خاک پر پھول تو افلاک پہ تارے دیکھوں ۔

ایم اے راجا — فروری 7، 2016 10:23 صبح
( تازہ غزل )
خاک پر پهول تو افلاک پہ تارے دیکهوں
ہر طرف تیری محبت کے نظارے دیکهوں
یہ مری ماں کی دعا ہے کہ لگوں ڈوبنے جب
چل کے میں اپنی طرف آتے کنارے دیکهوں
تجهہ سے مل جائے کبهی میرا مقدر شاید
روز اخبار میں قسمت کے ستارے دیکهوں
کسی آسیب کا سایہ ہے ترے شہر پہ کیا ؟
لوگ سارے ہی یہاں خوف کے مارے دیکهوں
دشت_ برباد میں بهی اترے گلابی موسم
سر ہلاتے ہوئے پهولوں کے اشارے دیکهوں
ایک مدت سے مچلتی ہے یہ حسرت دل میں
تیری محفل میں ترے شوخ نظارے دیکهوں
الف عین — فروری 7، 2016 5:04 شام
اچھی غزل ہے۔ تفصیل بعد میں
ایم اے راجا — فروری 8، 2016 6:50 صبح
اچھی غزل ہے۔ تفصیل بعد میں
انتظار رہے گا سر، سلامتی ہو
سید اسد معروف — فروری 8، 2016 6:43 شام
بہت خوب راجا صاحب۔
محمد تابش صدیقی — فروری 8، 2016 6:57 شام
بہت خوب راجا بھائی.
یہ مری ماں کی دعا ہے کہ لگوں ڈوبنے جب
چل کے میں اپنی طرف آتے کنارے دیکهوں
کاشف اختر — فروری 8، 2016 8:24 شام
بہت عمدہ غزل ہے ۔۔۔۔
ایم اے راجا — فروری 9، 2016 8:17 صبح
سید اسد معروف ، محمد تابش صدیقی اور کاشف اختر صاحب اس محبت کے لیئے ممنون ہوں کہ آپ نے حوصلہ افزائی فرمائی۔
ایم اے راجا — فروری 9، 2016 8:18 صبح
محمد وارث صاحب پسندیدہ بٹن دبانے کے لیئے ممنون ہوں
نایاب — فروری 9، 2016 8:23 صبح
واہہہہہہہہہ
بہت خوب
ایک مدت سے مچلتی ہے یہ حسرت دل میں​
تیری محفل میں ترے شوخ نظارے دیکهوں​
بہت دعائیں
ایم اے راجا — فروری 9، 2016 8:26 صبح
بہت شکریہ نایاب صاحب، سلامتی ہو
سید تراب کاظمی — فروری 9، 2016 8:48 صبح
یہ مری ماں کی دعا ہے کہ لگوں ڈوبنے جب
چل کے میں اپنی طرف آتے کنارے دیکهوں
بہت خوب ۔۔
الف عین — فروری 13، 2016 5:58 صبح
حض ’ترے ہیں‘ کہو تو؟ے۔ اب تفصیل سے
یہ مری ماں کی دعا ہے کہ لگوں ڈوبنے جب
چل کے میں اپنی طرف آتے کنارے دیکهوں
الفاظ کی نشست یا الفاظ بدل کر بہتری پیدا کی جا سکتی ہے۔
تجهہ سے مل جائے کبهی میرا مقدر شاید
روز اخبار میں قسمت کے ستارے دیکهوں
۔۔ اخباروں میں قسمت کا حال بتایا جاتا ہے، ستارے ہی نہیں دکھاے جاتے، بہر حال یوں بھی گوارا ہے۔
کسی آسیب کا سایہ ہے ترے شہر پہ کیا ؟
لوگ سارے ہی یہاں خوف کے مارے دیکهوں
÷÷ قافیئے کا استعمال عجیب ہے۔ لوگ خوف کے مارے ہیں‘ کی بجائے خیال یوں بھی جاتا ہے کہ میں خوف کے مارے دیکھ رہا ہوں۔ قافئے کی وجہ سے نشست بھی نہیں بدلی جا سکتی۔
دشت_ برباد میں بهی اترے گلابی موسم
سر ہلاتے ہوئے پهولوں کے اشارے دیکهوں
۔۔’بھی اترے‘ کی جگہ اگر محض ’اترے ہیں‘ کہو تو!!
ایک مدت سے مچلتی ہے یہ حسرت دل میں
تیری محفل میں ترے شوخ نظارے دیکهوں
درست

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AE%D8%A7%DA%A9-%D9%BE%D8%B1-%D9%BE%DA%BE%D9%88%D9%84-%D8%AA%D9%88-%D8%A7%D9%81%D9%84%D8%A7%DA%A9-%D9%BE%DB%81-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88%DA%BA-%DB%94.87777/