خالی آنکھیں اور ویران چہرے ہیں

ظفری — فروری 26، 2013 4:08 صبح
خالی آنکھیں اور ویران چہرے ہیں​
اس شہر کے بس یہی وطیرے ہیں​
طغیانی بہت ، بادل بھی گہرے ہیں​
پیار کے رستے بھی پتھریلے ہیں​
منزل کبھی ہمیں نصیب نہ ہوئی​
ہر قدم بس رستے ہی رستے ہیں​
میں بھی رویا ہوں تیری جدائی میں​
آنسو ترے بھی کاجل میں پھیلے ہیں​
خوشی ہر دم روٹھی نہیں رہتی ظفر​
گھر میں ترے آسیب کے ڈیرے ہیں​
الف عین — فروری 26، 2013 4:38 صبح
محمد خلیل الرحمٰن
نایاب — فروری 26، 2013 4:51 صبح
واہہہہہہہ
بہت خوب خیال ۔۔۔۔۔۔۔
منزل کبھی ہمیں نصیب نہ ہوئی
ہر قدم بس رستے ہی رستے ہیں
ظفری — فروری 26، 2013 5:09 صبح
استادِ محترم تشریف آوری اور پسندیدگی کے لیئے آپ کا شکریہ بجا لاتا ہوں ۔
ظفری — فروری 26، 2013 5:10 صبح
واہہہہہہہ
بہت خوب خیال ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
منزل کبھی ہمیں نصیب نہ ہوئی
ہر قدم بس رستے ہی رستے ہیں
شکریہ نایاب بھائی ۔۔۔ ہمیشہ کی طرح آپ کی پذیرائی کا دل سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D8%A2%D9%86%DA%A9%DA%BE%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86-%DA%86%DB%81%D8%B1%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA.60369/