون و مکاں کی حفاظت
پوری غزل میں جمع کا صیغہ استعما ل ہوا ہے لہذا یہاں بھی مِر ے کی جگہ ہمارے کا تصور جچتا ہے۔
ابھی سوچتے ہیں بلندی پہ آکر
پروں کی کریں یا اُڑاں کی حفاظت
وفا کے محافط ہیں شیراز اب تک
کہاں پر کھڑے ہیں کہاں کی حفاظت
شاندار اشعار ہیں۔باقی تکنیکی مسائل الف عین صاحب بہتر جانتے ہیں۔
شیرازخان — دسمبر 17، 2013 7:37 شام
اصلاح اساتذہ کا کام ہے سو وہ کر رہے ہیں۔
یہ کون و مکاں ہی مرے لُٹ گئے ہیں
فقط کی ہے کون و مکاں کی حفاظت
پوری غزل میں جمع کا صیغہ استعما ل ہوا ہے لہذا یہاں بھی مِر ے کی جگہ ہمارے کا تصور جچتا ہے۔
ابھی سوچتے ہیں بلندی پہ آکر
پروں کی کریں یا اُڑاں کی حفاظت
وفا کے محافط ہیں شیراز اب تک
کہاں پر کھڑے ہیں کہاں کی حفاظت
شاندار اشعار ہیں۔باقی تکنیکی مسائل الف عین صاحب بہتر جانتے ہیں۔
جناب @ عابی مکھنوی صاحب آپ وہی ہیں جن کی اکثر "ہماری زباں اردو"پیج پر شاعری شائع ہوتی رہتی ہے؟؟؟؟؟
شیرازخان — دسمبر 17، 2013 8:11 شام
ہوا کی نظر میں پڑا ریت پر تھا
ہمیں سونپ دی تھی نشاں کی حفاظت
÷÷واضح نہیں۔ روانی بھی پہلے مصرع کی بہتر کرو۔
یہ کون و مکاں ہی مرے لُٹ گئے ہیں
فقط کی ہے کون و مکاں کی حفاظت
÷÷مفہوم؟ مطلب حفاظت ہی درست نہیں ہوئی۔
ہزاروں کے سینوں میں بھی رکھ دیا ہے
زمے لی ہے جس نے قرآں کی حفاظت
÷÷ذمے کا تلفظ، اس میں تشدید ہے۔ پہلے مصرع میں ”بھیُ بھی زائد ہے۔
جہاں دوسرا بھی کہیں کھو نہ دیں ہم
نہ محفوط یہاں ہیں نہ واں کی حفاظت
÷÷دوسرا مصرع بدل دو۔ یہاں بھی ’یاں‘ آتا ہے، لیکن مطلب ظاہر نہیں ہوتا جو کہنا چاہ رہے ہو۔
ابھی سوچتے ہیں بلندی پہ آکر
پروں کی کریں یا اُڑاں کی حفاظت
÷÷اڑان ہندی لفظ ہے، رفارسی کی طرح اسے اڑاں نہیں کیا جا سکتا۔
وفا کے محافط ہیں شیراز اب تک
کہاں پر کھڑے ہیں کہاں کی حفاظت
÷÷اس میں بھی بات مکمل نہیں ہوئی۔ کہاں کر رہے ہیں کہاں۔۔ ست شاید کچھ واضح ہو۔
ہوا ؤں کی زد میں پڑا ریت پر تھا
ہمیں سونپ دی جس نشاں کی حفاظت
یہ کون و مکاں ہی ہمارے لُٹے کیوں
فقط کی تھی کون و مکاں کی حفاظت
ہزاروں کے سینوں میں رکھا جس نے
اُسی کے ہےذمّے قرآں کی حفاظت
یہاں آخرت بھی کہیں کھو نہ دیں ہم
نہ محفوط یاں ہیں نہ واں کی حفاظت
وفا کے محافط ہیں شیراز اب تک
کہاں کر رہے ہیں کہاں کی حفاظت
الف عین — دسمبر 18، 2013 3:04 صبح
پہلے دونوں اشعار کے لئے میری بات اب بھی درست ثابت ہوتی ہے۔ باقی اشعار درست ہو گئے ہیں
عابی مکھنوی — دسمبر 18، 2013 6:08 صبح
جی شیراز وہی ہوں ۔۔۔:)
شیرازخان — دسمبر 18، 2013 11:22 صبح
جی شیراز وہی ہوں ۔۔۔ :)
واہ جناب کیا کہنے ہیں آپ۔۔۔۔بہت عمدہ لکھتے ہیں آپ۔۔۔میں تو فین ہوںآپ کا۔۔۔
شیرازخان — دسمبر 20، 2013 7:42 شام
پہلے دونوں اشعار کے لئے میری بات اب بھی درست ثابت ہوتی ہے۔ باقی اشعار درست ہو گئے ہیں
یوں امن و اماں ہے یہاں شہر میں اک
کہ بھتہ کرے ہے دُکان کی حفاظت
الجھتی ہوا میں پڑا ریت پر ہے
کرے کون ایسے نشاں کی حفاظت
یہ کون و مکاں ہی ہمارے لُٹے کیوں
اگر کی تھی کون و مکاں کی حفاظت
استاد محترم مطلع پر بھی رہنمائی فرما دیں بہت نوازش۔۔
یقیں کیا کرے گا گماں کی حفاظت
فقط لازمی ہے زباں کی حفاظت
الف عین — دسمبر 21، 2013 6:51 صبح
مطلع بھی بدلا جا سکتا ہے کہ کچھ دو لخت ہے۔
بھتہ سے مراد۔۔ یہ نیا شعر ہے غالباً جو سمجھ میں ہی نہیں آیا۔
’پرا ریت پر ہے‘ رواں نہیں۔ اس کے علاوہ ریت ہی کیوں، خاک بھی تو ممکن ہے۔
ہواؤں کی زد پر زمیں بوس ہے یہ
جو آندھی چلی اور زمیں پر گرا ہے
جو آندھی چلی، خاک میں مل گیا ہے
وغیرہ سب کچھ بہتر مصرعے لگ رہے ہیں مجھے۔
کون و مکاں والی بات بھی سمجھ میں نہیں آئی

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D9%81%D8%A7%D8%B8%D8%AA%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%DB%94%D8%A8%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%A7%D8%B5%D9%84%D8%A7%D8%AD.70200/