حمد مثنوی کے انداز میں ایک کوشش

امان زرگر — ستمبر 17، 2018 1:52 شام
۔۔۔
فعولن فعولن فعولن فعو کے وزن پر مثنوی کے انداز میں حمد۔
افق سے جو مژدہ سحر کا ملا
مرے گھر کا آنگن بھی روشن ہوا
ادا سے پہن کر نئے پیرہن
سجائے گل و لالہ نے سارے بن
لہکتی پھرے بادِ صبحِ چمن
جو مہکائے پل بھر میں کوہ و دمن
دمک شبنمی قطروں کی گھاس میں
چمک یہ گہر میں نہ الماس میں
یہ سرمست بھنورے پھریں جا بجا
کریں طوفِ گل شوق سے برملا
بڑا خوبصورت یہ گلزار ہے
کسی دستِ قدرت کا شہ کار ہے
جو کرنوں کے جھرمٹ کو دے راستہ
جو رنگِ شفق سے کرے آشنا
کمالاتِ عالی میں اک نابغہ
وہ صناعِ عالم وہ رب العلٰی
یہ سورج یہ کرنیں یہ بادِ صبا
کریں دم بدم جس کی حمد و ثنا
امان زرگر
امان زرگر — ستمبر 17، 2018 1:56 شام
سر الف عین
سر محمد ریحان قریشی
سر محمد تابش صدیقی
محمد خرم یاسین — ستمبر 17، 2018 3:05 شام
واہ واہ سبحان اللہ۔ کیا کہنے۔ مجھے امیجری بہت پسند آئی۔
محمد تابش صدیقی — ستمبر 17، 2018 3:21 شام
سبحان اللہ
جو کرنوں کے جھرمت کو دے راستہ
ٹائپو درست کر لیں۔
یوں لگ رہا ہے کہ ابھی اختتام نہیں آیا۔ اور شعر باقی ہیں۔
امان زرگر — ستمبر 17، 2018 4:13 شام
سبحان اللہ
ٹائپو درست کر لیں۔
یوں لگ رہا ہے کہ ابھی اختتام نہیں آیا۔ اور شعر باقی ہیں۔
جی کوشش کرتا رہوں گا اساتذہ کی رہنمائی میں اس کو ساتھ لے کر چلنے کی تاکہ مثنوی لکھنے کی مشق ہو سکے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D9%85%D8%AB%D9%86%D9%88%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%A7%D8%B2-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%DA%A9%D9%88%D8%B4%D8%B4.103274/