حمد

مریم افتخار — فروری 17، 2016 9:00 صبح
جب مدد کوتُجھے پُکارا ہے
بندہ تیرا کبھی نہ ہارا ہے
عُمر گُزری مری گُناہوں میں
میرا ماضی بَنا خسارہ ہے
نیل بہتا ہماری آنکھوں سے
اور یہ سُود و زیاں ہمارا ہے
میری رگ رگ ہے ورد میں مصروف
دِل مِرا , تیرا استعارہ ہے
طُور سے دُوری ہے بہت یا رَب!
مُجھ کو مطلُوب اِک نظارہ ہے
دل تمنا سے میرا عاری ہے
اس میں مریم چھپا اشارہ ہے
محمد تابش صدیقی — فروری 17، 2016 9:06 صبح
سبحان اللہ، بہت خوبصورت۔
اصلاح کا کام تو اساتذہ ہی جانیں۔ خوبصورت کلام ہے۔
طُور سے دُوری ہے بہت یا رَب!
مُجھ کو مطلُوب اِک نظارہ ہے
دِل تمنّا سے خالی ہے مریم
پِھر یہ آخر کیا اِشارہ ہے؟
مریم افتخار — فروری 17، 2016 9:08 صبح
سبحان اللہ، بہت خوبصورت۔
اصلاح کا کام تو اساتذہ ہی جانیں۔ خوبصورت کلام ہے۔
سراپا سپاس گُزار ہُوں بھیا !!!!
حمیرا عدنان — فروری 17، 2016 9:28 صبح
ماشاءاللہ
سبحان اللہ مریم بہت خوبصورت حمد ہے
مریم افتخار — فروری 17، 2016 9:35 صبح
ماشاءاللہ
سبحان اللہ مریم بہت خوبصورت نظم ہے
بہت شکریہ بہنا۔۔۔۔۔!
باباجی — فروری 17، 2016 9:39 صبح
سبحان اللہ ۔۔ حمد مالک ارض و سما
میری رگ رگ ہے ورد میں مصروف​
دِل مِرا , تیرا استعارہ ہے​

طُور سے دُوری ہے بہت یا رَب!​
مُجھ کو مطلُوب اِک نظارہ ہے​

دِل تمنّا سے خالی ہے مریم​
پِھر یہ آخر کیا اِشارہ ہے؟​
نایاب — فروری 17، 2016 9:43 صبح
خیال اچھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طُور سے دُوری ہے بہت یا رَب!
مُجھ کو مطلُوب اِک نظارہ ہے
دِل تمنّا سے خالی ہے مریم
پِھر یہ آخر کیا اِشارہ ہے؟
بہت دعائیں
مریم افتخار — فروری 17، 2016 9:49 صبح
سبحان اللہ ۔۔ حمد مالک ارض و سما
میری رگ رگ ہے ورد میں مصروف
دِل مِرا , تیرا استعارہ ہے​

طُور سے دُوری ہے بہت یا رَب!
مُجھ کو مطلُوب اِک نظارہ ہے​

دِل تمنّا سے خالی ہے مریم
پِھر یہ آخر کیا اِشارہ ہے؟​
جزاک اللہ بابا جی
مریم افتخار — فروری 17، 2016 9:50 صبح
خیال اچھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
آپکا یہ خیال اچھا ہے انکل!
نور وجدان — فروری 17، 2016 3:06 شام
نیل بہتا ہماری آنکھوں سے
اور یہ سُود و زیاں ہمارا ہے
میری رگ رگ ہے ورد میں مصروف
دِل مِرا , تیرا استعارہ ہے
طُور سے دُوری ہے بہت یا رَب!
مُجھ کو مطلُوب اِک نظارہ ہے
دل تمنا سے میرا عاری ہے
اس میں مریم چھپا اشارہ ہے

بہت خوب خیال ہے ۔۔۔ ماشاء اللہ ا۔۔ اللہ تعالیٰ کرے زور ء قلم اور زیادہ اور ایسی شاعری سے ہم لطف پاسکیں ۔۔
یوسف سلطان — فروری 17، 2016 3:13 شام
جب مدد کوتُجھے پُکارا ہے
بندہ تیرا کبھی نہ ہارا ہے
عُمر گُزری مری گُناہوں میں
میرا ماضی بَنا خسارہ ہے
نیل بہتا ہماری آنکھوں سے
اور یہ سُود و زیاں ہمارا ہے
میری رگ رگ ہے ورد میں مصروف
دِل مِرا , تیرا استعارہ ہے
طُور سے دُوری ہے بہت یا رَب!
مُجھ کو مطلُوب اِک نظارہ ہے
دل تمنا سے میرا عاری ہے
اس میں مریم چھپا اشارہ ہے
ماشاء الله بہت خوب !
مریم افتخار — فروری 17، 2016 3:23 شام
بہت خوب خیال ہے ۔۔۔ ماشاء اللہ ا۔۔ اللہ تعالیٰ کرے زور ء قلم اور زیادہ اور ایسی شاعری سے ہم لطف پاسکیں ۔۔
بہت شکریہ بہنا۔۔۔۔۔
آمین!
مریم افتخار — فروری 17، 2016 3:23 شام
ماشاء الله بہت خوب !
بہت شکریہ بھائی!
سید اسد معروف — فروری 17، 2016 7:37 شام
بہت خوب۔
الف عین — فروری 18، 2016 7:03 صبح
نہیں مریم، بات نہیں بن رہی۔ اکثر اشعار دو لخت ہیں، ایک ایک مصرع میں بات مکمل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دونوں کا آپس میں تعلق سمجھ میں نہیں آتا۔ ان اشعار میں دیکھو
نیل بہتا ہماری آنکھوں سے
اور یہ سُود و زیاں ہمارا ہے
میری رگ رگ ہے ورد میں مصروف
دِل مِرا , تیرا استعارہ ہے
دِل تمنّا سے خالی ہے مریم
پِھر یہ آخر کیا اِشارہ ہے؟​
۔۔۔۔۔
بندہ تیرا کبھی نہ ہارا ہے
کو
تیرا
تیرا بندہ کبھی نہ ہارا ہے
نہیں کیا جا سکتا؟
نہیں کیا جا سکتا؟
طُور سے دُوری ہے بہت یا رَب!
مُجھ کو مطلُوب اِک نظارہ ہے
۔۔بہتر ہو کہ پہلا یوں کہو
طور سے دور ہوں بہت یا رب
الف عین — فروری 18، 2016 7:04 صبح
مقطع میں ’کیا‘ سوالیہ ہے یا ’کِیا‘ کرنے کا ماضی کا صیغہ؟ وزن میں تو ’کِ یا‘ آتا ہے۔
مریم افتخار — فروری 18، 2016 8:25 صبح
مقطع میں ’کیا‘ سوالیہ ہے یا ’کِیا‘ کرنے کا ماضی کا صیغہ؟ وزن میں تو ’کِ یا‘ آتا ہے۔
دل تمنا سے میرا عاری ہے
اس میں مریم چُھپا اِشارہ ہے
بحر میں لانے کے بعد مقطع یہ ہے استادِ محترم!
مریم افتخار — فروری 18، 2016 8:30 صبح
نہیں مریم، بات نہیں بن رہی۔ اکثر اشعار دو لخت ہیں، ایک ایک مصرع میں بات مکمل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ دونوں کا آپس میں تعلق سمجھ میں نہیں آتا۔ ان اشعار میں دیکھو
نیل بہتا ہماری آنکھوں سے
اور یہ سُود و زیاں ہمارا ہے
میری رگ رگ ہے ورد میں مصروف
دِل مِرا , تیرا استعارہ ہے
دِل تمنّا سے خالی ہے مریم
پِھر یہ آخر کیا اِشارہ ہے؟​
۔۔۔۔۔
بندہ تیرا کبھی نہ ہارا ہے
کو
تیرا
تیرا بندہ کبھی نہ ہارا ہے
نہیں کیا جا سکتا؟
نہیں کیا جا سکتا؟
طُور سے دُوری ہے بہت یا رَب!
مُجھ کو مطلُوب اِک نظارہ ہے
۔۔بہتر ہو کہ پہلا یوں کہو
طور سے دور ہوں بہت یا رب
مطلع کے پہلے مصرعہ کی بھی تصحیح فرما دیجیے۔۔۔!
الف عین — فروری 19، 2016 7:18 صبح
مطلع کے پہلے مصرعہ کی بھی تصیح فرما دیجئیے۔۔۔!
مطلع تو درست ہے، چلے گا۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D9%85%D8%AF.88043/